سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

گفتگو اور خاموشی کے آداب

30 احادیث

”جب کوئی آدمی اپنے بھائی سے محبت کرتا ہو، تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے“

عن المِقدام بن معدي كرب رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إِذَا أَحَبَّ الرَّجُلُ أَخَاهُ فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ».
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی اپنے بھائی سے محبت کرتا ہو، تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے“
رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وأحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان اسباب میں سے ایک سبب بیان کر رہے ہیں، جو ایمان والوں کے بیچ آپسی رشتے کو مضبوط کرنے اور محبت عام کرنے کا کام کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ جب کوئی شخص کسی سے محبت رکھے تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت رکھتا ہے۔

فوائد
  1. ایسی خالص محبت کی فضیلت جو اللہ کے لیے رکھی جائے اور جس کے پیچھے کوئی دنیوی مقصد کارفرما نہ ہو۔
  2. جس شخص سے اللہ کے لیے محبت رکھی جائے، اسے یہ بات بتا دینا مستحب ہے، اس سے محبت و الفت میں اضافہ ہوتا ہے۔
  3. ایمان والوں کے درمیان آپسی محبت کا فروغ ایمانی اخوت کو مضبوط بناتا ہے اور معاشرے کو بکھراؤ سے محفوظ رکھتا ہے۔
حوالہ

سنن أبي داود (7/ 444) (5124). سنن الترمذي (4/ 199) (2392). السنن الكبرى للنسائي (9/ 87) (9963). مسند أحمد (28/ 408) (17171). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 450). تطريز رياض الصالحين، لفيصل المبارك (ص258). رياض الصالحين للنووي، (ص138) (383). سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، للألباني (1/ 777). فيض القدير شرح الجامع الصغير، للمناوي (1/ 247). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (6/ 279).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہ کون ہے جو مجھ پر قسم اٹھا رہا ہے کہ میں فلاں کی مغفرت نہیں کروں گا؟ میں نے اس کی مغفرت کر دی ہے اور تیرے اعمال کو ضائع کر دیا ہے۔

عن جندب بن عبد الله رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "قال رجل: والله لا يغفر الله لفلان، فقال الله: من ذا الذي يتألى عليَّ أن لا أغفر لفلان؟ إني قد غفرت له، وأحبطت عملك". وفي حديث أبي هريرة: أن القائل رجل عابد، قال أبو هريرة: "تكلم بكلمة أوبقت دنياه وآخرته".
جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی نے کہا کہ اللہ کی قسم! اللہ فلاں شخص کی مغفرت نہیں کرے گا۔ اس پر اللہ تعالی نے فرمایا: یہ کون ہے جو مجھ پر قسم اٹھا رہا ہے کہ میں فلاں کی مغفرت نہیں کروں گا؟ میں نے اس کی مغفرت کر دی ہے اور تیرے اعمال کو ضائع کر دیا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ایسا کہنے والا ایک عبادت گزار شخص تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس نے ایک ایسی بات کہہ دی جس نے اس کی دنیا اور آخرت تباہ کر کے رکھ دی۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ زبان کی خطرناکی پر متنبہ کرتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ اللہ فلاں گناہ گار آدمی کو نہیں بخشے گا۔گویا کہ اس نے اللہ کے مقابلے میں اپنا ہی فیصلہ صادر کر دیا اور مغفرت کا دروازہ اس شخص کے لیے بند کر دیا کیونکہ اپنے تئیں وہ سمجھتا تھا کہ وہ اللہ کے ہاں بڑا معزز اور صاحبِ منزلت ہے اور اس کی نگاہ میں وہ گناہ گار شخص قابل حقارت تھا۔ یہ اللہ پر خوامخواہ کا ناز اوراس کے سامنے بے جا جرأت و بے ادبی کا مظاہرہ ہے جس کی وجہ سے وہ شخص دنیا اور آخرت کی بد بختی اور خسارے کا مستوجب ہو گیا۔

