سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو سارے اعضاء زبان کے سامنے عاجزی کے ساتھ التجا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر۔ ہم تجھ سے متعلق ہیں۔ اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا أصْبَح ابن آدَم، فإن الأعضاء كلَّها تَكْفُرُ اللِّسان، تقول: اتَّقِ الله فِينَا، فإنَّما نحن بِك؛ فإن اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا، وإن اعْوَجَجْت اعْوَجَجْنَا».
ابو سعيد خدري رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو سارے اعضاء زبان کے سامنے عاجزی کے ساتھ التجا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر۔ ہم تجھ سے متعلق ہیں۔ اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم: جسم کے تمام اعضاء زبان کے سامنے اظہار عجزو انکساری کرتے ہیں اور وہ اس کے تابع ہیں ۔ اسی لیے بندہ جب صبح کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں: ”ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرو ہم تجھ سے متعلق ہیں“۔ انسان کے اعضاء میں سے سب سے خطرناک زبان ہے۔ اگر یہ ٹھیک رہے تو اس کے تمام اعضاء ٹھیک رہتے ہیں اور اس کے باقی تمام اعمال درست ہو جاتے ہیں اور اگر اس میں کچھ کجی آجائے تو تمام اعضاء میں کجی آ جاتی ہے اور انسان کے بقیہ اعمال بھی فاسد ہوجاتے ہیں۔انس - رضی اللہ عنہ- سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بندے کا ایمان اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتا جب تک اس کا دل ٹھیک نہ ہوجائے اور اس کا دل اس وقت ٹھیک نہیں ہوتا جب تک اس کی زبان ٹھیک نہ ہو جائے“۔ اس موضوع پر بہت سی ایسی احادیث ہیں جو زبان کی اہمیت پر دلالت کرتی ہیں بایں طور کہ زبان یا تو اس شخص کے لیے باعثِ سعادت ہوتی ہے اور یا پھر اس کے لیے باعثِ مصیبت ہوتی ہے۔ اگر وہ اسے اللہ کی اطاعت میں لگا دے تو وہ اس کے لیے دنیا و آخرت کی سعادت بن جاتی ہے اور اگر اسے ایسے کام میں لگا دے جس میں اللہ کی رضا نہ ہو تو وہ دنیا و آخرت میں اس کے لیے باعثِ حسرت بن جائے گی۔

حوالہ

دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425 ه. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415ه. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ. تطريز رياض الصالحين للشيخ فيصل المبارك، ط1، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة، الرياض، 1423هـ. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425هـ. رياض الصالحين للنووي، ط1، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، 1428هـ. رياض الصالحين، ط4، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، 1428هـ. شرح رياض الصالحين للشيخ ابن عثيمين، دار الوطن للنشر، الرياض، 1426هـ. صحيح البخاري، ط1، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. صحيح الجامع الصغير وزيادته للألباني، ط3، المكتب الإسلامي، بيروت، 1408هـ. مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح للقاري، ط1، دار الفكر، بيروت، 1422هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ. سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها للألباني، مكتبة المعارف، ط1، الرياض، 1422هـ. صحيح الترغيب والترهيب للألباني، ط5، مكتبة المعارف - الرياض. جامع الترمذي، تحقيق وتعليق: أحمد محمد شاكر وآخرون، مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، ط2، مصر، 1395 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
گفتگو اور خاموشی کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com