سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

گفتگو میں ممنوعہ امور اور زبان کی تباہ کاریاں

9 احادیث

کوئی شخص تم میں سے موت کی آرزو نہ کرے، اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے کہ وہ نیکی میں اور زیادہ ہو اور اگر برا ہے تو ممکن ہے اس سے توبہ کر لے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه : أن رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قالَ: "لا يَتَمَنَّ أحَدُكَم الموتَ، إما مُحسِناً فلعلَّه يَزْدَادُ، وإما مُسِيئاً فلعلَّه يَسْتَعْتِبُ". وفي رواية قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا يَتَمَنَّ أحَدُكُم الموتَ، ولا يَدْعُ به من قبلِ أنَ يَأتيَه؛ إنه إذا ماتَ انقطعَ عملُهُ، وإنه لا يَزيدُ المؤمنَ عُمُرُهُ إلا خيراً".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص موت کی آرزو نہ کرے، اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے کہ وہ نیکی میں اور زیادہ ہو اور اگر برا ہے تو ممکن ہے اس سے توبہ کر لے“۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی موت کی خواہش نہ کرے اور اس کے خود آنے سے پہلے اس کے آنے کی دعا نہ کرے۔ کیوں کہ جب وہ مر جائے گا تو اس کا عمل منقطع ہوجائے گا جب کہ مومن کی عمر اس کی نیکیوں میں اضافہ ہی کرتی ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے“ یہاں ممانعت حرام ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ کیوں کہ موت کی آرزو کرنے میں اللہ کی قضاء پر عدمِ رضا کا پہلو ہوتا ہے جب کہ مومن پر فرض ہے کہ جب اسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ اس پر صبر کرے۔جب وہ کسی مصیبت پر صبر کرتا ہے تو اسے دو اہم باتیں حاصل ہوتی ہیں: اول: گناہ معاف ہوتے ہیں۔ انسان کو جب بھی کوئی دکھ، غم، تکلیف اور کوئی بھی ایسی شے پہنچتی ہے تو اللہ تعالی اس کے بدلے میں اس کےگناہ معاف کر دیتا ہے حتی کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو وہ بھی گناہ کا کفارہ بنتا ہے۔ دوم: اگر اسے اس بات کی توفیق حاصل ہو جائے کہ وہ اس پر اللہ سے اجر کا امید وار ہو اور اللہ کی خوشنودی کے لیے صبر کرے تو اسے ثواب ملتا ہے۔ جب کہ موت کی تمنا کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اللہ کے فیصلے پر صابر اور اس پر خوش نہیں ہے۔ نبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ اگر آدمی نیک لوگوں میں سے ہو گا تو زندگی کے باقی رہنے کی وجہ سے اس کے نیک اعمال میں اضافہ ہوگا۔ مومن جب بقید حیات رہتا ہے، چاہے تکلیف اور مصیبت میں ہی مبتلا ہو، اس کی نیکیاں بڑھتی رہتی ہیں۔ اگر وہ برا آدمی ہے اور اس نے کوئی برا عمل کیا ہوا ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ توبہ کر لے یعنی اللہ سے اس کی خوشنودی مانگ لے اور اس سے معذرت کر لے اور پھر اس کی موت آئے تو وہ اپنے گناہوں سے توبہ کر چکا ہو۔ چنانچہ موت کی آرزو نہ کرو کیوں کہ کوئی بھی حالت ہمیشہ باقی نہیں رہتی۔ پس چاہیے کہ انسان صبر کرے اور اس پر اجر کا طلب گار ہو۔ یہ محال ہے کہ ہمیشہ ایک ہی حالت رہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ موت کی تمنا اور دعا کرنے کی ممانعت میں یہ مفہوم ہے کہ موت کی وجہ سے عمل منقطع ہو جاتا ہے۔ زندگی کی وجہ سے عمل ہوتا ہے اور عمل ہی سے ثواب میں بڑھوتری ہوتی ہے۔ اگر کوئی عمل نہ بھی ہو تو تب بھی وحدانیت کے اقرار کا جاری رہنا سب سے افضل عمل ہے۔ یہاں یہ اشکال نہیں ہونا چاہیے کہ ہو سکتا ہے کہ اگر وہ شخص زندہ رہے تو العیاذ باللہ ایمان ہی سے پھر جائے کیوں کہ ایسا شاذ و نادر ہوتا ہے۔ جب ایمان کی تازگی دلوں کے ساتھ مل جاتی ہے تو پھر کوئی اسے ناپسند نہیں کرتا۔ اگر بالفرض ایسا ہو بھی جائے تو شاذ و نادر ہو گا۔ اللہ کے ازلی علم میں جس کا خاتمہ برا لکھا گیا ہے اس کا برا خاتمہ ہو کر ہی رہے گا چاہے اس کی عمر لمبی ہو یا مختصر۔ چنانچہ اس کے لیے موت کو جلدی طلب کرنے میں کوئی اچھائی نہ رہے۔ اس حدیث میں اشارۃً مومن كے لیے اس کے نیک کاموں پر اس کے لیے خوشخبری ہے جب کہ بدکار کو اس کے برے عمل سے ڈرایا گیا ہے۔ گویا کہ آپ ﷺ فرما رہے ہیں کہ نیک شخص کو موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسے اپنے نیک اعمال میں جُٹا رہنا چاہیے اور ان میں اور اضافہ کرنا چاہیے اور جو برا شخص ہو اسے بھی موت کی آرزو نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسے چاہیے کہ وہ برائی سے باز آجائے تاکہ کہیں برائی کرتے کرتے ہی اس کی موت نہ آ جائے۔چنانچہ ایسا شخص خطرے میں ہوتا ہے۔

