عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - اصْطَنَعَ خَاتَمًا من ذهب، فكان يجعل فَصَّهُ في باطن كَفِّهِ إذا لَبِسَهُ، فصنع الناس كذلك، ثم إنه جلس على المنبر فَنَزَعَهُ فقال: إني كنت أَلْبَسُ هذا الخَاتَمَ ، وأجعل فَصَّهُ من داخل، فرمى به ثم قال: والله لا أَلْبَسُهُ أبدا فَنَبَذَ الناس خَواتِيمَهُمْ».
وفي لفظ «جعله في يده اليمنى».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی، آپ ﷺ اسے پہنتے وقت اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کے اندرونی طرف کرلیا کرتے تھے۔ چنانچہ لوگوں نے بھی اسی طرح کی انگوٹھیاں بنوالیں، پھر (ایک دن) آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اسے اتار دیا اور فرمایا: میں اس انگوٹھی کو پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندرونی طرف رکھتا تھا، پھر آپ نے اسے پھینک دیا، اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس کو کبھی نہیں پہنوں گا۔ پس لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: آپ ﷺ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پہنا کرتے تھے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ نے حکم دیا کہ آپ کے لئے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی جائے۔ آپ ﷺ انگوٹھی کو پہنتے وقت اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کے اندرونی طرف کر لیتے، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی میں ویسا ہی کیا جیسا آپ ﷺ نے کیا۔ پھر ایک عرصہ کے بعد نبی ﷺ منبر پر بیٹھے تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کے اندرونی طرف رکھتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے اتار پھینکا اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں اب اسے کبھی نہیں پہنوں گا، اور یہ اس کی حرمت نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے، چنانچہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی میں اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
حوالہ
تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423 هـ.
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، نشر: مطبعة السعادة، الطبعة: الثانية 1392هـ 1972م.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com