سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

حدِ خمر/ شراب نوشی کی حد

7 احادیث

نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص کوحاضر کیا گیا، جس نے شراب پی رکھی تھی، آپ ﷺ نے اسے کھجور کی ٹہنی سے لگ بھگ چالیس کوڑے مارے۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه «أَنَ النّبي صلى الله عليه وسلم أُتِي بِرَجُل قَدْ شَرِب الْخَمْرَ، فَجَلَدَهُ بِجَريدة نحو أربعين»
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک شخص کو حاضر کیا گیا، جس نے شراب پی رکھی تھی، آپ ﷺ نے اسے کھجور کی ٹہنی سے لگ بھگ چالیس کوڑے مارے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے شراب پی، تو آپ ﷺ نے اسے کھجور کی ایک ٹہنی سے لگ بھگ چالیس کوڑے لگوائے۔ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے دور خلافت میں نبی کریم ﷺ کی طرح شرابی کوچالیس کوڑے لگوائے۔ لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور آیا، جنگی فتوحات کی بہتات ہوئی اور مسلمانوں کا دیگر قوموں کے ساتھ ملنا جلنا شروع ہوا، تو لوگ بکثرت شراب پینے لگے۔ لہٰذا انھوں نے اہل علم صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین سے مشورہ طلب کیا کہ شرابیوں پر کون سی حد نافذ کی جاۓ کہ ان کے لیے سخت تنبیہ کا باعث ہو، جیسا کہ اس جیسے دیگر اہم امور اور اجتہادی مسائل میں عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ کار ہوا کرتا تھا۔ کیوںکہ ان کے دور خلافت میں شراب پینے والے افراد کی بہتات ہوگئی تھی، چنانچہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے یہ مشورہ دیا کہ :حدود میں سب سے ہلکی حد اسی (80) کوڑے مقرر کردیں، جو بہتان تراشی کرنے والے کی حد ہے۔ (انہی کے مشورہ کے مطابق) عمر رضی اللہ عنہ نے اس حد کو اسی کوڑوں میں تبدیل فرمادیا۔ یہ اضافہ در اصل تعزیر ہے اور امام کے اختیار کی چیز ہے۔

حوالہ

- صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. - صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423 هـ - عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ - تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ - الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري-مطبعة السعادة-الطبعة الثانية 1392ه. الإعلام بفوائد عمدة الأحكام لا بن الملقن المحقق: عبد العزيز بن أحمد بن محمد المشيقح - دار العاصمة للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1997 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ہر پینے والی چیز جو نشہ آور ہو، حرام ہے۔

عن عائشة رضي الله عنها: «أَنَّ رسول الله صلى الله عليه وسلم سُئِل عن الْبِتْعِ؟ فقال: كل شَرَابٍ أَسْكَر فهو حَرَامٌ».
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے شہد کی شراب (الْبِتْعِ) کے بارے میں سوال کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”ہر پینے والی چیز جو نشہ آور ہو، حرام ہے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ سے شہد کی شراب پینے کا حکم دریافت کیا گیا، تو آپ ﷺ نے ایک ایسا جواب مرحمت فرمایا، جو عام نوعیت کا حامل اور اس جیسے ہر مسئلے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے، جس کا لب لباب یہ ہے کہ عنوان اور تعبیرات کی تبدیلی سے حقائق نہیں بدل سکتے، جب تک کہ معنی اور حقیقت ایک ہو۔ لہٰذا ہر وہ پینے والی چیز جو نشہ آور ہو، حرام ہی ہوگی؛ چاہے کسی بھی نوع سے اسے تیار کیا گیا ہو۔ نبی کریم ﷺ کا یہ مختصر سا جملہ آپ کے جامع کلمات (دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف) اور اپنے پروردگار کی جانب سےآپ کو عطا کردہ عمدہ و دل نشین اندازِبیان کا ایک نمونہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی بعثت کی مدت میں اس قدر علم عام فرمایا کہ تمام نوع انسانی کو دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیاں نصیب ہوجائیں۔

حوالہ

- صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. - صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423 هـ - عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ - تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ. - الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381ه - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اس وقت یہ ان پانچ چیزوں سے تیار کی جاتی تھی: انگور، کھجور، شہد، گندم اور جَو سے۔