حوالہ

بهجة شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبدالعزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ. الجمع بين الصحيحين؛ للإمام محمد بن فتوح الحميدي، تحقيق د. علي البواب، دار ابن حزم. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن-الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبدالله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. فتح الباري بشرح صحيح البخاري؛ للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، دار المعرفة-بيروت. كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

افسوس! تو نے تو اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی!

عن أبي بكرة رضي الله عنه : أن رجلًا ذكر عند النبي صلى الله عليه وسلم فأثنى عليه رجلٌ خيرًا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : «ويحك! قطعت عنق صاحبك» يقوله مرارًا: «إن كان أحدكم مادحا لا محالة فليقل: أحسب كذا وكذا إن كان يرى أنه كذلك وحسيبه الله، ولا يُزكَّى على الله أحد».
ابو بكره رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی مجلس میں ایک شخص کا ذکر آیا تو ایک دوسرے شخص نے اس کی تعریف کی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”افسوس! تو نے تو اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی!“ آپ ﷺ نے ایسا کئی مرتبہ کہا۔ (پھر فرمایا): ”اگر تم میں سے کسی کو کسی کی تعریف کرنا ہی ہو تو وہ کہے کہ میرے خیال میں وہ ایسے اور ایسے ہے، اگر وہ اسے ایسا سمجھتا ہو، باقی اس کا حساب لینے والا تو اللہ ہے۔ کسی کے بارے میں قطعیت کے ساتھ یہ نہ کہے کہ وہ اللہ کے ہاں بھی اچھا ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