حوالہ

1- فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، مطبعة السنة المحمدية، القاهرة، مصر، الطبعة: السابعة، 1377هـ - 1957م. 2- القول المفيد على كتاب التوحيد، دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الثانية, محرم، 1424ه. 3- الملخص في شرح كتاب التوحيد، دار العاصمة، الرياض، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2001م. 4- الجديد في شرح كتاب التوحيد، مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الخامسة، 1424هـ - 2003م. 5- التمهيد لشرح كتاب التوحيد، دار التوحيد، تاريخ النشر: 1424هـ. 6- صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

بندہ ایک بات زبان سے نکالتا ہے اس میں غور وفکر نہیں کرتا، لیکن اس کی وجہ سے وہ دوزخ میں اتنی دور جاگرتا ہے جتنا مغرب سے مشرق دور ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه أَنَّهُ سَمِعَ النَّبيَّ -صلّى اللهُ عليه وسَلَّم يقول-: «إن العبد ليتكلم بالكلمة ما يتبين فيها يزلُّ بها إلى النار أبعدَ مما بين المشرق والمغرب».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”بندہ ایک بات زبان سے نکالتا ہے اس میں غور وفکر نہیں کرتا، لیکن اس کی وجہ سے وہ دوزخ میں اتنی دور جاگرتا ہے جتنا مغرب سے مشرق دور ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کوئی آدمی جب گفتگو کرتا ہے تو بالکل بھی نہیں سوچتا کہ آیا یہ بات جو وہ کر رہا ہے اچھی ہے یا نہیں؟۔ اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی گفتگو کرنے والا اس عدمِ تفکیر کی وجہ سے کسی حرام میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو جہنم کی آگ کی صورت میں اللہ کے عذاب کا مستحق بنا دیتا ہے۔ عیاذا باللہ۔ اور بعض اوقات تو وہ اتنی دور جہنم میں جا گرتا ہے جتنی مشرق و مغرب کے مابین مسافت ہوتی ہے۔

حوالہ

- صحيح البخاري، للإمام محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق محمد الناصر، دار طوق النجاة. - صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ. - كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا، الطبعة الأولى، 1430ه. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة. - شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. -التَّنويرُ شَرْحُ الجَامِع الصَّغِيرِ، محمد بن إسماعيل الصنعاني، المحقق: د. محمَّد إسحاق محمَّد إبراهيم، مكتبة دار السلام، الرياض، الطبعة: الأولى، 1432هـ - 2011م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو سارے اعضاء زبان کے سامنے عاجزی کے ساتھ التجا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر۔ ہم تجھ سے متعلق ہیں۔ اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا أصْبَح ابن آدَم، فإن الأعضاء كلَّها تَكْفُرُ اللِّسان، تقول: اتَّقِ الله فِينَا، فإنَّما نحن بِك؛ فإن اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا، وإن اعْوَجَجْت اعْوَجَجْنَا».
ابو سعيد خدري رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو سارے اعضاء زبان کے سامنے عاجزی کے ساتھ التجا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر۔ ہم تجھ سے متعلق ہیں۔ اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم: جسم کے تمام اعضاء زبان کے سامنے اظہار عجزو انکساری کرتے ہیں اور وہ اس کے تابع ہیں ۔ اسی لیے بندہ جب صبح کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں: ”ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرو ہم تجھ سے متعلق ہیں“۔ انسان کے اعضاء میں سے سب سے خطرناک زبان ہے۔ اگر یہ ٹھیک رہے تو اس کے تمام اعضاء ٹھیک رہتے ہیں اور اس کے باقی تمام اعمال درست ہو جاتے ہیں اور اگر اس میں کچھ کجی آجائے تو تمام اعضاء میں کجی آ جاتی ہے اور انسان کے بقیہ اعمال بھی فاسد ہوجاتے ہیں۔انس - رضی اللہ عنہ- سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بندے کا ایمان اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتا جب تک اس کا دل ٹھیک نہ ہوجائے اور اس کا دل اس وقت ٹھیک نہیں ہوتا جب تک اس کی زبان ٹھیک نہ ہو جائے“۔ اس موضوع پر بہت سی ایسی احادیث ہیں جو زبان کی اہمیت پر دلالت کرتی ہیں بایں طور کہ زبان یا تو اس شخص کے لیے باعثِ سعادت ہوتی ہے اور یا پھر اس کے لیے باعثِ مصیبت ہوتی ہے۔ اگر وہ اسے اللہ کی اطاعت میں لگا دے تو وہ اس کے لیے دنیا و آخرت کی سعادت بن جاتی ہے اور اگر اسے ایسے کام میں لگا دے جس میں اللہ کی رضا نہ ہو تو وہ دنیا و آخرت میں اس کے لیے باعثِ حسرت بن جائے گی۔