عن عَبْدُ الله بن عمر رضي الله عنهما أن عمر قال -على منبر رسول الله- صلى الله عليه وسلم : "أما بعد، أيها الناس، إنه نزل تحريم الخمر وهي من خمسة: مِنَ العنب، والتمر، والعسل، والحنطة، والشعير. والخمر: مَا خَامَرَ العَقْلَ. ثَلاثٌ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ الله صلى الله عليه وسلم كَانَ عَهِدَ إلَيْنَا فِيهَا عَهْداً نَنْتَهِي إلَيْهِ: الجَدُّ، والكَلالَةُ، وأَبْوَابٌ مِنَ الرِّبَا".
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”اما بعد، اے لوگو! شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اس وقت یہ ان پانچ چیزوں سے تیار کی جاتی تھی: انگور، کھجور، شہد، گندم اور جَو سے۔ خمر ہر وہ شے ہے، جو عقل کو زائل کردے۔ تین مسائل کی نسبت میری تمنا ہی رہ گئی کہ رسول اللہ ﷺ ان کے سلسلے میں ہمیں کوئی ایسی وصیت کر دیتے، جس کی طرف ہم رجوع کر سکتے: دادا کی میراث، کلالہ اور سود کے کچھ مسائل“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

یہ خطبہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی ﷺ میں آپ ﷺ کے منبر شریف پر کھڑے ہو کر دیا اور اس میں انھوں نے ہر اس شے کو خمر قرار دیا، جو عقل کو زائل کر دیتی ہو۔ چنانچہ ”خمر“ کا اطلاق صرف اس شراب پر نہیں ہوتا، جو انگور سے بنائی گئی ہو، بلکہ ہر وہ نشہ آور مشروب خمر کہلاۓ گا، جو کھجور، شہد یا گندم سے تیار کردہ ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ تین مسائل ایسے ہیں، جن میں لوگوں کو اشکال پیش آتا ہے اور ان کی تمنا ادھوری رہ گئی کہ نبی ﷺ ان تین مسائل کے بارے میں اپنی امت کو کوئی ایسی وصیت فرما جاتے،جس کی طرف وہ رجوع کر سکتے۔ یہ تین مسائل یہ ہیں: دادا کی میراث، ہر اس شخص کی میراث جس کی نہ اولاد ہو اور نہ ہی والد اور سود کے کچھ مسائل۔ الحمدللہ ان تینوں مسائل کا حکم معلوم ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ نبی ﷺ نے انھیں بیان نہیں فرمایا۔ آپ ﷺ نے رسالت کی ذمہ داری پوری فرمادی، امانت ادا کر دی اور اللہ تعالی کی وہ باتیں بھی پہنچا دیں، جو ان تینوں امور سے کم اہمیت کی حامل تھیں۔ در اصل عمر رضی اللہ عنہ یہ چاہتے تھے کہ ان امور میں کوئی ایسی صریح اور واضح نص ہوتی، جس میں اجتہاد کی گنجائش نہ ہوتی۔

