سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ہر پینے والی چیز جو نشہ آور ہو، حرام ہے۔

عن عائشة رضي الله عنها: «أَنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم سُئِل عن الْبِتْعِ؟ فقال: كل شَرَابٍ أَسْكَر فهو حَرَامٌ».
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے شہد کی شراب (الْبِتْعِ) کے بارے میں سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”ہر پینے والی چیز جو نشہ آور ہو، حرام ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ سے شہد کی شراب پینے کا حکم دریافت کیا گیا، تو آپ ﷺ نے ایک ایسا جواب مرحمت فرمایا، جو عام نوعیت کا حامل اور اس جیسے ہر مسئلے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے، جس کا لب لباب یہ ہے کہ عنوان اور تعبیرات کی تبدیلی سے حقائق نہیں بدل سکتے، جب تک کہ معنی اور حقیقت ایک ہو۔ لہٰذا ہر وہ پینے والی چیز جو نشہ آور ہو، حرام ہی ہوگی؛ چاہے کسی بھی نوع سے اسے تیار کیا گیا ہو۔ نبی کریم ﷺ کا یہ مختصر سا جملہ آپ کے جامع کلمات (دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف) اور اپنے پروردگار کی جانب سےآپ کو عطا کردہ عمدہ و دل نشین اندازِبیان کا ایک نمونہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی بعثت کی مدت میں اس قدر علم عام فرمایا کہ تمام نوع انسانی کو دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں نصیب ہوجائیں۔

حوالہ

- صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. - صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423 هـ - عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ - تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ. - الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381ه - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
حدِ خمر/ شراب نوشی کی حد

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com