سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

لباس کے آداب

14 احادیث

رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - اصْطَنَعَ خَاتَمًا من ذهب، فكان يجعل فَصَّهُ في باطن كَفِّهِ إذا لَبِسَهُ، فصنع الناس كذلك، ثم إنه جلس على المنبر فَنَزَعَهُ فقال: إني كنت أَلْبَسُ هذا الخَاتَمَ ، وأجعل فَصَّهُ من داخل، فرمى به ثم قال: والله لا أَلْبَسُهُ أبدا فَنَبَذَ الناس خَواتِيمَهُمْ». وفي لفظ «جعله في يده اليمنى».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی، آپ ﷺ اسے پہنتے وقت اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کے اندرونی طرف کرلیا کرتے تھے۔ چنانچہ لوگوں نے بھی اسی طرح کی انگوٹھیاں بنوالیں، پھر (ایک دن) آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اسے اتار دیا اور فرمایا: میں اس انگوٹھی کو پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندرونی طرف رکھتا تھا، پھر آپ نے اسے پھینک دیا، اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس کو کبھی نہیں پہنوں گا۔ پس لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: آپ ﷺ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پہنا کرتے تھے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے حکم دیا کہ آپ کے لئے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی جائے۔ آپ ﷺ انگوٹھی کو پہنتے وقت اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کے اندرونی طرف کر لیتے، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی میں ویسا ہی کیا جیسا آپ ﷺ نے کیا۔ پھر ایک عرصہ کے بعد نبی ﷺ منبر پر بیٹھے تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کے اندرونی طرف رکھتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے اتار پھینکا اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں اب اسے کبھی نہیں پہنوں گا، اور یہ اس کی حرمت نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے، چنانچہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی میں اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔

حوالہ

تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423 هـ. الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، نشر: مطبعة السعادة، الطبعة: الثانية 1392هـ 1972م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”نہ ریشم و دیباج پہنو، نہ سونے اور چاندی کے برتن میں کچھ پیو اور نہ ہی ان سے بنی پلیٹوں میں کچھ کھاؤ۔ یہ دنیا میں ان (کفار) کے لیے اور آخرت میں ہمارے لیے ہیں“۔

عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ حُذَيْفَةَ، فَاسْتَسْقَى فَسَقَاهُ مَجُوسِيٌّ، فَلَمَّا وَضَعَ القَدَحَ فِي يَدِهِ رَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: لَوْلاَ أَنِّي نَهَيْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلاَ مَرَّتَيْنِ -كَأَنَّهُ يَقُولُ: لَمْ أَفْعَلْ هَذَا-، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لاَ تَلْبَسُوا الحَرِيرَ وَلاَ الدِّيبَاجَ، وَلاَ تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ، وَلاَ تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الآخِرَةِ».
عبدالرحمن بن ابو لیلی سے روایت ہے کہ وہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے کہ اسی دوران انھوں نے پینے کے لیے پانی مانگا، تو ایک مجوسی نے ان کو پانی پیش کیا۔ جب اس نے پانی کا پیالہ ان کے ہاتھ میں رکھا، تو انھوں نے اسے اس سے مار دیا اور فرمایا : اگر میں اسے ایک دو بار اس سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ایسا نہ کرتا - گویا وہ یہ کہنا چاہ رہے ہوں کہ: میں نے ایسا یوں ہی نہیں کیا - ، لیکن میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”نہ ریشم و دیباج پہنو، نہ سونے اور چاندی کے برتن میں کچھ پیو اور نہ ہی ان سے بنی پلیٹوں میں کچھ کھاؤ۔ یہ دنیا میں ان (کفار) کے لیے اور آخرت میں ہمارے لیے ہیں“۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مردوں کو ہر طرح کے ریشمی کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے۔ جب کہ مردوں اور عورتوں دونوں کو سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانے اور پینے سے منع کیا ہے۔ ساتھ ہی بتایا کہ یہ چيزیں قیامت کے دن ایمان والوں کو بطور خاص نصیب ہوں گی۔ کیوں کہ وہ ان سے دنیا میں اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بچتے رہے ہيں۔ جب کے اس کے برخلاف کافروں کو آخرت میں یہ چیزیں نصیب نہيں ہوں گی۔ کیوں کہ وہ دنیوی زندگی میں اللہ کے حکم کو بالائے طاق رکھ کر ان چیزوں سے لطف اندوز ہو چکے ہیں۔