حدیث شریف میں نبوی رہنمائی ہے؛ مسلمان تعریف کرنے میں مبالغہ آرائی سے دور رہتا ہے۔ غرور اور خود پسندی شیطان کے در آنے کے راستے ہیں اور ثنا خوانی اور تعریف میں مبالغہ ممدوح کو غرور اور تکبر میں مبتلا کردیتا ہے جس سے وہ ہلاکت کا شکار ہو جاتا ہے۔چنانچہ مسلمان اپنے ممدوح کی ثنا اور تعریف میں اعتدال سے کام لیتا ہے اور لوگوں کے معاملے کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے جو دلوں کی پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري -أبو عبد الله محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة الجعفي البخاري، تحقيق محمد زهير بن ناصر الناصر -الناشر : دار طوق النجاة -الطبعة : الأولى 1422هـ. صحيح مسلم المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د/ مصطفى الخن، د/ مصطفى البغا، محيي الدين مستو، علي الشربجي، محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، ط:الرابعة عشر1407 شرح رياض الصالحين، المؤلف : محمد بن صالح بن محمد العثيمين. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، تأليف محمد علي بن محمد علان. كنوز رياض الصالحين، تأليف حمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا، ط1-1430ه. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي. رياض الصالحين، تأليف محيي الدين النووي، تحقيق عصام موسى هادي، ط: وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية بدولة قطر. تطريز رياض الصالحين، تأليف فَيْصَلْ بنِ عَبْدِ العَزِيْزِ آل مُبَارَك.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بدترین نام اس شخص کا ہے، جو 'مَلِکَ الاَمْلاک' (شہنشاہ) نام رکھے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) مالک نہیں۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن أَخْنَعَ اسم عند الله رجل تسمى ملك الأملاك، لا مالك إلا الله». وفي رواية: «أَغْيَظُ رجل على الله يوم القيامة، وأخبثه وأَغْيَظُه عليه، رجل كان يسمى ملك الأملاك، لا مَلِكَ إلا الله». قال سفيان: «مثل شَاهَانْ شَاهْ»، وقال أحمد بن حنبل: سألت أبا عمرو عن أَخْنَع؟ فقال: «أَوْضَع».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین نام اس شخص کا ہے،جو 'مَلِکَ الاَمْلاک' نام رکھے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) مالک نہیں“۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں:”قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ ناراضگی کا سزاوار اور سب سے زیادہ خبیث وہ شخص ہوگا، جس کو دنیا میں 'مَلِکَ الاَمْلاک' کہا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بادشاہ نہیں“۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”جیسے شاہان شاہ“۔ احمد بن حنبل فرماتے ہیں میں نے ابو عَمرو سے اَخْنَع کے معنی دریافت کیے تو انھوں نے اس کے معنی”سب سے زیادہ گھٹیا“ بتلائے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ اس حدیث مبارک میں اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے کم تر اور حقیر وہ لوگ ہیں، جنھیں ایسے نام سے پکارا جاتا ہو، جس میں عظمت اور کبریائی کا معنی و مفہوم ہو، جوصرف اللہ تعالیٰ ہی کے ل لائق و زیبا ہے۔ جیسے 'ملک الاملاک' یعنی شہنشاہ؛ کیوںکہ اس طرح کے ناموں سےاللہ تعالیٰ سے مقابلہ آرائی کی بو آتی ہے۔ ایسے نام رکھنے والا یا تو خود اپنے حق میں یا دوسرے اس کے حق میں اللہ تعالی کے مد مقابل ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نام سے موسوم شخص، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور اس کے نزدیک سب سے زیادہ خبیث قرار پاتا ہے۔ اس حدیث میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ ومکروہ لوگوں میں سے ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ کائنات اور اس میں پائے جانے والے ہر قسم کے مالک و مملوک کا حقیقی مالک اللہ تبارک و تعالی ہی ہے۔ اس حدیث میں ان افراد کے لئے بھی موعظت اور نصیحت کا سامان ہے، جو مخصوص افراد کے لیے اسما اور القاب کا استعمال ان کے معانی اور تقاضوں کو سمجھے بغیر کرتے رہتے ہیںکہ کہیں وہ اس حدیث میں مذکور وعید کے مستحق و سزاوارنہ ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ ہی حقیقی مددگار ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري-المحقق : محمد زهير بن ناصر الناصر-الناشر : دار طوق النجاة-الطبعة : الأولى 1422هـ. -مسلم بن الحجاج-المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي-الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. القول المفيد على كتاب التوحيد، للشيخ محمد بن صالح العثيمين دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الثانية, محرم 1424ه. الملخص في شرح كتاب التوحيد، للشيخ صالح الفوزان، دار العاصمة الرياض، الطبعة: الأولى 1422هـ- 2001م. الجديد في شرح كتاب التوحيد، للشيخ محمد بن عبد العزيز القرعاوي، مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الخامسة، 1424هـ/2003م. المعجم الوسيط، مجمع اللغة العربية بالقاهرة،(إبراهيم مصطفى / أحمد الزيات / حامد عبد القادر / محمد النجار) - الناشر: دار الدعوة.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جس نے قسم کھائی اور اپنے قسم میں کہا: ”لات و عزیٰ کی قسم“، تو وہ لا الہ الا ﷲ کہے، اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں، تو وہ (بطور کفارہ) صدقہ کرے"۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ: وَاللَّاتِ وَالعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ، فَلْيَتَصَدَّقْ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جس نے قسم کھائی اور اپنے قسم میں کہا: ”لات و عزیٰ کی قسم“، تو وہ لا الہ الا ﷲ کہے، اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں، تو وہ (بطور کفارہ) صدقہ کرے"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم غیر اللہ کی قسم کھانے سے خبردار کر رہے ہیں۔ کیوں کہ مومن قسم صرف اللہ کی کھاتا ہے۔ آپ بتا رہے ہیں کہ جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، جیسے وہ جس نے لات و عزی، جو دور جاہلیت میں پوجے جانے والے دو بت ہیں، کی قسم کھائی، اس کے بعد اس کے اوپر لا الہ الا اللہ کہنا، شرک سے اپنی براءت کا اعلان کرنے کے لئے اور اس قسم کے کفارہ کے طور پر چاہیے۔ اس کے بعد آپ نے بتایا کہ جس نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ جوا کھیلیں (جوا نام ہے دو یا دو سے زیادہ لوگوں کا اس شرط کے ساتھ مقابلے میں شریک ہونے کا کہ ان کے درمیان کوئی مال ہو اور مقابلہ جیتنے والا مال لے جائے گا۔ انسان اس میں یا تو جیتتا ہے یا پھر ہارتا ہے)، اس کے لیے کچھ نہ کچھ صدقہ کرنا مستحب ہے، تاکہ جوا کی دعوت دینے کی وجہ سے جو گناہ ہوا ہے، اس کا کفارہ ہو جائے۔