حوالہ

دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425 ه. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415ه. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ. تطريز رياض الصالحين للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423هـ. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425هـ. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ. رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ. شرح رياض الصالحين للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري، ط1، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. صحيح الجامع الصغير وزيادته للألباني، ط3، المكتب الإسلامي، بيروت، 1408هـ. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح للقاري، ط1، دار الفكر، بيروت، 1422هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ. سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها للألباني، مكتبة المعارف، ط1، الرياض، 1422هـ. صحيح الترغيب والترهيب للألباني، ط5، مكتبة المعارف - الرياض. جامع الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر وآخرون، مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، ط2، مصر، 1395 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! نجات کیا ہے؟ فرمایا : "اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اور تمہارا گھر تمہارے لئے کافی ہو اور اپنے گناہ پر رویا کرو۔

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رضي الله عنه قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا النَّجَاةُ؟ قَالَ: «امْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ».
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! نجات کیا ہے؟ فرمایا : "اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اور تمہارا گھر تمہارے لئے کافی ہو اور اپنے گناہ پر رویا کرو۔"
رواه الترمذي وأحمددرجہصحيح
تشریح

عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ وہ کون کون سی چيزیں ہیں، جو ایک مومن کے لیے دنیا و آخرت کی نجات کا باعث بنتی ہیں؟ جواب میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہا کہ تین باتوں کا خیال رکھا کرو: 1- تمام طرح کی بری اور غیر مفید باتوں سے اپنی زبان کی حفاظت کرو اور صرف اچھی باتوں کے لیے ہی منہ کھولا کرو۔ 2- اپنے گھر میں رہا کرو، تاکہ تنہائی میں اللہ کی عبادت کر سکو، اس کی بندگی میں مشغول رہو اور گھر میں رہ کر فتنوں سے کنارہ کشی اختیار کرو۔ 3- اپنے گناہوں پر رویا کرو، شرمندہ رہو اور اللہ کے حضور توبہ کرو۔

فوائد
  1. صحابہ کی بھر پور کوشش ہوا کرتی تھی کہ نجات کے راستے جان سکیں۔
  2. دنیا وآخرت میں نجات کا باعث بننے والی چيزوں کا بیان۔
  3. جب دوسرے کا بھلا کرنا ممکن نہ ہو یا لوگوں کے میل جول رکھنے کی صورت میں اپنے دین اور نفس کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہو، تو انسان کو خود کو اپنی ذات تک محدود کر لینا چاہیے۔
  4. خاص طور سے فتنے کے وقت گھر سے وابستہ ہو جانے کا اشارہ۔ یہ دین کی حفاظت کا ایک طریقہ ہے۔
حوالہ

سنن الترمذي (4/ 208) (2406). مسند أحمد (28/ 654) (17452). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (3/ 15). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (2/ 1039). مرقاة المفاتيح، لعلي القاري (7/ 3039).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی بات زبان سے نکالتا ہے، اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اس کی وجہ سے اللہ اس کے کئی درجے بلند فرما دیتا ہے، اور ایک بندہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی والی بات کرتا ہے جس کی طرف اس کا دھیان بھی نہیں، لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے

عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن العبد لَيَتَكَلَّمُ بالكلمة من رِضْوَانِ الله تعالى ما يُلْقِي لها بَالًا يَرْفَعُهُ الله بها درجاتٍ، وإن العبد لَيَتَكَلَّمُ بالكلمة من سَخَطِ الله تعالى لا يُلْقِي لها بَالًا يَهْوِي بها في جهنم». وعن أبي عبد الرحمن بلال بن الحارث المزني رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن الرجل لَيَتَكَلَّمُ بالكلمة من رِضْوَانِ الله تعالى ما كان يظن أن تبلغ ما بَلَغَتْ يكتب الله له بها رِضْوَانَهُ إلى يوم يَلْقَاهُ، وإن الرجل لَيَتَكَلَّمُ بالكلمة من سَخَطِ الله ما كان يظن أن تبلغ ما بَلَغَتْ يكتب الله له بها سَخَطَهُ إلى يوم يَلْقَاهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی بات زبان سے نکالتا ہے، اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اس کی وجہ سے اللہ اس کے کئی درجے بلند فرما دیتا ہے، اور ایک بندہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی والی بات کرتا ہے جس کی طرف اس کا دھیان بھی نہیں، لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے“۔ اور ابو عبد الرحمن بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی بات کرتا ہے، اس کو گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ کہاں تک پہنچے گی، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے قیامت کے دن تک اپنی رضامندی لکھ دیتا ہے اور آدمی (بعض دفعہ)اللہ کی ناراضی کا ایسا کلمہ بولتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ کہاں تک پہنچے گا اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے اپنی ملاقات کے دن تک اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔درجہیہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔
تشریح

آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور خوشنودی والا کلمہ بو لتا ہےجیسے کہ پند و نصائح اورتعلیم، اور اسے گمان بھی نہیں ہو تا کہ یہ کلمہ اللہ کی رضامندی حاصل کرنے میں کہاں تک پہنچ جائے گا، پس اللہ تعالیٰ اس کلمے کی وجہ سےاس شخص کے درجات بلند فرما دیتا ہے۔ اسی طرح آدمی اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا کلمہ بولتا ہے جس سے اللہ ناراض ہوتا ہےجیسے غیبت چغلی، بہتان وغیرہ، پس اللہ تعالیٰ اس کلمے کی وجہ سےاس کو قیامت کے دن جہنم میں گرا دےگا۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين, بإشراف حمد العمار, دار كنوز إشبيليا, الطبعة الأولى, 1430هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م. شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. سنن الترمذي، نشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ - 1975م. مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. موطأ الإمام مالك، ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت - لبنان، عام النشر: 1406هـ - 1985م. سنن ابن ماجه، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي. صحيح الجامع الصغير وزياداته، للألباني، نشر: المكتب الإسلامي.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہوتی ہے؟" صحابہ کرام نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس انداز میں کرو، جو اسے نا پسند ہو

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ؟»، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ»، قِيلَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟ قَالَ: «إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہوتی ہے؟" صحابہ کرام نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس انداز میں کرو، جو اسے نا پسند ہو‘‘۔ پوچھا گیا کہ اگر وہ بات میرے بھائی میں فی الواقع موجود ہو، تب بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جو تم بیان کر رہے ہو اگر وہ اس میں موجود ہے، تو تم نے اس کی غیبت کی ہے اور جو تم بیان کر رہے ہو، اگر وہ اس میں موجود نہیں ہے، تو تم نے اس پر تہمت باندھی"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس حدیث میں حرام كرده غیبت کی حقیقت بیان فرما رہے ہیں۔ دراصل غیبت نام ہے کسی مسلمان کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں ایسی بات کرنے کا، جو اسے پسند نہ ہو۔ چاہے کہی گئی بات کا تعلق اس کے جسمانی بناوٹ سے ہو یا عادت و اخلاق سے۔ جیسے کسی کے بارے میں بھینگا، دھوکے باز اور جھوٹا وغیرہ ایسی باتیں کہنا، جن سے مذمت ہوتی ہو۔ چاہے وہ بات اس کے اندر موجود ہی کیوں نہ ہو۔ اگر موجود نہ ہو، تو یہ بہتان یعنی الزام تراشی ہے، جو کہ غیبت سے بھی بڑا گناہ ہے۔

