سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

مرغے کو گالی مت دو، کیونکہ وہ نمازِ فجر کے لیے جگاتا ہے۔

عن زيد بن خالد الجُهني رضي الله عنه مرفوعاً: «لا تَسُبُّوا الدِّيْك فإنه يُوْقِظ للصلاة».
زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مرغے کو گالی مت دو، کیونکہ وہ نمازِ فجر کے لیے جگاتا ہے“۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

زید بن خالد الجُہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مرغے کو گالی دینے سے منع فرمایا ہے اور اس کی علت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ سوئے ہوئے کو اپنی بانگ سے نماز کے لیے جگاتا ہے۔ اور امام احمد اور امام نسائی کی روایت میں ہے کہ وہ ( مرغ) نماز کے لیے آگاہ کرتا ہے۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اسے گالی دینے سے منع فرمایا، اس لیے کہ لوگوں کو نماز کے لیے جگانا ایک ظاہری مصلحت ہے کہ وہ نیکی کرنے میں ان کی مدد کرتا ہے اور جو نیکی میں مدد کرتا ہے وہ تعریف کا حقدار ہوتا ہے مذمت کا نہیں۔ مرغے کی بہت عجیب صفت یہ ہے کہ وہ رات کے اوقات جانتا ہے اور فجر سے پہلے نیز اس کے بعد بانگ دیتا رہتا ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے مرغے کی اس طرف رہنمائی فرمائی۔

حوالہ

1-نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ 2-رياض الصالحين، تأليف : محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ 3-شرح سنن أبي داود، تأليف: عبد المحسن بن حمد بن عبد المحسن العباد، نسخة الإلكترونية. 4-مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف: علي بن سلطان القاري، الناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى، 1422هـ 5-سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا. 6-السنن الكبرى، تأليف: أحمد بن شعيب النسائي، تحقيق: حسن عبد المنعم شلبي، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421 هـ 7 مسند الإمام أحمد بن حنبل المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي مؤسسة الرسالة الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م 8-شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 هـ

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
گفتگو اور خاموشی کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com