سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

حدِ زنا

9 احادیث

مسلمانوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس نے آپ کو آواز دی اور کہا: اے اللہ کے رسول ! میں نے زنا کیا ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: «أَتَى رجل مِنَ المسلمين رسولَ صلى الله عليه وسلم وهو في المسجد فَنَادَاهُ: يا رسول الله، إنِّي زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عنه، فَتَنَحَّى تِلْقَاءَ وَجْهِهِ فَقَالَ: يا رسول الله، إنِّي زَنَيْت، فأعرض عنه، حَتَّى ثَنَّى ذلك عليه أَرْبَعَ مَرَّاتٍ. فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبع شهادات: دَعَاهُ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم ، فَقَالَ: أَبِكَ جُنُونٌ؟ قَالَ: لا، قَالَ: فَهَلْ أُحْصِنْت؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ الله: اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ». قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ. سَمِعَ جَابِرَ بنَ عَبْدِ الله يَقُولُ: «كُنْت فِيمَنْ رَجَمَهُ، فَرَجَمْنَاهُ بِالمُصَلَّى، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ هَرَبَ، فَأَدْرَكْنَاهُ بِالحَرَّةِ، فَرَجَمْنَاهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس نے آپ کو آواز دی اور کہا: اے اللہ کے رسول ! میں نے زنا کیا ہے۔۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے اپنا منہ پھیر لیا۔ لیکن وہ گھوم کر ایک طرف سے آپ ﷺ کے سامنے آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول ! میں نے زنا کیا ہے۔ آپ نے (پھر) اس سے منہ پھیر لیا، حتی کہ اس نے آپ کے سامنے یہی کلمات چار مرتبہ دہرائے۔ جب اس نے اپنے خلاف چار گواہیاں دے دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور پوچھا: کیا تم پاگل ہو؟ اس نے عرض کیا نہیں۔ پھر پوچھا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور سنگ سار کردو۔ ابن شہاب کہتے ہیں: مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے خبر دی، جنھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جابر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: ”میں ان لوگو‎‎ں میں شامل تھا، جنھوں نے اسے رجم کیا۔ ہم نے اسے عیدگاہ میں سنگ سار کیا۔ پس جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ گیا، ہم نے اسے میدان حَرۃ میں پایا اور سنگ سار کردیا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت آپ ﷺ مسجد میں تشریف فرماتھے۔ انہوں نے آپ کو آواز دی اور زنا کے ارتکاب کا اعتراف کیا۔ آپ ﷺ نے ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا۔ شاید آپ کا مقصد یہ تھا کہ وہ واپس لوٹ جائیں اور ان کے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں مخفی اس امر سے توبہ کرلیں، لیکن وہ اپنے گناہ سے سخت نالاں تھے اور حد رجم کے ذریعے خود کو پاک و صاف کرانے کا پختہ عزم لیے حاضر ہوئے تھے۔ چنانچہ وہ دوبارہ آپ کے روبرو آئے اور پھر زنا کے ارتکاب کا اعتراف کیا۔ آپ ﷺ نے اس مرتبہ بھی ان سے اپنا چہرہ پھیر لیا، تاآں کہ انھوں نے چار مرتبہ ارتکاب زنا کا اعتراف کیا۔ اس مرتبہ آپ ﷺ اس معاملے کی تحقیق کے لیے متوجہ ہوئے اور ان سے دریافت کیا کہ تمھیں پاگل پن کی بیماری تو نہیں؟ انھوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے ان کے گھر والوں سے ان کی عقل کے بارے میں دریافت فرمایا، تو انھوں نے ان کی عقل کو درست قرار دیا۔ پھر آپ ﷺ نے ماعز رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آیا وہ شادی شدہ ہیں یا غیر شادی شدہ کہ وہ رجم کے حق دار نہیں ہوتے؟ انھوں نے بتایا کہ وہ شادی شدہ ہیں۔ آپ ﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ شاید انھوں نے چھونے یا بوس و کنار کرنے جیسی حرکات کی ہوں کہ جس سے حد رجم واجب نہیں ہوتی، تاہم انھوں نے واقعتا زنا کے ارتکاب کی وضاحت کر دی۔ جب نبی ﷺ نے ہر اعتبار سے معاملے کی چھان بین فرمالی اور حد رجم کے نفاذ کا وجوب ثابت ہوگیا، تو اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ انھیں لے جاکر سنگ سار کردیں۔ چنانچہ صحابۂ کرام، انھیں لے کر بقیع غرقد کی جانب نکلے -یہ نماز جنازہ کی جگہ تھی- اور انھیں رجم کرنا شروع کیا۔ جب انھیں پتھروں کی شدت محسوس ہوئی، تو اس سے بچنا چاہا اور موت سے بھاگنے کی آرزو کی؛ کیوں کہ انسانی نفس اس سزا کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ وہ بھاگ پڑے۔ صحابہ نے انھیں مقام حرۃ (مدینے میں واقع کثرت سے پائے جانے والےسیاہ پتھروں کی سرزمین) پر آلیا اور مارنے لگے، یہاں تک کہ ان کی موت ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اور ان سے راضی ہو۔

حوالہ

- صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. - صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ. - عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ. - الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ. - الإعلام بفوائد عمدة الأحكام لابن الملقن، المحقق: عبد العزيز بن أحمد بن محمد المشيقح، دار العاصمة للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1417هـ - 1997م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہودی حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو بتایا کہ ان کے یہاں ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔

