ابو عبد اللہ جدلی رحمہ اللہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے بتایا کہ آپ بڑے اونچے اخلاق کے مالک تھے۔ نہ بد زبان تھے کہ بری باتیں منہ سے نکالتے، نہ بہ تکلف اور نہ کم یا زیادہ بری باتوں اور کاموں میں پڑتے تھے اور نہ بازاروں میں چیخ کر باتیں کرکے بد خلقی کا مظاہرہ کرتے تھے، بلکہ ہر ایک کے ساتھ نرمی اور شفقت کا برتاو کرتے تھے۔ اگر کوئی بد سلوکی سے پیش آ بھی گیا، تو اس کے ساتھ بد سلوکی روا رکھنے کی بجائے معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے۔
سنن الترمذي (3/ 543) (2016). مسند أحمد (42/ 256) (25417). فتح الباري شرح صحيح البخاري، لابن حجر(6/ 575). إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، القسطلاني (9/ 30). معجم اللغة العربية المعاصرة (2/ 1629). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (9/ 3717).