جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے، تو اپنے دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب تم میں سے کوئی شخص کوئی چیز پیے تو اپنے دائیں ہاتھ سے پیے۔ کیوں کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔
عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے، تو اپنے دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب تم میں سے کوئی شخص کوئی چیز پیے تو اپنے دائیں ہاتھ سے پیے۔ کیوں کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس بات کا حکم دے رہے ہیں کہ مسلمان اپنے دائیں ہاتھ سے کھائے اور پیے، جب کہ اس بات سے منع کر رہے ہیں کہ کوئی اپنے بائیں ہاتھ سے کھائے اور پیے۔ ایسا اس لیے کہ بائیں ہاتھ سے کھانے اور پینے کا کام شیطان کرتا ہے۔
فوائد
بائیں ہاتھ سے کھانے یا پینے کا کام کر کے شیطان کی مشابہت اختیار کرنے کی ممانعت۔
حوالہ
صحيح مسلم (3/ 1598) (2020).
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، للبسام (5/ 445).
فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (6/ 270).
سبل السلام شرح بلوغ المرام، للصنعاني (2/ 625).
عون المعبود شرح سنن أبي داود (10/ 179).
فتاوى اللجنة الدائمة - المجموعة الأولى- (26/ 387).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com