سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اختلاف رائے کے آداب

2 احادیث

جس نے اپنے بھائی کو ایک سال تک چھوڑے رکھا تو اس کا ایسا کرنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔

عن أبي خِراش حَدْرَدِ بن أبي حَدْرَدٍ الأسْلَمِي رضي الله عنه مرفوعاً: «من هَجَر أخَاه سَنَة فهو كَسَفْكِ دَمِهِ».
ابو خراش حدرد ابن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے بھائی کو ایک سال تک چھوڑے رکھا تو اس کا ایسا کرنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

جس نے اپنے کسی بھائی سے کسی شرعی غرض کے علاوہ کسی اور وجہ سے قطع تعلقی کر لی اور یہ قطع تعلقی ایک سال تک چلتی رہی تو اس کے لیے سزا واجب ہو گئی جیسے اس کے خون بہانے سے سزا واجب ہو جاتی ہے یعنی تعزیزی سزا جو قاضی کی صواب دید پر ہو گی۔ ایسا اس لیے ہے تاکہ وہ اس سے باز آ جائے اور دوسروں کو اس سے تنبیہ ہو۔ تاہم اگر یہ قطع تعلقی کسی شرعی غرض سے ہو جیسے اہلِ بدعت اور فاسق لوگوں سے قطعِ تعلقی تو اس صورت میں مناسب یہ ہے کہ ہمیشہ جاری رہے جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلیں اور حق کی طرف نہ لوٹ آئیں۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار ، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. رياض الصالحين، تأليف : محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ صحيح البخاري، تأليف: محمد بن إسماعيل البخاري، تحقيق: محمد زهير الناصر، الناشر: دار طوق النجاة الطبعة: الأولى، 1422هـ دليل الفالحين، تأليف: محمد بن علان، الناشر: دار الكتاب العربي. شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 هـ سلسلة الأحاديث الصحيحة ، تأليف: محمد ناصر الدين الألباني ، الناشر: مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى، "لمكتبة المعارف".

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مارے، تو چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے۔

عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ أخاه فَلْيَجْتَنِب الوجْهَ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مارے، تو چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو تادیب وتعزیر کے لیے، اللہ تعالیٰ کے حدود میں سے کسی حد کی تنفیذ میں یا لڑائی وغیرہ میں کوئی کسی شخص کو مارے، تو وہ اس کے چہرے پر ہر حال میں دور رہے۔ چاہے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کی تنفیذ کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ بنو آدم کا چہرہ کرامت و بزرگی والا اور سب سے اچھا عضو ہے۔ چہرہ وہ جگہ ہے، جس کے ذریعے کسی سے سامنا ہوتا ہے اور اس پر مارنے سےیا تو اس کا کوئی حصہ تلف ہوگا یا اس کے کسی حصے میں بگاڑ پیدا ہوگا۔ اس لیے اس سے بچنا واجب اور چہرے پر مارنا حرام ہے؛ خواہ حق کے طور پر ہو یا ظلم کے طور پر ہو۔

حوالہ

- صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، (1422ه). - صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. - تسهيل الالمام، للشيخ صالح الفوزان. طبعة الرسالة. الطبعة الأولى 1427 – 2006 م - فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى 1427 - 2006م - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام. مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة. الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر. دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م - مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، للتبريزي، الناشر: دار الكتب العلمية. سنة النشر: 1422 - 2001 ط 1 - فيض القدير شرح الجامع الصغير، للمناوي، الناشر: المكتبة التجارية الكبرى - مصر. الطبعة: الأولى، 1356 - منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة محمد قاسم، الناشر: مكتبة دار البيان، دمشق - الجمهورية العربية السورية، مكتبة المؤيد، الطائف - المملكة العربية السعودية.عام النشر: 1410 هـ - 1990 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com