حوالہ

صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار علماء السلف، الطبعة: الثانية 1414هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم- لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ. المعجم الوسيط، مجمع اللغة العربية بالقاهرة، (إبراهيم مصطفى، أحمد الزيات، حامد عبد القادر، محمد النجار)، الناشر: دار الدعوة.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا: اسے مارو۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: أُتِي النبي صلى الله عليه وسلم برجل قد شَرِب خمرا، قال: «اضربوه». قال أبو هريرة: فمنا الضارب بيده، والضارب بنعله، والضارب بثوبه، فلما انصرف، قال بعض القوم: أخزاك الله، قال: «لا تقولوا هكذا، لا تُعِينُوا عليه الشيطان».
ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی۔ آپ نے فرمایا: اسے مارو۔ ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ كا بيان ہے کہ: تو ہم میں سے کوئى اسے اپنے ہاتھ سے، كوئى اپنے جوتے سے اور کوئى اپنے کپڑے سے ماررہا تھا۔ جب وہ (مار كهاكر) جانے لگا تو لوگوں میں سے کسی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس طرح مت کہو، اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث کا معنی: صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نبیﷺ کے پاس ایک آدمی کو لے کر آئے جس نے شراب نوشی کی تھی۔ آپ ﷺ نے اسے مارنے کا حکم دیا۔ چنانچہ صحابۂ کرام نے اسے مارا۔ ان میں سے کچھ نے اسے مارنے کے کسی دوسرے آلے کے استعمال کے بغیر خالی اپنے ہاتھ سے مارا، تو کسی نے اسے اپنے جوتے سے مارا اور یہ اسے عبرتناک سزا دینے کے طورپر تھی، اور کسی نے اسے اپنے کپڑے سے مارا۔ جبکہ انہوں نے کوڑے کا استعمال نہیں کیا جو کہ مارنے سے متعلق شرعی حد (کے نفاذ) کا آلہ ہے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے بیس آدمیوں کو حکم دیا تو ان میں سے ہر ایک نے اسے چھڑی اور جوتے سے دو دو ضرب لگائے۔ اس سے اس بات کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ کوڑوں کی تعداد چالیس ہے، اور خلفائے راشدین سے اس پر جو اضافہ وارد ہے وہ بطور تعزیر ہے جو امام وقت (حاکم) کی صوابدید پر منحصر ہے۔ پھر جب لوگ اسے مار نے سے فارغ ہوگئے تو ان میں سے کسی نے اسے یہ بددعا دی کہ: ”اللہ تجھے رسوا کرے“ یعنی اسے رسوائی کی بددعا دی، جس کا مطلب لوگوں کے بیچ ذلت وخواری، اہانت و حقارت اور فضیحت ورسوائی ہے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”ا سے اس طرح مت کہو، اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو“۔ کیونکہ جب لوگ اسے ذلت ورسوائی کی بددعا دیں گے تو بسا اوقات ان کی بددعا قبول ہوسکتی ہے، تو اس طرح شیطان اپنی مراد کو پہنچ جائے گا اور اس کا مقصد پورا ہوجائے گا۔ نیز اس لیے تاکہ گناہ گار سے نفرت نہ کی جائے جبکہ اس پرحد کا نفاذ ہو چکا ہے۔

حوالہ

- صحيح البخاري، للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - كنوز رياض الصالحين، حمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا، الطبعة الأولى، 1430ه. - شرح رياض الصالحين، للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لمحمد بن علان الشافعي، تحقيق خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، الطبعة الرابعة، 1425ه. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1418ه. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الرابعة عشرة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک ایسے شخص کوحاضر کیا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، آپ ﷺ نے اسے کھجور کی ٹہنی سے لگ بھگ چالیس ضربیں لگائیں۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه «أن النبي صلى الله عليه وسلم أُتِيَ برجل قد شرب الخمر، فجلده بِجَرِيدَتَيْنِ نحو أربعين»، قال: وفعله أبو بكر، فلما كان عمر استشار الناس، فقال عبد الرحمن: أَخَفُّ الحدود ثمانين، «فأمر به عمر».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ نبی ﷺکے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی، تو آپ ﷺ نے اسے کھجور کی دو ٹہنیوں سے تقریباً چالیس ضربیں لگائیں۔ (انس رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا، جب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا، انہوں نے لوگوں سے مشورہ لیا تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حدود میں سب سے ہلکی حد اسّی کوڑے ہے، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسّی کا حکم صادر کر دیا۔
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث سے یہ پتہ چل رہا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شرابی کو شراب کی حد کے طور پر کھجور کی ٹہنی سے چالیس ضربیں لگائیں۔خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا۔ شام وغیرہ کی فتح کے بعد انگور اور باغات کی کثرت کی وجہ سے جب لوگوں میں شراب نوشی زیادہ ہو گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی حد سے متعلق صحابہ سے مشورہ لیا۔ تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ شراب نوشی کی حد وہ مقرر کی جائے جو سب سے کم حد ہے (سوائے شراب کی حد کے) اور وہ اَسّی کوڑے ہے۔ کثیر صحابہ نے اس بات پر اتفاق کیا ۔ اسی لیے جمہور فقہاء نے یہ کہا ہے کہ شراب نوشی کی حد اَسّی کوڑے ہے اور یہ اصلاً ثابت ہے اجتہاد کے قبیل سے نہیں ہے۔ اور صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) نے اس میں زیادتی کا اجتہاد اس وقت کیا جب شراب نوشی کثرت سے عام ہو گئی جب کہ لوگ اس چیز سے ہار ماننے والے نہیں تھے کہ اس کی تعداد کیا ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري، للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب، الرياض، الطبعة الأولى، 1417ه. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف عبد الله الفوزان، طبعة دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1428ه. توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، تأليف عبد الله البسام- مكتبة الأسدي،مكة المكرمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف الشيخ صالح الفوزان، عناية عبد السلام السليمان، مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى. فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرا،م للشيخ ابن عثيمين- المكتبة الإسلامية القاهرة، تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى، 1427ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ نے جب وہ آیت اتاری، جس میں شراب حرام کی گئی ہے، تو اس وقت مدینے میں جو بھی شراب پی جاتی تھی، سب کھجور سے بنتی تھی

