سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

تلاوت قرآن کے آداب

3 احادیث

حافظ قرآن کی مثال رسی سے بندھے ہوئے اونٹ جیسی ہے۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ القُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الإِبِلِ المُعَقَّلَةِ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حافظ قرآن کی مثال رسی سے بندھے ہوئے اونٹ جیسی ہے، اگر اس نے ان کی نگہداشت کی، تو وہ انھیں قابو میں رکھے گا اور اگر انھیں چھوڑ دے گا، تو وہ چلے جائیں گے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

”صاحب قرآن کی مثال“ یعنی قرآن مجید کو یاد کرتے ہوئے دل و دماغ میں راسخ کرنے والا۔ ”رسی سے بندھے ہوئے اونٹ کے مالک جیسی ہے“ اس کے بعد آپ ﷺ نے اس تشبیہ کی وجہ شبہ واضح فرمائی کہ ”اگر وہ اس کو اپنی نگہداشت میں رکھے گا“ یعنی ہمیشہ اس کو باندھ کر رکھے گا، اس کو بار بار دیکھتا رہے گا اور اس کے حال سے باخبر و چوکنا رہے گا ”تو اسے اپنی ملکیت و قبضہ میں رکھ سکے گا“ اور اگر اس کو شتر بے مہار چھوڑ دے کا، تو وہ بھاگ جائے گا۔ یہی حال حافظ قرآن کا ہے کہ اگر وہ مداومت کے ساتھ روزانہ اس کی تلاوت کرے اور اس کو بار بار دہراتا رہے، تو یہ اس کے دل و دماغ میں راسخ و جاگزیں ہوجائے گا اور اگر اس کو طاق نسیان کی نذر کردے، تو دل و دماغ سے رخصت ہوجائے گا اور بھلا دیا جائے گا اور بعد ازاں اس کو دوبارہ حفظ کرنے کے لیے کافی مشقت اور تکان جھیلنی پڑے گی۔ چنانچہ جس قدر قرآن مجید کی حفاظت کا خیال رکھا جائے، اسی لحاظ سے وہ باقی رہے گا، جیسے اونٹ کو جب تک پابہ زنجیر رکھاجائے، محفوظ ہے۔ یہاں اونٹ کو خاص طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ گھریلو جانوروں میں سب سے زیادہ تیزی سے بدکنے والا جانور ہے اور اس کے بھاگ جانے کے بعد اس کو پانا بہت ہی مشکل امر ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري (6/ 193) (5031). صحيح مسلم (1/ 543) (789). شرح صحيح مسلم، للنووي (6/ 77). فيض القدير شرح الجامع الصغير، لعبدالرؤوف المناوي (3/ 3). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (13/ 12).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

قرآن کو اونچی آواز سے پڑھنے والا ایسے ہے، جیسے کوئی دکھا کر صدقہ کرے اور دھیمی آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے، جیسے کوئی مخفی طور پر صدقہ دے"۔

عن عُقبة بن عامر الجُهني رضي الله عنه قال: قال رسولُ الله صلَّى الله عليه وسلم: «الجاهِرُ بالقرآن كالجاهِرِ بالصَّدَقَةِ، والمُسِرُّ بالقرآن كالمُسِرِّ بالصَّدَقَة».
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قرآن کو اونچی آواز سے پڑھنے والا ایسے ہے، جیسے کوئی دکھا کر صدقہ کرے اور دھیمی آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے، جیسے کوئی مخفی طور پر صدقہ دے"۔
رواه أبو داود والترمذي والنسائيدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ بلند آواز سے تلاوت کرنے والا علانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور پست آواز سے قرآن کی تلاوت کرنے والا مخفی طور پر صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔

فوائد
  1. مخفی طور پر قرآن کی تلاوت کرنا افضل ہے، جس طرح مخفی طور پر صدقہ کرنا افضل ہے، کیوں کہ اس میں اخلاص ہوتا ہے اور ریا ونمود اور خود پسندی کا امکان نہیں رہتا، الا یہ کہ بلند آواز سے تلاوت کرنے کی ضرورت درپیش ہو، مثلا قرآن کی تعلیم کی غرض سے۔
حوالہ

سنن أبي داود (2/ 494) (1333)، سنن الترمذي (5/ 40) (2919)، سنن النسائي (5/ 80) (2561)، الكاشف عن حقائق السُّنن (5/1688)، شرح أبي داود للعيني (5/238)، تحفة الأحوذي (8/ 191)، التنوير في شرح الجامع الصغير (5/286).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

’’خبردار! تم سب کے سب اپنے رب سے مناجات کر رہے ہو، لہٰذا تم میں سے کوئی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائے

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي المَسْجِدِ، فَسَمِعَهُمْ يَجْهَرُونَ بِالقِرَاءَةِ، فَكَشَفَ السِّتْرَ، فَقَالَ: «أَلَا إِنَّ كُلَّكُمْ مُنَاجٍ رَبَّهُ، فَلَا يُؤْذِيَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَلَا يَرْفَعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي القِرَاءَةِ»، أَوْ قَالَ: «فِي الصَّلَاةِ».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ مسجد میں معتکف تھے، آپ نے لوگوں کو بلند آواز سے قراءت کرتے ہوئے سنا تو پردہ اٹھایا اور فرمایا: ’’خبردار! تم سب کے سب اپنے رب سے مناجات کر رہے ہو، لہٰذا تم میں سے کوئی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائے اور نہ کوئی قراءت میں اپنی آواز دوسرے پر بلند کرے۔‘‘ یا فرمایا: ’’نماز میں‘‘۔
رواه أبو داوددرجہصحيح
تشریح

نبی ﷺ اپنی مسجد کے اندر ایک خیمے میں اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے معتکف تھے، تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو بہت اونچی آواز سے قرآن پڑھتے ہوئے سنا، جس سے وہ ایک دوسرے کو تکلیف پہنچا رہے تھے۔ چنانچہ آپ نے خیمے سے پردہ ہٹایا اور ایسا کرنے والے کو ملامت کی اور اس پر عتاب فرمایا۔ پھر فرمایا: ”تم سب قرآن پڑھ کر اپنے رب سے مناجات کرتے ہو، لہٰذا تم میں سے کوئی دوسرے کو ایذا نہ دے، اور نہ کوئی قراءت میں یا نماز میں اپنی آواز دوسرے پر بلند کرے۔“

فوائد
  1. قرآن کی تلاوت میں آواز بلند کرنے کی ممانعت، اگر اس سے کسی کو اذیت پہنچ رہی ہو۔
  2. اللہ کے نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو تلاوتِ قرآن کے آداب سکھائے۔
حوالہ

سنن أبي داود (2/ 494) (1332). شرح سنن أبي داود للعباد (162/ 18). شرح أبي داود للعيني (5/238). شرح سنن ابي داود لابن رسلان (6/515). ذخيرة العقبى (11/669).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com