نبی کریم ﷺ اس حدیث مبارک میں اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے کم تر اور حقیر وہ لوگ ہیں، جنھیں ایسے نام سے پکارا جاتا ہو، جس میں عظمت اور کبریائی کا معنی و مفہوم ہو، جوصرف اللہ تعالیٰ ہی کے ل لائق و زیبا ہے۔ جیسے 'ملک الاملاک' یعنی شہنشاہ؛ کیوںکہ اس طرح کے ناموں سےاللہ تعالیٰ سے مقابلہ آرائی کی بو آتی ہے۔ ایسے نام رکھنے والا یا تو خود اپنے حق میں یا دوسرے اس کے حق میں اللہ تعالی کے مد مقابل ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نام سے موسوم شخص، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور اس کے نزدیک سب سے زیادہ خبیث قرار پاتا ہے۔ اس حدیث میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ ومکروہ لوگوں میں سے ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ کائنات اور اس میں پائے جانے والے ہر قسم کے مالک و مملوک کا حقیقی مالک اللہ تبارک و تعالی ہی ہے۔ اس حدیث میں ان افراد کے لئے بھی موعظت اور نصیحت کا سامان ہے، جو مخصوص افراد کے لیے اسما اور القاب کا استعمال ان کے معانی اور تقاضوں کو سمجھے بغیر کرتے رہتے ہیںکہ کہیں وہ اس حدیث میں مذکور وعید کے مستحق و سزاوارنہ ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ ہی حقیقی مددگار ہے۔
صحيح البخاري-المحقق : محمد زهير بن ناصر الناصر-الناشر : دار طوق النجاة-الطبعة : الأولى 1422هـ. -مسلم بن الحجاج-المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي-الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. القول المفيد على كتاب التوحيد، للشيخ محمد بن صالح العثيمين دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الثانية, محرم 1424ه. الملخص في شرح كتاب التوحيد، للشيخ صالح الفوزان، دار العاصمة الرياض، الطبعة: الأولى 1422هـ- 2001م. الجديد في شرح كتاب التوحيد، للشيخ محمد بن عبد العزيز القرعاوي، مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الخامسة، 1424هـ/2003م. المعجم الوسيط، مجمع اللغة العربية بالقاهرة،(إبراهيم مصطفى / أحمد الزيات / حامد عبد القادر / محمد النجار) - الناشر: دار الدعوة.