سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

مومن طعنہ مارنے والا، لعنت کرنے والا، بےحیا اور فحش گو نہیں ہوتا ہے۔

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلاَ اللَّعَّانِ وَلاَ الفَاحِشِ وَلاَ البَذِيءِ».
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "مومن طعنہ مارنے والا، لعنت کرنے والا، بےحیا اور فحش گو نہیں ہوتا ہے۔"
رواه الترمذيدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ایک کامل ایمان والے مومن کو زیب نہيں دیتا کہ کسی کے نسب پر زبان درازی کرے، بہت زیادہ گالی گلوج اور لعن طعن کرے اور حیا و شرم سے عاری ہوکر قول وفعل کے ذریعہ فحش وقبیح صفت سے متصف ہو۔

فوائد
  1. نصوص شرعیہ کے اندر ایمان کی نفی کسی حرام کام کے ارتکارب یا واجب کے ترک کرنے کی بنا پر ہی کی جاتی ہے۔
  2. اعضا و جوارح اور خاص طور سے زبان کو بری باتوں سے محفوظ رکھنے کی ترغیب۔
  3. سندھی کہتے ہيں: 'الطعّان' اور 'اللعّان' کے مبالغے کے صیغے اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ لعن طعن اگر کم مقدار میں مستحق لوگوں پر کیا جائے، تو اس سے اہل ایمان کی صفات سے متصف ہونے کا وصف مجروح نہيں ہوتا۔
حوالہ

سنن الترمذي (3/ 520) (1977)، تحفة الأحوذي (6/ 95)، مجموع الفتاوى (12/ 478).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com