سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ہمارے ساتھ وہ اونٹنی نہ چلے، جس پر لعنت کی گئی ہے

عن أبي بَرْزَةَ نَضْلَةَ بن عبيد الأَسلمي رضي الله عنه قال: بينما جاريةٌ على ناقة عليها بعض مَتَاعِ القوم، إذ بَصُرَتْ بالنبي صلى الله عليه وسلم وتَضَايَقَ بهم الجبل فقالت: حَلْ، اللهم الْعَنْهَا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «لا تُصَاحِبْنَا ناقةٌ عليها لَعْنَةٌ».
ابو برزہ نضلہ بن عبید اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ ایک دفعہ ایک نوجوان لڑکی اونٹنی پر سوار تھی، اس پر لوگوں کا کچھ سامان تھا، اچانک اس نے نبی ﷺ کی طرف دیکھا، اس وقت لوگوں سے پہاڑ تنگ پڑ گیا تھا۔ چنانچہ اس لڑکی نے کہا:حَلْ (اونٹ کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے کلمۂ زجر) اے اللہ! اس پر لعنت فرما! تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ اونٹنی ہمارے ساتھ نہ رہے، جس پر لعنت کی گئی ہو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ایک کم سن دوشیزہ ایک اونٹنی پر سوار تھی، جس پر کچھ ساز و سامان تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو دیکھا، جب کہ نبی ﷺ کے ساتھیوں کی وجہ سے پہاڑ تنگ ہو گیا تھا، تو اس نے اونٹنی کی رفتار کو تیز کرنا چاہا۔ اس نے اونٹنی سے کہا: حَلْ (اونٹ کو تیز رفتار کرنے کے لئے کلمۂ زجر) تاکہ تیز رفتاری سے چلنے لگے، پھر اس پر لعنت کر ڈالی، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ہمارے ساتھ وہ اونٹنی نہ چلے، جس پر لعنت کی گئی ہے۔

حوالہ

1-رياض الصالحين للنووي، تحقيق : ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق.ط1 .2007م. 2-صحيح مسلم، بتحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي/بيروت. 3-نزهة المتقين شرح رياض الصاحين، شرح الدكتور مصطفى الخن وآخرين، مؤسسة الرسالة، ط 1. 1987م. 4-شرح رياض الصالحين لابن عثيمين، مؤسسة ابن عثيمين الخيرية، مدار الوطن للنشر، الرياض، ط1426هـ. 5-كنوز رياض الصالحين، المجلس العلمي كنوز دار إشبيليا، الرياض، ط1. 2009م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
گفتگو اور خاموشی کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com