سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اقامت حدود کی شرائط

1 احادیث

میں مسجد میں سویا ہوا تھا۔ میرے جسم کے اوپر میری ایک کالے رنگ کی چوخانہ چادر پڑی ہوئی تھی، جس کی قیمت تیس درہم تھی۔ اسی بیچ ایک آدمی آیا اور اسے جھپٹا مار کر لے اڑا۔ لیکن وہ پکڑا گیا۔ اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے حاضر کیا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا

عن صفوان بن أمية، قال: كنت نائما في المسجد عليَّ خَمِيْصَةٌ لي ثمن ثلاثين درهما، فجاء رجل فاخْتَلَسَهَا مِنِّي، فَأُخِذَ الرجل، فَأُتِيَ به رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فَأَمَرَ به لِيُقْطَعَ، قال: فأتَيْتُهُ، فقُلتُ: أَتَقْطَعُهُ من أجل ثلاثين درهما، أنا أبيعه وأُنْسِئُهُ ثمنها؟ قال: «فَهَلَّا كان هذا قبل أن تأتيني به».
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں سویا ہوا تھا۔ میرے جسم کے اوپر میری ایک کالے رنگ کی چوخانہ چادر پڑی ہوئی تھی، جس کی قیمت تیس درہم تھی۔ اسی بیچ ایک آدمی آیا اور اسے جھپٹا مار کر لے اڑا۔ لیکن وہ پکڑا گیا۔ اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے حاضر کیا گیا، تو آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ وہ کہتے ہیں: تب میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : کیا آپ محض تیس درہم کی وجہ سے اس کا ہاتھ کاٹیں گے؟ میں اسے وہ چادر ادھار بیچ دیتا ہوں! اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "پھر اسے میرے سامنے لانے سے پہلے ہی تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا؟"
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ مسجد میں سوئے ہوئے تھے اور ان کے جسم پر ایک کالے رنگ کی چوخانہ چادر پڑی ہوئی تھی۔ اسی بیچ ایک چور آیا اور سے جھپٹا مار کر لے بھاگا۔ پھر چور کو پکڑ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس لایا گیا، تاکہ اس پر چوری کی حد جاری کی جا سکے۔ لیکن صفوان رضی اللہ عنہ کو اس پر رحم آ گیا، لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: کیا آپ اس کا ہاتھ میری اس چادر کی وجہ سے کاٹ دیں گے، جس کی قیمت محض تیس درہم ہے؟ میں اسے یہ چادر ادھار بیچ دیتا ہوں اور قیمت وہ اپنی حالت بہتر ہونے پر ادا کر دے گا!! اس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو تم نے اسے میرے پاس لائے جانے سے پہلے ہی معاف کیوں نہ کر دیا؟ کیونکہ حدود کے معاملے جب حاکم تک پہنچ جائیں، تو معاف کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔

حوالہ

- سنن أبي داود - سليمان بن الأشعث السِّجِسْتاني، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، المكتبة العصرية. - سنن النسائي, تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة, مكتب المطبوعات الإسلامية، الطبعة الثانية، 1406ه. - سنن ابن ماجه، ابن ماجه أبو عبد الله محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي- دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي. - مسند الإمام أحمد بن حنبل المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى، 1421هـ - 2001م. - منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف عبد الله الفوزان، طبعة دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1428ه. - توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، :تأليف عبد الله البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م. - تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف الشيخ صالح الفوزان، عناية عبد السلام السليمان - مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى. - فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية، القاهرة، تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى، 1427ه. - إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، محمد ناصر الدين الألباني - إشراف: زهير الشاويش -المكتب الإسلامي – بيروت، الطبعة الثانية، 1405 هـ - 1985م. - عون المعبود شرح سنن أبي داود، ومعه حاشية ابن القيم: تهذيب سنن أبي داود وإيضاح علله ومشكلاته، محمد أشرف بن أمير بن علي بن حيدر العظيم آبادي: دار الكتب العلمية - بيروت، الطبعة الثانية، 1415هـ. - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية، الطبعة الأولى، 1435هـ - 2014 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com