سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ارتداد کی حد

1 احادیث

تم لوگ اللہ کے عذاب کے ذریعے عذاب مت دو

عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَرَّقَ قَوْمًا، فَبَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ»، وَلَقَتَلْتُهُمْ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ».
عکرمہ سے روایت ہے: علی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو جلا دیا۔ جب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس کی اطلاع ملی، تو فرمایا: اگر میں ہوتا، تو ان کو نہ جلاتا، کیونکہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "تم لوگ اللہ کے عذاب کے ذریعے عذاب مت دو"، بلکہ میں ان کو قتل کر دیتا، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جو اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو"۔
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کرتے ہوئے اسلام سے مرتد ہونے والے کچھ زندیقوں کو آگ میں جلا دیا، جب اس کی اطلاع عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی تو انہوں نے ان کے قتل کی تائید کی، لیکن آگ میں جلانے کا انکار کیا۔ اور فرمایا: اگر میں ان کی جگہ ہوتا، تو انہیں آگ سے نہ جلاتا؛ کیونکہ آپ ﷺ نے یہ بات واضح فرمایا کہ آگ کی سزا تو صرف اللہ ہی دیتا ہے، جو آگ کا رب ہے۔ بلکہ انہیں قتل کر دینا ہی کافی ہے، جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جو اسلام سے مرتد ہو جائے اور اپنا دین بدل کر کوئی دوسرا دین اختیار کر لے، اسے قتل کر دو۔

فوائد
  1. اہل علم کا اجماع ہے کہ دین اسلام سے مرتد ہونے والے کا قتل اپنی شرطوں کے ساتھ واجب ہے، یہ کام صرف امام اور حاکم ہی کرے گا۔
  2. آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جو اپنے دین سے پھر جائے اسے قتل کردو۔‘‘ یعنی جو اسلام سے مرتد ہو جائے، یہ حکم مردوں اور عورتوں سب کے لیے عام ہے۔
  3. مرتد کو اس کے ارتداد پر برقرار نہیں رکھا جائے گا، بلکہ اسے اسلام کی دعوت دی جائے گی، اور اگر وہ قبول نہ کرے تو اسے قتل کردیا جائے گا۔
  4. اس حدیث میں آگ سے عذاب دینے کی ممانعت آئی ہے اور یہ کہ حدود آگ کے ذریعے قائم نہیں کی جا سکتیں۔
  5. ابن عباس رضی اللہ عنہما کی فضیلت، اور احادیثِ رسول ﷺ کے بارے میں ان کے علم و فقہ کی وسعت۔
  6. مخالف پر انکار کرنے کے آداب۔
حوالہ

صحيح البخاري (4/ 61) (3017). عمدة القاري شرح صحيح البخاري، لبدر الدين العيني (14/ 264). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (8/ 364). توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، لعبد الله البسام (6/ 204). فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (5/ 218). الإفصاح عن معاني الصحاح، لابن هبيرة (3/ 190). التوضيح لشرح الجامع الصحيح، لابن الملقن (18/ 58). نيل الأوطار، للشوكاني (7/ 225).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com