فوائد
  1. قسم بس اللہ اور اس کے اسما و صفات کی کھانا جائز ہے۔
  2. غیراللہ کی قسم کھانا حرام ہے۔ قسم خواہ بتوں جیسے لات و عزی کی کھائی جائے، یا امانت کی کھائی جائے، یا نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی کھائی جائے یا کسی اور کی۔
  3. خطابی کہتے ہیں: قسم بس عظیم معبود کی کھائی جانی چاہیے۔ اس لیے اگر کسی نے لات وغیرہ کی قسم کھا ئی، تو اس نے کفار کے جیسا کام کیا۔ اسى لئے اسے یہ حکم دیا گیا کہ وہ تدارک کے طور پر کلمۂ توحید پڑھ لے۔
  4. غیراللہ کی قسم کھانے والے کو قسم کا کفارہ نہیں دینا ہے۔ اسے اللہ کے حضور توبہ واستغفار کرنا ہے۔ کیوں کہ یہ گناہ اتنا بڑا ہے کہ اسے توبہ کے علاوہ کوئی چيز نہیں مٹا سکتی۔
  5. قمار کی ساری صورتیں اور شکلیں حرام ہیں۔ قمار وہی میسر (جوا) ہے، جسے اللہ نے حرام کیا ہے اور شراب اور بتوں کے ساتھ یکجا بیان کیا ہے۔
  6. گناہ ہو جانے کی صورت میں اس سے واپس لوٹنا (یعنى توبہ کرنا) واجب ہے۔
  7. جو شخص گناہ میں پڑ جائے اسے چاہیے کہ اس کے بعد نیکی کرے؛ کیونکہ نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔
حوالہ

صحيح البخاري (6/ 141) (4860). صحيح مسلم (3/ 1268) (1647). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين (2/1228). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (3/ 273).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

صدّیق کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ بہت زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا ينبغي لصِدِّيق أن يكون لعَّانًا».
ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صدّیق کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ بہت زیادہ لعنت کرنے والا ہو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

بہت زیادہ لعنت کرنا صدیقیت کے درجے کے منافی ہے جو کہ نبوت کے بعد سب سے بلند ترین درجہ ہے جس سے بندۂ مومن اللہ تعالی کے قریب جا سکتا ہے، لعن وطعن سے بچنا اس درجہ کو پانے کے وسائل میں سے ہے۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى 1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي. - كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى 1430ه. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد علي بن محمد بن علان بن إبراهيم البكري الصديقي الشافعي اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة. - مفتاح دار السعادة ومنشور ولاية العلم والإرادة، لمحمد لن أبي بكر الزرعي ابن قيم الجوزية، دار الكتب العلمية، بيروت. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اس اونٹنی پر جو کچھ ہے اسے لے لو اور اسے چھوڑ دو، کیونکہ وہ لعنت زدہ ہے۔