فوائد
  1. مردوں پر ریشم اور دیباج کے کپڑے حرام ہيں اور انھیں پہننے والوں کو بڑی سخت وعید سنائی گئی ہے۔
  2. عورتوں کے لیے ریشم اور دیباج کے کپڑے حلال ہيں۔
  3. سونے اور چاندی کی پلیٹوں اور برتنوں میں کھانا اور پینا مردوں اور عورتوں دونوں پر حرام ہے۔
  4. یہاں حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بڑے سخت رد عمل کا اظہار کیا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ انھوں نے اسے ایک سے زیادہ مرتبہ سونے اور چاندی کے برتن کے استعمال سے منع کیا تھا، لیکن اس نے اپنی روش نہيں بدلی۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 77) (5426). صحيح مسلم (3/ 1638) (2067). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله البسام (ص729).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جس نے دنیا میں ریشمی لباس پہنا، وہ آخرت میں نہيں پہنے گا۔

عَنْ عُمَرَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَبِسَ الحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الآخِرَةِ».
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "جس نے دنیا میں ریشمی لباس پہنا، وہ آخرت میں نہيں پہنے گا۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس مرد نے دنیا میں ریشمی لباس پہن لیا اور توبہ کیے بغیر مر گیا، وہ بطور سزا آخرت میں اسے پہننے سے محروم رہے گا۔

فوائد
  1. ریشم سے مراد خالص قدرتی ریشم ہے۔ مصنوعی ریشم اس حدیث میں شامل نہيں ہے۔
  2. مردوں پر ریشمی لباس حرام ہے۔
  3. ریشمی کپڑا پہننے کی ممانعت کے اندر اسے بچھانا بھی شامل ہے۔
  4. مردوں کے لیے کپڑے میں کچھ ریشم کے استعمال کی اجازت ہے، جس کی چوڑائی دو سے چار انگلیوں سے زیادہ نہ ہو اور کپڑے میں بطور کنارا اور نقش ونگار استعمال ہوا ہو۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 150) (5834). صحيح مسلم (3/ 1641) (2069). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (4/ 207).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے سوائے دو یا تین یا چار انگشت کے برابر۔

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ الله صلى الله عليه وسلم «نهى عن لُبُوسِ الحَرِيرِ إلا هكذا، ورَفَعَ لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أُصْبُعَيْهِ: السَّبَّابَةَ، والوُسْطَى». ولمسلم «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لُبْس ِالحَرِيرِ إلا مَوْضِعَ أُصْبُعَيْنِ، أو ثلاثٍ، أو أربعٍ».
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ریشم پہننے سے منع فرمایا سوائے اتنی مقدار کے۔ (یہ فرما کر) رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے اپنی دو انگلیوں یعنی انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی کو اوپر اٹھایا۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ریشم پہننے سے منع فرمایا سوائے اتنی مقدار کے جو دو یا تین یا چار انگشت کے برابر ہو۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

رسول اللہ ﷺ نے مردوں کو ریشم پہننے سے منع فرمایا ماسوا اس مقدار کے جسے اس ممانعت سے مستثنیٰ کیا گیا ۔ متفق علیہ (صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی) حدیث میں جس مقدار کو مستثنیٰ کیا گیا ہے وہ دو انگشت کے برابر ہے، جب کہ صحیح مسلم کی روایت میں (دو) یا تین یا چار انگشت کا استثناء ہے۔ جو مقدار زیادہ ہے اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ چنانچہ لباس میں چار انگشت کے برابر ریشم کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔

حوالہ

1- صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. 2- صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. 3- تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ. 4- تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار علماء السلف، الطبعة: الثانية 1414هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب تم لباس پہنو اور جب تم وضو کرو، تو اپنی دائیں جانب سے شروع کرو۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعًا: «إِذَا لَبِسْتُم، وَإِذَا تَوَضَّأتُم، فَابْدَأُوا بَأَيَامِنُكُم».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم لباس پہنو اور جب تم وضو کرو، تو اپنی دائیں جانب سے شروع کرو“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث میں اچھے کاموں کے دائیں طرف سے آغاز کے استحباب کی تاکید ہے۔ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: "إذا لبستم" یعنی جب تم لباس پہننے کا ارادہ کرو۔ "إذا توضأتم" یعنی جب تمھارا وضو کے اعمال سر انجام دینے کا ارادہ ہو۔ ”فابدءوا بأيامنكم“ 'أيامن' جمع ہے 'أيمن' کی، جو کہ 'الأيسر' کی ضد ہے۔ چنانچہ قمیص وغیرہ میں دائیں جانب کو بائیں طرف سے پہلے داخل کرے اور وضو میں اپنے دائیں ہاتھ اور پاؤں کو مقدم رکھے۔ حتی کہ معذور شخص بھی وضو کے تمام اعمال میں دائیں طرف سے آغاز کرے گا۔ واضح رہے کہ وضو کے کچھ اعضا ایسے ہیں، جن میں دائیں طرف سے شروع کرنا مستحب نہیں، بلکہ انھیں یکبارگی پاک کیا جاتا ہے، جیسے دونوں کان، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں رخسار۔ اگر کسی کے لیے ایک ساتھ پاک کرنا ممکن نہ ہو، جیسے ایک ہاتھ سے معذور آدمی، تو وہ داہنے حصے کو مقدم رکھے گا۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415هـ. تطريز رياض الصالحين، للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423هـ. جامع الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر وآخرون، ط2، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي ، مصر، 1395هـ. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425هـ. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ. رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ. سنن أبي داود ،تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، المكتبة العصرية، بيروت. سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء الكتب العربية، فيصل عيسى البابي الحلبي. الشرح الممتع على زاد المستقنع، لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، ط1، دار ابن الجوزي، 1422 - 1428هـ. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ. مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط و عادل مرشد، وآخرون، تحت إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، ط1، مؤسسة الرسالة، 1421هـ. مشكاة المصابيح للتبريزي، تحقيق: محمد ناصر الدين الألباني، ط3، المكتب الإسلامي، بيروت، 1985م. المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، للنووي، ط2، دار إحياء التراث العربي - بيروت، 1392هـ. شرح رياض الصالحين، للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

