سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اپنا کھانا اکٹھے ہو کر کھایا کرو اور اللہ کا نام لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ڈال دی جائے گی۔

عَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ رَضيَ اللهُ عنه: أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ، قَالَ: «فَلَعَلَّكُمْ تَأْكُلُونَ مُتَفَرِّقِينَ؟» قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: «فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ».
وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے۔؟ آپ ﷺ نے فرمایا: شاید تم الگ الگ کھاتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:”اپنا کھانا اکٹھے ہو کر کھایا کرو اوراللہ کا نام لیا کرو، اس میں تمہارے لیے برکت ڈال دی جائے گی“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ وہ کھاتے تو ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے۔ اس پر نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ اس کے کچھ اسباب یہ ہیں: الگ الگ ہو کر کھانا کھانا۔ کیونکہ یہ برکت اٹھ جانے کا ایک سبب ہے اس لیے کہ الگ الگ کھانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہر کسی کا خاص برتن ہو۔ اس سے کھانا بٹ جائے گا اور برکت اٹھ جائے گی۔ اس کی ایک اور وجہ کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھنا بھی ہے۔ انسان جب کھانے پر اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان اس کے ساتھ کھاتا ہے اور اس کے کھانے سے برکت کھینچ لی جاتی ہے۔

حوالہ

سنن أبي داود (5/ 588) (3764). سنن ابن ماجه (4/ 418) (3286). مسند أحمد (25/ 485) (16078). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 217). نزهة المتقين بشرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 607). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 59).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
کھانے پینے کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com