سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اس اونٹنی پر جو کچھ ہے اسے لے لو اور اسے چھوڑ دو، کیونکہ وہ لعنت زدہ ہے۔

عن عمران بن الحصين رضي الله عنهما ، قال: بينما رسولُ الله صلى الله عليه وسلم في بعض أَسْفَارِه، وامرأة من الأنصار على ناقة، فضَجِرَتْ فلَعَنَتْهَا، فسمع ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «خُذُوا ما عليها ودَعُوهَا؛ فإنها مَلْعُونَةٌ»، قال عمران: فكَأَنِّي أراها الآن تمشي في الناس ما يَعْرِضُ لها أحد".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے کسی سفر میں تھے اور انصار کی ایک عورت اونٹنی پر سوار تھی، تو (اچانک) وہ اونٹنی بدکنے لگی تو اس عورت نے اس پر لعنت بھيجی۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے سن کر فرمایا: ”اس اونٹنی پر جو کچھ ہے اسے لے لو اور اسے چھوڑ دو، کیونکہ وہ ملعونہ (لعنت زدہ) ہے“۔ عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : گویا کہ میں اب بھی اس اونٹنی کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ لوگوں کے درمیان چل رہی ہے اور کوئی آدمی اس سے تعرض نہیں کر رہا ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بيان کر تے ہيں کہ انصار کی ایک عورت اپنی اونٹنی پر سوار تھی تو وہ عورت اس اونٹنی کی وجہ سے تھک گئی اور اکتا گئی۔ چنانچہ اس عورت نے کہا کہ تجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے سن لیا تو آپ ﷺ نے حکم ديا کہ اس اونٹنی پر جو کجاوہ اور سامان ہےاسے لے ليا جائے، پھر اسے چھوڑ ديا جائے، کیونکہ اس پر لعنت بھیجی گئی ہے۔ عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس اونٹنی کو ديکھا کہ وہ لوگوں کے درمیان چل رہی ہے اور کوئی آدمی اس سے تعرض نہیں کر رہا ہے، کيونکہ نبی ﷺ نے حکم دے ديا تھا کہ اسے چھوڑ ديا جائے۔

حوالہ

1- رياض الصالحين للنووي، تحقيق: ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، ط1، 2007م. 2- نزهة المتقين شرح رياض الصاحين: شرح الدكتور مصطفى الخن وآخرين، مؤسسة الرسالة، ط1، 1987م. 3- كنوز رياض الصالحين، المجلس العلمي كنوز دار إشبيليا، الرياض، ط1، 2009م. 4- صحيح مسلم بتحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت. 5- شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، مؤسسة ابن عثيمين الخيرية، مدار الوطن للنشر، الرياض، ط1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
گفتگو میں ممنوعہ امور اور زبان کی تباہ کاریاں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com