مسلمان کے تہبند پنڈلی کے نصف تک ہوتا ہے اور پنڈلی کے نصف اور ٹخنوں کے درمیان تک اسے رکھا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں یا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس میں بھی کوئی گناہ نہیں۔ جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ آگ میں ہو گا۔ اور جو شخص اپنی ازار کو ازراہ تکبر گھسیٹ کر چلتا ہے اس کی طرف اللہ تعالی دیکھے گا بھی نہیں۔

عَنْ أبي سَعيدٍ الخُدريَّ رضي الله عنه قال: قال رسولُ الله صلَّى الله عليه وسلم ِ: «إزْرَةُ المُسْلمِ إلى نصفِ السَّاق، وَلَا حَرَجَ -أو لا جُنَاحَ- فيما بينَهُ وبينَ الكعبينِ، وما كان أسفلَ منَ الكعبين فهو في النار، مَن جرَّ إزارَهُ بطرًا لم يَنْظُرِ اللهُ إليه».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تہبند ﮐﺎ ﺟﺘﻨﺎ ﺣﺼﮧ ﭨﺨﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﮔﺎ ﻭﮦ ﺍٓﮒ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ۔ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کا تہبند پنڈلی کے نصف تک ہوتا ہے اگر اُس نے پنڈلی کے نصف اور ٹخنوں کے درمیان تک اسے رکھا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں یا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اُس میں بھی کوئی گناہ نہیں۔ جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ آگ میں ہو گا۔ اور جو شخص اپنی ازار کو ازراہ تکبر گھسیٹ کر چلتا ہے اس کی طرف اللہ تعالی دیکھے گا بھی نہیں۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہیہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔
تشریح

مومن کے ازار باندھنے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ کپڑا نصف پنڈلی تک آئے۔ تاہم اگر مومن اپنے کپڑے کو نصف پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان تک ڈھیلا کر لے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے تاہم جو حصہ پاؤں کے ٹخنوں سے نیچے ہو گا اور جس پر ازار لٹک رہی ہو گی اسے کپڑا لٹکانے کی وجہ سے عذاب ہو گا۔ اور جو شخص پے درپے ہونے والی اللہ کی نعمتوں پر اپنے کپڑے کو ازراہ تکبر و سرکشی گھسیٹ کر چلتا ہے اس کی طرف اللہ قیامت کے دن آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔

حوالہ

سنن أبي داود (6/ 191) (4093). سنن ابن ماجه (4/ 583) (3573). مسند أحمد (17/ 52) (11010). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 637). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 95). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (10/ 582). المعجم الوسيط، (1/ 16).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب تم میں سے کوئی شخص جوتا پہنے تو دائیں طرف سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں طرف سے اتارے۔ دایاں پاؤں پہننے میں اول ہو اور اتارنے میں آخری ہو۔

عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه مرفوعاً: «إذا انْتَعَل أحدكم فليبدأ باليمين، وإذا نَزَعَ فليبدأ بالشمال، ولْتَكُن اليُمنى أولَهُما تُنْعَل، وآخِرَهُما تُنْزَع».
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص جوتا پہنے تو دائیں طرف سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں طرف سے اتارے۔ دایاں پاؤں پہننے میں اول ہو اور اتارنے میں آخری ہو“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

جوتا پہننے میں مستحب طریقہ یہ ہے کہ پہنتے وقت دائیں پاؤں سے ابتدا کی جائے اور اتارتے وقت اس کا الٹا کیا جائے یعنی بائیں پاؤں سے اتارنے کی ابتدا کی جائے کیونکہ اس میں دائیں پاؤں کی تکریم ہے۔

