سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بدترین نام اس شخص کا ہے، جو 'مَلِکَ الاَمْلاک' (شہنشاہ) نام رکھے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) مالک نہیں۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن أَخْنَعَ اسم عند الله رجل تسمى ملك الأملاك، لا مالك إلا الله». وفي رواية: «أَغْيَظُ رجل على الله يوم القيامة، وأخبثه وأَغْيَظُه عليه، رجل كان يسمى ملك الأملاك، لا مَلِكَ إلا الله». قال سفيان: «مثل شَاهَانْ شَاهْ»، وقال أحمد بن حنبل: سألت أبا عمرو عن أَخْنَع؟ فقال: «أَوْضَع».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین نام اس شخص کا ہے،جو 'مَلِکَ الاَمْلاک' نام رکھے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) مالک نہیں“۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں:”قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ ناراضگی کا سزاوار اور سب سے زیادہ خبیث وہ شخص ہوگا، جس کو دنیا میں 'مَلِکَ الاَمْلاک' کہا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بادشاہ نہیں“۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”جیسے شاہان شاہ“۔ احمد بن حنبل فرماتے ہیں میں نے ابو عَمرو سے اَخْنَع کے معنی دریافت کیے تو انھوں نے اس کے معنی”سب سے زیادہ گھٹیا“ بتلائے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ اس حدیث مبارک میں اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے کم تر اور حقیر وہ لوگ ہیں، جنھیں ایسے نام سے پکارا جاتا ہو، جس میں عظمت اور کبریائی کا معنی و مفہوم ہو، جوصرف اللہ تعالیٰ ہی کے ل لائق و زیبا ہے۔ جیسے 'ملک الاملاک' یعنی شہنشاہ؛ کیوںکہ اس طرح کے ناموں سےاللہ تعالیٰ سے مقابلہ آرائی کی بو آتی ہے۔ ایسے نام رکھنے والا یا تو خود اپنے حق میں یا دوسرے اس کے حق میں اللہ تعالی کے مد مقابل ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نام سے موسوم شخص، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور اس کے نزدیک سب سے زیادہ خبیث قرار پاتا ہے۔ اس حدیث میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ ومکروہ لوگوں میں سے ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ کائنات اور اس میں پائے جانے والے ہر قسم کے مالک و مملوک کا حقیقی مالک اللہ تبارک و تعالی ہی ہے۔ اس حدیث میں ان افراد کے لئے بھی موعظت اور نصیحت کا سامان ہے، جو مخصوص افراد کے لیے اسما اور القاب کا استعمال ان کے معانی اور تقاضوں کو سمجھے بغیر کرتے رہتے ہیںکہ کہیں وہ اس حدیث میں مذکور وعید کے مستحق و سزاوارنہ ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ ہی حقیقی مددگار ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري-المحقق : محمد زهير بن ناصر الناصر-الناشر : دار طوق النجاة-الطبعة : الأولى 1422هـ. -مسلم بن الحجاج-المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي-الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. القول المفيد على كتاب التوحيد، للشيخ محمد بن صالح العثيمين دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الثانية, محرم 1424ه. الملخص في شرح كتاب التوحيد، للشيخ صالح الفوزان، دار العاصمة الرياض، الطبعة: الأولى 1422هـ- 2001م. الجديد في شرح كتاب التوحيد، للشيخ محمد بن عبد العزيز القرعاوي، مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الخامسة، 1424هـ/2003م. المعجم الوسيط، مجمع اللغة العربية بالقاهرة،(إبراهيم مصطفى / أحمد الزيات / حامد عبد القادر / محمد النجار) - الناشر: دار الدعوة.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
گفتگو میں ممنوعہ امور اور زبان کی تباہ کاریاں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com