سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”(قیامت کے دن ) مومن کے میزان میں خوش خلقی سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہو گی اور یقیناً اللہ تعالیٰ بے حیا اور فحش گو سے سخت نفرت کرتا ہے“۔

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُبْغِضُ الفَاحِشَ البَذِيءَ».
ابو دردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”(قیامت کے دن ) مومن کے میزان میں خوش خلقی سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہو گی اور یقیناً اللہ تعالیٰ بے حیا اور فحش گو سے سخت نفرت کرتا ہے“۔
رواه أبو داود والترمذيدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ قیامت کے دن مومن کے میزان میں اقوال و اعمال میں سب سے وزنی چيز ہوگی، حسن اخلاق۔ یاد رہے کہ حسن خلق نام ہے خندہ پیشانی کے ساتھ ملنے، اذیت رسانی سے بچنے اور بھلا کرنے کا۔ اللہ تعلی برے عمل اور برے قول والے اور بدزبانی سے کام لینے والے انسان سے نفرت کرتا ہے۔

فوائد
  1. حسن اخلاق کی فضیلت، کیوں کہ حسن اخلاق سے انسان کو اللہ اور اس کے بندوں کی محبت حاصل ہوتی ہے۔ حسن اخلاق قیامت کے دن وزن کی جانے والی سب سے عظیم چيز ہوگی۔
حوالہ

سنن أبي داود (7/ 177) (4799). سنن الترمذي (3/ 535) (2002). توضيح الأحكام من بلوغ المرام، لعبد الله البسام (7/ 487). منحة العلام شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 264). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 673). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص410). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (1/ 526).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اخلاقِ حمیدہ/ اچھے اخلاق

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com