عن عمران بن الحصين رضي الله عنهما ، قال: بينما رسولُ الله صلى الله عليه وسلم في بعض أَسْفَارِه، وامرأة من الأنصار على ناقة، فضَجِرَتْ فلَعَنَتْهَا، فسمع ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «خُذُوا ما عليها ودَعُوهَا؛ فإنها مَلْعُونَةٌ»، قال عمران: فكَأَنِّي أراها الآن تمشي في الناس ما يَعْرِضُ لها أحد".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے کسی سفر میں تھے اور انصار کی ایک عورت اونٹنی پر سوار تھی، تو (اچانک) وہ اونٹنی بدکنے لگی تو اس عورت نے اس پر لعنت بھيجی۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے سن کر فرمایا: ”اس اونٹنی پر جو کچھ ہے اسے لے لو اور اسے چھوڑ دو، کیونکہ وہ ملعونہ (لعنت زدہ) ہے“۔ عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : گویا کہ میں اب بھی اس اونٹنی کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ لوگوں کے درمیان چل رہی ہے اور کوئی آدمی اس سے تعرض نہیں کر رہا ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بيان کر تے ہيں کہ انصار کی ایک عورت اپنی اونٹنی پر سوار تھی تو وہ عورت اس اونٹنی کی وجہ سے تھک گئی اور اکتا گئی۔ چنانچہ اس عورت نے کہا کہ تجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے سن لیا تو آپ ﷺ نے حکم ديا کہ اس اونٹنی پر جو کجاوہ اور سامان ہےاسے لے ليا جائے، پھر اسے چھوڑ ديا جائے، کیونکہ اس پر لعنت بھیجی گئی ہے۔ عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس اونٹنی کو ديکھا کہ وہ لوگوں کے درمیان چل رہی ہے اور کوئی آدمی اس سے تعرض نہیں کر رہا ہے، کيونکہ نبی ﷺ نے حکم دے ديا تھا کہ اسے چھوڑ ديا جائے۔

حوالہ

1- رياض الصالحين للنووي، تحقيق: ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، ط1، 2007م. 2- نزهة المتقين شرح رياض الصاحين: شرح الدكتور مصطفى الخن وآخرين، مؤسسة الرسالة، ط1، 1987م. 3- كنوز رياض الصالحين، المجلس العلمي كنوز دار إشبيليا، الرياض، ط1، 2009م. 4- صحيح مسلم بتحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. 5- شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، مؤسسة ابن عثيمين الخيرية، مدار الوطن للنشر، الرياض، ط1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب آدمی یہ کہتا ہے کہ لوگ ہلاک ہوگیے تو سمجھ لو کہ وہ ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إذا قال الرَّجُل: هَلَكَ الناس، فهو أَهْلَكُهُم».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب آدمی یہ کہتا ہے کہ لوگ ہلاک ہوگیے تو سمجھ لو کہ وہ ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

”جب آدمی یہ کہتا ہے کہ لوگ ہلاک ہو گئے“ اس سے اس کی مراد لوگوں کی تنقیص و تحقیر کرنا اور اپنی برتری جتانا اور اپنے آپ کو ان سے بالاتر سمجھنا ہو تو وہ خود ان سے زیادہ تباہ و برباد ہو گیا۔ یہ معنی اس صورت میں ہے جب أهلكُهم میں کاف کو پیش کے ساتھ پڑھا جائے۔اور اگر نصب کےساتھ أهلكَهم پڑھا جائے تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ :یہ لوگوں کی ہلاکت کا سبب بن گیا اور وہ اس طرح کہ اس نے لوگوں کو اللہ کی رحمت سے ناامید اور مایوس کر دیا اور ان کو توبہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے سے روک دیا اور جن کاموں پر وہ لگے ہوئے ہیں ناامیدی کی وجہ سے وہ اسی پر گامزن رہے یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو گیے۔

حوالہ

نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر 1407هـ، 1987م. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، كنوز إشبيليا، الرياض، الطبعة: الأولى1430هـ، 2009م. بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ، 2007م. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، محمد علي بن البكري بن علان، نشر دار الكتاب العربي، نسخة الكترونية ، لا يوجد بها بيانات نشر. شرح رياض الصالحين، محمد بن صالح العثيمين، دار الوطن، الرياض، الطبعة: 1426هـ. مجالس التذكير من حديث البشير النذير، عبد الحميد محمد بن باديس الصنهاجي، الناشر: مطبوعات وزارة الشؤون الدينية، الطبعة: الأولى 1403هـ، 1983م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

منافق کو سید (یعنی آقا) نہ کہو کیوں کہ اگر وہ (حقیقت میں) سید ہے بھی تو (تب بھی ایسا کہہ کر) تم اپنے رب کو ناراض کرو گے۔