فوائد
  1. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے تعلیم دینے کا بہترین طریقہ کہ آپ مسائل کو سوال کی شکل میں پیش کرتے تھے۔
  2. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ صحابہ کا ادب و احترام کہ وہ صرف اتنا کہنے پر اکتفا کرتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول کو بہتر معلوم ہے۔
  3. جس سے کوئی بات پوچھی جائے اور وہ نہ جانتا ہو، تو اسے اللہ بہتر جانتا ہے، کہہ دینا چاہیے۔
  4. شریعت اسلامیہ نے حقوق کی حفاظت کر کے اور لوگوں کے بیچ بھائی چارہ قائم کر کے ایک صاف ستھرا سماج بنانے کا کام کیا ہے۔
  5. غیبت حرام ہے، البتہ کچھ حالتوں میں کچھ مصلحتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی اجازت دی گئی ہے۔ ان میں ایک مصلحت ہے ظلم کو روکنا۔ مثلا مظلوم شخص کسی ایسے شخص کے سامنے ظالم کا ذکر کرے، جو اسے اس کا حق دلا سکے۔ وہ کہے کہ مجھ پر فلاں شخص نے ظلم کیا ہے یا میرے ساتھ فلاں شخص نے ایسا سلوک کیا ہے۔ شادی کرنے، ساجھے دار اور پڑوسی بننے وغیرہ کے بارے میں مشورہ کرنا بھی اس طرح کی مصلحتوں میں شامل ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2001) (2589). فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (6/ 378). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 237). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، للبسام (7/ 428).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”(قیامت کے دن ) مومن کے میزان میں خوش خلقی سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہو گی اور یقیناً اللہ تعالیٰ بے حیا اور فحش گو سے سخت نفرت کرتا ہے“۔

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُبْغِضُ الفَاحِشَ البَذِيءَ».
ابو دردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”(قیامت کے دن ) مومن کے میزان میں خوش خلقی سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہو گی اور یقیناً اللہ تعالیٰ بے حیا اور فحش گو سے سخت نفرت کرتا ہے“۔
رواه أبو داود والترمذيدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ قیامت کے دن مومن کے میزان میں اقوال و اعمال میں سب سے وزنی چيز ہوگی، حسن اخلاق۔ یاد رہے کہ حسن خلق نام ہے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنے، اذیت رسانی سے بچنے اور بھلا کرنے کا۔ اللہ تعلی برے عمل اور برے قول والے اور بدزبانی سے کام لینے والے انسان سے نفرت کرتا ہے۔

فوائد
  1. حسن اخلاق کی فضیلت، کیوں کہ حسن اخلاق سے انسان کو اللہ اور اس کے بندوں کی محبت حاصل ہوتی ہے۔ حسن اخلاق قیامت کے دن وزن کی جانے والی سب سے عظیم چيز ہوگی۔
حوالہ