حوالہ

منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي. ط1، 1428هـ. توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام. مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. صحيح البخاري, تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري, تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر, دار طوق النجاة ترقيم محمد فؤاد عبدالباقي, ط 1422هـ. صحيح مسلم, تأليف: مسلم بن حجاج النيسابوري, تحقيق: محمد فؤاد عبدالباقي, دار إحياء التراث العربي.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

تم میں سے کوئی شخص ایک ہی جوتا پہن کر نہ چلے؛ یا تو دونوں جوتے پہن لے یا دونوں ہی اتار دے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يمش أحدكم في نعل واحدة، لِيُنْعِلهما جميعًا، أو لِيَخْلَعْهُمَا جميعًا».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم سے کوئی شخص ایک ہی جوتا پہن کر نہ چلے؛ یا تو دونوں جوتے پہن کر چلے یا دونوں ہی اتار دے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ نے ایک جوتے میں چلنے سے منع فرمایا ہے۔ اس لیے آدمی یا تو دونوں جوتےپہن کر چلے یا دونوں ہی اتاردے اور ننگے پیر چلے۔ یہ ادب اسلامی شریعت کی گہرائی و گیرائی اور انسانی زندگی کے تمام شعبوں کا کمال درجہ احاطہ کرنے کے بارے میں پائے جانے والے دیگر دلائل میں سے ایک بڑی دلیل ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري، المحقق: محمد زهير بن ناصر الناصر، الناشر: دار طوق النجاة، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم بن الحجاج، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت. شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 هـ. فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام،محمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، المكتبة الإسلامية، القاهرة، الطبعة الأولى، 1427هـ. توضيح الأحكام من بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة، الطبعة الخامسة، 1423. رياض الصالحين، للنووي، الطبعة الأولى، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
14 میں سے 8
14 احادیث
  1. رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی
  2. ”نہ ریشم و دیباج پہنو، نہ سونے اور چاندی کے برتن میں کچھ پیو اور نہ ہی ان سے بنی پلیٹوں میں کچھ کھاؤ۔ یہ دنیا میں ان (کفار) کے لیے اور آخرت میں ہمارے لیے ہیں“۔
  3. جس نے دنیا میں ریشمی لباس پہنا، وہ آخرت میں نہيں پہنے گا۔
  4. رسول اللہ ﷺ نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے سوائے دو یا تین یا چار انگشت کے برابر۔
  5. جب تم لباس پہنو اور جب تم وضو کرو، تو اپنی دائیں جانب سے شروع کرو۔
  6. مسلمان کے تہبند پنڈلی کے نصف تک ہوتا ہے اور پنڈلی کے نصف اور ٹخنوں کے درمیان تک اسے رکھا تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں یا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس میں بھی کوئی گناہ نہیں۔ جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ آگ میں ہو گا۔ اور جو شخص اپنی ازار کو ازراہ تکبر گھسیٹ کر چلتا ہے اس کی طرف اللہ تعالی دیکھے گا بھی نہیں۔
  7. جب تم میں سے کوئی شخص جوتا پہنے تو دائیں طرف سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں طرف سے اتارے۔ دایاں پاؤں پہننے میں اول ہو اور اتارنے میں آخری ہو۔
  8. تم میں سے کوئی شخص ایک ہی جوتا پہن کر نہ چلے؛ یا تو دونوں جوتے پہن لے یا دونوں ہی اتار دے۔
  9. اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا، جو اپنا کپڑا تکبر و غرور سے زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے"۔
  10. جو شخص الله كے حضور تواضع اختیار کرتے ہوئے قیمتی لباس چھوڑ دیتا ہے، حالاں کہ وہ اسے پہن سکتا ہو، تو روز قیامت اللہ اسے یہ اختیار دینے کے لیے سب کے سامنے بلائے گا کہ وہ جنتی لوگوں کے لباس میں سے جس لباس کو چاہے، پہن لے۔
  11. میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اس حال میں کہ میری ازار لٹک رہی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ! اپنی ازار اونچی کرو“ میں نے اسے اوپر اٹھا لیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور اٹھاؤ“ میں نے اور اٹھائی، میں اپنی ازار اٹھاتا اور اس کا خیال کرتا رہا یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے کہا کہاں تک اٹھائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدھی پنڈلیوں تک“۔
  12. تکبر اور اترانا حرام ہے، اور ان کے برے انجام کا بیان
  13. ایک مرد دوسرے مرد کی شرمگاہ کو نہ دیکھے اور ایک عورت دوسری عورت کی شرمگاہ کو نہ دیکھے
  14. رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی کھڑا ہو کر جوتا پہنے۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com