سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

بلاشبہ مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "بلاشبہ مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا۔"
رواه البخاري في الأدب المفرد وأحمد والبيهقيدرجہحسن
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ تعالی نے آپ کو عمدہ اور اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا ہے۔ آپ پہلے آنے والے تمام رسولوں کے اختتام اور عرب کے اخلاق حسنہ کی تکمیل کرنے والی کی حیثیت سے بھیجے گئے تھے۔ کیوں کہ عرب خیر سے محبت اور شر سے نفرت کرتے تھے۔ وہ با مروت، دریا دل اور خود دار تھے۔ ایسے میں آپ ان کے اخلاق میں پائی جانے والی کمیوں، جیسے حسب نسب پر فخر کرنا اور تکبر کرنا اور مالی اعتبار سے کم تر لوگوں کو حقیر جاننا وغیرہ، کو دور کرکے اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لیے بھیجے گئے تھے۔

فوائد
  1. اچھے اخلاق سے آراستہ ہونے اور بدخلقی سے دور رہنے کی ترغیب۔
  2. اسلام میں اخلاق حسنہ کی بڑی اہمیت ہے اور یہ اس کی ترجیحات میں داخل ہیں۔
  3. دور جاہلیت کے لوگوں کے اندر اخلاق حسنہ کے کچھ بچے کھچے اوصاف، جیسے سخاوت اور شجاعت وغیرہ موجود تھيں، چنانچہ اسلام ان کی تکمیل کے لیے آیا۔
حوالہ

الأدب المفرد (ص104) (273). مسند أحمد (14/ 512) (8952). السنن الكبرى للبيهقي (10/ 191) (20819). عمدة القاري شرح صحيح البخاري (22/ 118).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com