سنن أبي داود (7/ 177) (4799). سنن الترمذي (3/ 535) (2002). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبد الله البسام (7/ 487). منحة العلام شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 264). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 673). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص410). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 526).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
21 میں سے 8
21 احادیث
  1. ”جب کوئی آدمی اپنے بھائی سے محبت کرتا ہو، تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے“
  2. یہ کون ہے جو مجھ پر قسم اٹھا رہا ہے کہ میں فلاں کی مغفرت نہیں کروں گا؟ میں نے اس کی مغفرت کر دی ہے اور تیرے اعمال کو ضائع کر دیا ہے۔
  3. بندہ ایک بات زبان سے نکالتا ہے اس میں غور وفکر نہیں کرتا، لیکن اس کی وجہ سے وہ دوزخ میں اتنی دور جاگرتا ہے جتنا مغرب سے مشرق دور ہے۔
  4. جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو سارے اعضاء زبان کے سامنے عاجزی کے ساتھ التجا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر۔ ہم تجھ سے متعلق ہیں۔ اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔
  5. میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! نجات کیا ہے؟ فرمایا : "اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اور تمہارا گھر تمہارے لئے کافی ہو اور اپنے گناہ پر رویا کرو۔
  6. بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی بات زبان سے نکالتا ہے، اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اس کی وجہ سے اللہ اس کے کئی درجے بلند فرما دیتا ہے، اور ایک بندہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی والی بات کرتا ہے جس کی طرف اس کا دھیان بھی نہیں، لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے
  7. کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہوتی ہے؟" صحابہ کرام نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس انداز میں کرو، جو اسے نا پسند ہو
  8. ”(قیامت کے دن ) مومن کے میزان میں خوش خلقی سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہو گی اور یقیناً اللہ تعالیٰ بے حیا اور فحش گو سے سخت نفرت کرتا ہے“۔
  9. اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ دریافت کیا گیا کہ بھلا کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! آدمی کسی کے باپ کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کے باپ کو گالی دے گا اور وہ کسی کی ماں کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کی ماں کو گالی دے گا۔
  10. ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جو گفتگو کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو ہنسائے۔ اس کے لئے ہلاکت ہے، اس کے لئے ہلاکت ہے۔
  11. نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو کسی کی تعریف کرتے سنا، وہ اس کی تعریف میں مبالغہ کر رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا تم نے ہلاک کردیا یا فرمایا تم نے اس آدمی کی کمر توڑدی ہے۔
  12. قسم کھانا‘ سامان تجارت کی فروخت کا ذریعہ تو ہے مگر اس سے برکت ختم ہوجاتی ہے۔
  13. آپس میں ایک دوسرے کے لیے نہ تو اللہ کی لعنت کی بد دعا کرو اور نہ اللہ کے غضب کی اور نہ جہنم میں جانے کی بد دعا کرو۔
  14. بندہ جب کسی شے پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف جاتی ہے۔ آسمان کے دروازے اس کے سامنے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر یہ زمین کی طرف اترتی ہے اور اس کے دروازے بھی اس کے لیے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر یہ دائیں بائیں جاتی ہے اور اگر کسی طرف اسے راہ نہ ملے تو پھر اس کی طرف لوٹ آتی ہے جس پر کی گئی ہو، اگر وہ اس لعنت کا سزاوار ہو تو ٹھیک وگرنہ لعنت کرنے والے ہی کی طرف لوٹ آتی ہے۔
  15. ہمارے ساتھ وہ اونٹنی نہ چلے، جس پر لعنت کی گئی ہے
  16. آپس ميں گالی گلوچ کرنے والے دو شخص جو کچھ بھی کہیں گے، اس کا گناہ پہل کرنے والے پر ہوگا، يہاں تک کہ مظلوم زیادتی کرے۔
  17. مرغے کو گالی مت دو، کیونکہ وہ نمازِ فجر کے لیے جگاتا ہے۔
  18. بخار کو برا بھلا مت کہو۔ یہ تو بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح صاف کر دیتا ہے، جیسے بھٹی لوہے کے میل کچیل کو صاف کردیتی ہے۔
  19. (کامل) مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان (کی ایذا رسانی) سے مسلمان محفوظ رہیں اور (حقیقی) مہاجر وہ ہے جس نے ان تمام چیزوں کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔
  20. مومن طعنہ مارنے والا، لعنت کرنے والا، بےحیا اور فحش گو نہیں ہوتا ہے۔
  21. ”اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم! میں تو یہی جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔“

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com