سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

آپ نہ بد زبان تھے، نہ گندی باتوں اور کاموں میں پڑتے تھے، نہ بازاروں میں چیخ اور چلا کر بات کرنے والے تھے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے، بلکہ آپ معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے

عَن أَبي عَبْدِ اللهِ الْجَدَلِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمِّ المؤْمنينَ رَضيَ اللهُ عنها عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ: لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ.
ابو عبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے کہا: "آپ نہ بد زبان تھے، نہ گندی باتوں اور کاموں میں پڑتے تھے، نہ بازاروں میں چیخ اور چلا کر بات کرنے والے تھے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے، بلکہ آپ معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے"۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ابو عبد اللہ جدلی رحمہ اللہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے بتایا کہ آپ بڑے اونچے اخلاق کے مالک تھے۔ نہ بد زبان تھے کہ بری باتیں منہ سے نکالتے، نہ بہ تکلف اور نہ کم یا زیادہ بری باتوں اور کاموں میں پڑتے تھے اور نہ بازاروں میں چیخ کر باتیں کرکے بد خلقی کا مظاہرہ کرتے تھے، بلکہ ہر ایک کے ساتھ نرمی اور شفقت کا برتاو کرتے تھے۔ اگر کوئی بد سلوکی سے پیش آ بھی گیا، تو اس کے ساتھ بد سلوکی روا رکھنے کی بجائے معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے۔

حوالہ

سنن الترمذي (3/ 543) (2016). مسند أحمد (42/ 256) (25417). فتح الباري شرح صحيح البخاري، لابن حجر(6/ 575). إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، القسطلاني (9/ 30). معجم اللغة العربية المعاصرة (2/ 1629). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (9/ 3717).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com