سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

قسم کھانا‘ سامان تجارت کی فروخت کا ذریعہ تو ہے مگر اس سے برکت ختم ہوجاتی ہے۔

عَن أَبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ، مَمْحَقَةٌ لِلرِّبْحِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قسم کھانا‘ سامان تجارت کی فروخت کا ذریعہ تو ہے مگر اس سے برکت ختم ہوجاتی ہے“۔
حدیث متفق علیہ اور یہ الفاظ ابو داؤد کے ہیں۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ قسم کھانے کو معمولی سمجھنے اور سامانِ تجارت کو بیچنے اور کمائی کرنے کی خاطر کثرت سے قسم کھانے سے ڈرا رہے ہیں۔ اس لیے کہ بائع جب کسی سامان پر جھوٹی قسم کھاتا ہے تو خریدنے والا بائع کی قسم کھانے کے سبب اسے اپنی قسم میں سچا سمجھتے ہوئے اس سامان کو زائد قیمت میں خرید لیتا ہے، چنانچہ اس کی پاداش میں برکت ختم ہو جاتی ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ منافع کے ساتھ ساتھ حقیقی قیمت بھی ضائع ہو جائے۔ یقیناً جو کچھ اللہ تعالی کے پاس ہے اسے اس کی نافرمانی کے ذریعہ حاصل نہیں کرسکتے۔ بکثرت قسم کھانا اللہ تعالی کی تعظیم میں کمی کرتی ہے جو کہ توحید کے منافی ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري (3/ 60) (2087). صحيح مسلم (3/ 1228) (1606). القول المفيد على كتاب التوحيد، لابن عثيمين (2/ 457). الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص404). الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص452).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
گفتگو اور خاموشی کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com