جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے سامنے کھانا حاضر کرے، تو اگر اسے اپنے ساتھ نہیں بیٹھاتا تو اسے ایک دو لقمہ ضرور دے دے۔ کیونکہ اس نے اسے تیار کرنے کی ذمے داری نبھائی ہے
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا أتى أحدَكم خادمُه بطعامِه، فإنْ لم يُجلِسْه معه، فلْيُناوِلْهُ لُقمةً أو لُقْمَتَيْنِ أو أُكْلَة أو أُكْلَتَين، فإنه وَلِيَ عِلاجَه».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے سامنے کھانا حاضر کرے، تو اگر اسے اپنے ساتھ نہیں بیٹھاتا تو اسے ایک دو لقمہ ضرور دے دے۔ کیونکہ اس نے اسے تیار کرنے کی ذمے داری نبھائی ہے"۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ خادم یا غلام جب اپنے آقا کے لیے کھانا تیار کرے، تو مروت اور حسن سلوک کا تقاضا یہ ہے کہ آقا اسے اس کھانے کا کچھ حصہ کھانے کو دے، اسے بالکل محروم نہ رکھے۔ یہ مروت، شرافت اور حسن اخلاق کی بات نہیں ہوگی کہ جس نے اسے محنت سے تیار کرکے حاضر کیا، وہ اسے چکھنے سے رہ جائے۔ اس لیے اس کا دل رکھنے اور خواہش پوری کرنے کی خاطر کـچھ ضرور دینا چاہیے۔
حوالہ
- صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ.
- صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.
- بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية، الطبعة الأولى، 1435هـ - 2014م.
- توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ.
- تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة الأولى، 1427هـ - 2006م.
- منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي. ط1، 1428هـ.
- فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى، 1427ه.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com