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: «لقد أَنْزَلَ الله الآية التي حَرَّمَ الله فيها الخمر، وما بالمدينة شَرَابٌ يُشْرَبُ إلا من تَمْرٍ».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: "اللہ تعالی نے جب وہ آیت اتاری، جس میں شراب حرام کی گئی ہے، تو اس وقت مدینے میں جو بھی شراب پی جاتی تھی، سب کھجور سے بنتی تھی"۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے شراب کی حرمت کی آیت نازل کی، اس وقت مدینہ منورہ میں جتنی طرح کی شراب بنتی تھی، سب کھجور سے بنتی تھی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ شراب کے حرام ہونے کی علت اس کا نشہ آور ہونا ہے، قطع اس سے کہ وہ کس چیز سے بنی ہے۔

حوالہ

- تسهيل الالمام، للشيخ صالح الفوزان، طبعة الرسالة، الطبعة الأولى 1427 – 2006 م - فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى 1427 - 2006 م - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م - صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت - منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي. ط1 1428هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم! میں تو یہی جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔“

عَنْ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اسْمُهُ عَبْدَ اللَّهِ، وَكَانَ يُلَقَّبُ حِمَارًا، وَكَانَ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَلَدَهُ فِي الشَّرَابِ، فَأُتِيَ بِهِ يَوْمًا فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ القَوْمِ: اللَّهُمَّ الْعَنْهُ، مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَلْعَنُوهُ، فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ».
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی ﷺ کے عہد میں ایک شخص تھے جن کا نام عبداللہ تھا اور ان کا لقب حمار (گدھا) تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کو ہنسایا کرتا تھے۔ نبی ﷺ نے ان کو شراب نوشی کی وجہ سے کوڑے لگوائے تھے۔ ایک دن ان کو پھر اسی حالت میں لایا گیا تو آپ ﷺ نے حکم دیا اور ان کو کوڑے مارے گئے۔ اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ! اس پر لعنت فرما، اسے شراب نوشی کی حالت میں کتنا زیادہ لایا جاتا ہے؟“ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم! میں تو یہی جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔“
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

نبی ﷺ کے عہد میں عبداللہ نامی ایک شخص تھے، جن کا لقب حمار تھا۔ وہ اپنی بعض باتوں سے نبی ﷺ کو ہنسایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کو شراب نوشی کی پاداش میں کوڑے لگوائے تھے۔ چنانچہ ایک دن پھر ان کو لایا گیا جبکہ انہوں نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ ﷺ نے حکم دیا اور ان کو کوڑے مارے گئے۔ تو حاضرین میں سے ایک شخص نے ان کو برا بھلا کہا، اور بولا: اللہ اس پر لعنت کرے، اسے کتنی بار شراب نوشی کی حالت میں لایا جاتا ہے!؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم، میں تو یہی جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔“

فوائد
  1. گناہ کے ارتکاب اور گناہ کرنے والے کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے ثابت ہونے میں کوئی تضاد نہیں ہے؛ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ مذکورہ شخص، اس سے سرزد ہونے والے عمل کے باوجود، اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔
  2. کبیرہ گناہ کا مرتکب اگر اس پر اصرار کی حالت میں مر جائے تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت کے تحت ہے، چاہے تو اسے بخش دے اور چاہے تو عذاب دے، اور اہل اسلام میں سے کوئی بھی ہمیشہ ہمیش کے لیے دوزخ میں نہیں رہے گا۔
  3. کسی متعین شراب نوش پر لعنت کرنا مکروہ ہے؛ اس احتمال کی وجہ سے کہ لعنت کے لاحق ہونے میں کوئی امر مانع ہو؛ اور اس لیے کہ کسی متعین شخص پر لعنت کرنا اور اس کے خلاف بد دعا کرنا اسے سرکشی پر ابھار سکتا ہے، یا توبہ کی قبولیت سے مایوس کر سکتا ہے۔
  4. اس وصف سے متصف غیر متعین شخص پر لعنت کرنے کا جواز۔
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 158) (6780). إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري (9/ 452). البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (29/ 394).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com