عن بُريدة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا تقولوا للمُنَافق سَيِّدٌ، فإنه إن يَكُ سَيِّدًا فقد أسْخَطْتُمْ ربكم عز وجل ».
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ”منافق کو سید (یعنی آقا) نہ کہو کیوں کہ اگر وہ (حقیقت میں) سید ہے بھی تو (تب بھی ایسا کہہ کر) تم اپنے رب کو ناراض کرو گے“۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم: منافق اگر کسی اعتبار سے اپنی قوم کا سردار اور سرکردہ شخص ہو اور آپ اسے سید یعنی آقا کہہ کر پکاریں تو ایسا کرنے سے آپ اللہ تعالی کی ناراضگی مول لیں گے کیوں کہ ایسا کہنے میں اس کی تعظیم ہوتی ہے حالاں کہ وہ ان افراد میں سے ہے جو تعظیم کے مستحق نہیں ہوتے۔ اور اگر وہ اپنی قوم کا سردار یا سرکردہ شخص نہ ہوا تو ایسا کہنا جھوٹ اور منافقت کے زمرے میں آئے گا۔ چنانچہ دونوں ہی صورتوں میں منافق کے لیے سید یعنی آقا کا لفظ استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے اور یہی حال کافر، فاسق اور بدعتی شخص کا ہے۔ ایسا شخص بالکل بھی اس بات کا مستحق نہیں کہ اس کے لیے سید (سردار) کا لفظ بولا جائے۔ یہ ممانعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد آنے والے تمام لوگوں کے لیے عام ہے، عہد صحابہ میں منافقوں کی دو قسمیں تھی: ایک وہ منافق جنہیں صرف اللہ کے رسول ﷺ اور آپ کے رازدان حذیفہ رضی اللہ عنہ جانتے تھے، دوسری قسم ان منافقوں کی تھی کہ جن کے نفاق کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جانتے تھے جیسے عبد اللہ بن اُبی۔ اسی دوسری قسم پر یہ حدیث منطبق ہوتی ہے۔

حوالہ

نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ. كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ. بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، تأليف: علي بن سلطان القاري، الناشر: دار الفكر، الطبعة: الأولى، 1422هـ. سنن أبي داود، تأليف: سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا. رياض الصالحين، تأليف: محيي الدين يحيى بن شرف النووي، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل، الطبعة: الأولى، 1428 هـ. شرح سنن أبي داود، تأليف: عبد المحسن بن حمد بن عبد المحسن العباد، نسخة الإلكترونية. شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 هـ. مشكاة المصابيح، تأليف: محمد بن عبد الله التبريزي، تحقيق: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي، الطبعة: الثالثة، 1985م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
9 میں سے 8
9 احادیث
  1. کوئی شخص تم میں سے موت کی آرزو نہ کرے، اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے کہ وہ نیکی میں اور زیادہ ہو اور اگر برا ہے تو ممکن ہے اس سے توبہ کر لے۔
  2. افسوس! تو نے تو اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی!
  3. اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بدترین نام اس شخص کا ہے، جو 'مَلِکَ الاَمْلاک' (شہنشاہ) نام رکھے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) مالک نہیں۔
  4. جس نے قسم کھائی اور اپنے قسم میں کہا: ”لات و عزیٰ کی قسم“، تو وہ لا الہ الا ﷲ کہے، اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں، تو وہ (بطور کفارہ) صدقہ کرے"۔
  5. صدّیق کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ بہت زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔
  6. اس اونٹنی پر جو کچھ ہے اسے لے لو اور اسے چھوڑ دو، کیونکہ وہ لعنت زدہ ہے۔
  7. جب آدمی یہ کہتا ہے کہ لوگ ہلاک ہوگیے تو سمجھ لو کہ وہ ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔
  8. منافق کو سید (یعنی آقا) نہ کہو کیوں کہ اگر وہ (حقیقت میں) سید ہے بھی تو (تب بھی ایسا کہہ کر) تم اپنے رب کو ناراض کرو گے۔
  9. چار خصلتیں جس شخص کے اندر ہوں گی، وہ خالص منافق ہوگا۔ جس کے اندر ان میں سے ایک خصلت ہوگی، اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہوگی، جب تک کہ اسے چھوڑ نہ دے : جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب معاہدہ کرے تو دھوکہ دے دے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب جھگڑے تو بد زبانی کرے۔

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com