نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے شراب پی، تو آپ ﷺ نے اسے کھجور کی ایک ٹہنی سے لگ بھگ چالیس کوڑے لگوائے۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے دور خلافت میں نبی کریم ﷺ کی طرح شرابی کوچالیس کوڑے لگوائے۔ لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور آیا، جنگی فتوحات کی بہتات ہوئی اور مسلمانوں کا دیگر قوموں کے ساتھ ملنا جلنا شروع ہوا، تو لوگ بکثرت شراب پینے لگے۔ لہٰذا انھوں نے اہل علم صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین سے مشورہ طلب کیا کہ شرابیوں پر کون سی حد نافذ کی جاۓ کہ ان کے لیے سخت تنبیہ کا باعث ہو، جیسا کہ اس جیسے دیگر اہم امور اور اجتہادی مسائل میں عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ کار ہوا کرتا تھا۔ کیوںکہ ان کے دور خلافت میں شراب پینے والے افراد کی بہتات ہوگئی تھی، چنانچہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ مشورہ دیا کہ :حدود میں سب سے ہلکی حد اسی (80) کوڑے مقرر کردیں، جو بہتان تراشی کرنے والے کی حد ہے۔ (انہی کے مشورہ کے مطابق) عمر رضی اللہ عنہ نے اس حد کو اسی کوڑوں میں تبدیل فرمادیا۔ یہ اضافہ در اصل تعزیر ہے اور امام کے اختیار کی چیز ہے۔
- صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. - صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423 هـ - عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ - تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ - الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري-مطبعة السعادة-الطبعة الثانية 1392ه. الإعلام بفوائد عمدة الأحكام لا بن الملقن المحقق: عبد العزيز بن أحمد بن محمد المشيقح - دار العاصمة للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1997 م.