سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو کسی کی تعریف کرتے سنا، وہ اس کی تعریف میں مبالغہ کر رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا تم نے ہلاک کردیا یا فرمایا تم نے اس آدمی کی کمر توڑدی ہے۔

عن أبي موسى الأشعري - رضي الله عنه- قال: سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يُثْنِي على رجل ويُطْرِيهِ في المِدْحَةِ، فقال: «أَهْلَكْتُمْ -أو قَطَعْتُمْ- ظَهْرَ الرجل».
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو کسی کی تعریف کرتے سنا، وہ اس کی تعریف میں مبالغہ کر رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے تو اُسے ہلاک کردیا“ یا فرمایا: ”تم نے اس آدمی کی کمر توڑدی ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو سنا جو کسی کی تعریف کررہا تھا اور اس کی تعریف میں بہت زیادہ مبالغہ کررہا تھا جو اس کی صفات کا حصہ نہیں تھی، آپ ﷺ نے اسے منع کیا اور فرمایا یہ اس کی ہلاکت کا باعث ہے، اس لیے کہ اس تعریف کی وجہ سے اس میں تکبّر اور بڑکپن پیدا ہوتا ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، كنوز إشبيليا، الرياض، الطبعة: الأولى1430هـ، 2009م. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1418هـ، 1997م. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، الطبعة: الرابعة 1428هـ. شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبد العزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
گفتگو اور خاموشی کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com