سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

حدود

30 احادیث

اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں فرض کی ہیں انھیں ضائع نہ کرو، کچھ حدیں مقرر کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو، کچھ چیزیں حرام کی ہیں ان کا ارتکاب کر کے ان کی حرمت پامال نہ کرو اور کچھ چیزوں سے تم پر شفقت کی بنا پر، نسیان کے شکار ہوئے بنا، خاموشی اختیار کی ہے، چنانچہ ان کے متعلق بحث وکرید نہ کرو۔

عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الخُشَنِيِّ جُرْثُومِ بن نَاشِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: «إِنَّ اللَّهَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا، وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا، وَحَرَّمَ أَشْيَاءَ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ رَحْمَةً لَكُمْ غَيْرَ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا».
ابو ثعلبہ خشنی جرثوم بن ناشر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: "اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں فرض کی ہیں انھیں ضائع نہ کرو، کچھ حدیں مقرر کی ہیں ان سے تجاوز نہ کرو، کچھ چیزیں حرام کی ہیں ان کا ارتکاب کر کے ان کی حرمت پامال نہ کرو اور کچھ چیزوں سے تم پر شفقت کی بنا پر، نسیان کے شکار ہوئے بنا، خاموشی اختیار کی ہے، چنانچہ ان کے متعلق بحث وکرید نہ کرو۔"
اسے دارقطنی نے اپنی سنن وغیرہ میں روایت کیا ہےدرجہنووی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
تشریح

اللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اللہ نے کچھ چیزیں واجب اور کچھ چیزیں فرض کی ہیں۔ لہذا ان کی پابندی کرو اور انھیں چھوڑنے یا ان کے بارے میں سستی کرنے سے بچو۔ اس نے اپنی ناپسندیدہ چیزوں سے روکنے کے لیے کچھ حدود مقرر کی ہیں، لہذا ان شرعی حدود میں کوئی اضافہ مت کرو۔ اس نے کچھ چیزیں حرام کی ہیں۔ لہذا تم ان میں ملوث ہونے اور ان کے قریب جانے سے بچو۔ ان کے بعد باقی ماندہ چیزوں کو اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے ایسے ہی چھوڑ رکھا ہے اور ان کے بارے میں خاموشی برتی ہے، چنانچہ یہ چیزیں اپنی اصلیت میں مباح ہی رہیں گی۔ لہذا ان کے بارے میں بحث وجستجو نہ کرو۔

فوائد
  1. یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ شریعت سازی کا کام اللہ کا ہے۔
  2. حدیث میں شریعت کے تمام اصول، یعنی جو کام جائز ہیں اور جو منع ہیں، دونوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ شریعت میں ہر حکم یا تو قرآن اور حدیث میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے یا اس کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ جن امور کے بارے میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے ان میں سے یا تو کسی کام کے کرنے کا حکم ہے جس کا کرنا یا تو واجب (ضروری) ہے، یا مستحب (پسندیدہ) ہے۔ یا پھر کام سے منع کیا گیا ہے، جس کا کرنا یا تو حرام (سختی سے منع) ہے، یا مکروہ (ناپسندیدہ) ہے۔
  3. اللہ نے جس چیز کے بارے میں خاموشی برتی ہے، نہ اسے فرض کیا ہے، نہ اس پر حد متعین کی ہے اور نہ اس سے منع کیا ہے، وہ حلال ہے۔
  4. اللہ کے نبی ﷺ کا بہترین انداز بیان کہ اس حدیث میں ایک واضح تقسیم پیش کی۔
  5. فرائض کی پابندی واجب ہے۔
  6. اللہ کی حدود کو تجاوز کرنا جائز نہيں ہے۔
حوالہ

سنن الدارقطني (4396). المعجم الكبير للطبراني (22/221). جامع العلوم والحكم (ص617). شرح الأربعين النووية للعثيمين (ص309). توضيح الأحكام من بلوغ المرام (6/ 210).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com