عن عبدُ الله بنُ عمر رضي الله عنهما قال: «إن الْيهود جاءوا إلى رسول الله فَذَكَرُوا لَه: أَنَّ امرأة منهم وَرجلا زنيا. فَقَال لَهُمْ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم : مَا تَجِدُون في التَّوراة، في شأْن الرَّجم؟ فَقَالوا: نَفضحهم وَيُجْلَدُون. قَال عبد الله بن سَلام: كذبتم، فيهَا آية الرَّجْم، فَأَتَوْا بِالتَّوراة فَنَشَرُوهَا، فَوَضعَ أحدهم يَده عَلَى آيَة الرَّجْم فقرأ ما قبلها وما بعدها. فَقَال لَه عبد الله بن سَلام: ارْفَعْ يدَك. فَرَفَعَ يده، فَإذا فيهَا آيَةُ الرَّجم، فَقَال: صدَقَ يا محَمَّد، فأمر بِهِما النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرُجِما. قَال: فرأيت الرَّجلَ: يَجْنَأُ عَلَى المرأة يَقِيهَا الْحجارة».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہودی حاضر ہوئے اور بتایا کہ ان کے یہاں ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ آپﷺ نے ان سے پوچھا: رجم کے بارے میں تورات میں کیا حکم ہے؟ وہ بولے: یہ کہ ہم انھیں رسوا کریں اور انھیں کوڑے لگائے جائیں۔ اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ جھوٹے ہو۔ تورات میں رجم کی آیت موجود ہے۔ پھر یہودی تورات لائے اور اسے کھولا۔ لیکن رجم سے متعلق آیت کو ایک یہودی نے اپنے ہاتھ سے چھپا لیا اور اس سے پہلے اور اس کے بعد کی عبارت پڑھنے لگا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ذرا اپنا ہاتھ تو اٹھاؤ۔ جب اس نے ہاتھ اٹھایا، تو وہاں آیت رجم موجود تھی۔ اب وہ کہنے لگے: سچ ہے اے محمد! (ﷺ)۔ چنانچہ آپ ﷺ کے حکم سے ان دونوں کو سنگ سار کردیا گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ عورت کو پتھر سے بچانے کے لیے اس پر جھک جھک جایا کرتا تھا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ کے عہد میں یہودیوں کے اندر ایک مرد اور عورت نے زنا کا ارتکاب کیا، تو وہ آپ ﷺ کی خدمت میں ان دونوں کا فیصلہ کرانے کے ارادے سے حاضر ہوئے۔ وہ اس گمان میں تھے کہ شاید تورات میں موجود رجم (سنگ سار کرنے) کے حکم سے ہلکی سزا انھیں مل جائے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے تورات میں موجود اللہ تعالیٰ کے حکم کی بابت دریافت فرمایا۔ آپ کے دریافت کرنے کا مقصد اس پر عمل کرنا نہیں، بلکہ ان کی جگ ہنسائی کا سامان کرنا تھا۔ لیکن انھوں نے آپ ﷺ سے جھوٹ کہا کہ ان کے یہاں زناکاری کی سزار زانی اور زانیہ کو ذلیل و رسوا کرنا ہے۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ان کی اس بات کو جھٹلایا اور جب انھوں نے تورات کھولی، تو اس میں شادی شدہ زانی کو رجم (سنگ سار) کرنے کا حکم ملا۔ چنانچہ آپ ﷺ کے حکم سے دونوں کو سنگ سار کیا گیا۔ ہماری شریعت دوسری تمام شریعتوں پر حاکم اور ان تمام شریعتون کی ناسخ ہے۔ البتہ نبی ﷺ نے اس حدیث میں یہودیوں سے رجم کی سزا کے تئیں تورات کا حکم صرف اس لیے دریافت کیا تاکہ ان پر ان ہی کی کتاب سے حجت قائم ہوجائے جس کے بارے میں وہ انکار کر رہے تھے کہ تورات میں شادی شدہ زانی کی سزا سنگ سار کرنا نہیں ہے، نیز اس لیے لیے بھی کہ انہیں یہ واضح کردیں کہ اللہ تعالی کی نازل کردہ کتابیں اس سزا کے حکم میں متفق ہیں جس میں (معاشرے میں) فساد پھیلانے والوں کے لیے سخت تنبیہ اور پھتکار ہے۔

حوالہ

- صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه - صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423 هـ - عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408 هـ - تأسيس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414ه - الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381ه - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ الإعلام بفوائد عمدة الأحكام لابن الملقن المحقق: عبد العزيز بن أحمد بن محمد المشيقح - دار العاصمة للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1417 هـ - 1997 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی ﷺ سے اس باندی کے بارے میں پوچھا گیا جو غیر شادی شدہ ہو اور زنا کا ارتکاب کر لے۔

عن أبي هُرَيْرة وزَيْدُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رضي الله عنهما أنه سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الأَمَةِ إذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ؟ قَالَ: «إنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ إنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ». قالَ ابنُ شِهابٍ: «ولا أَدري، أَبَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعةِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سے اس باندی کے بارے میں پوچھا گیا جو غیر شادی شدہ ہو اور زنا کا ارتکاب کر لے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے مارو۔ دوبارہ زنا کرے تو پھر کوڑے مارو اور اگر پھر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو اور پھر اسے بیچ دو خواہ ایک رسی ہی کے عوض بکے۔ ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ آیا تیسری دفعہ کے بعد بیچنے کا حکم دیا یا چوتھی دفعہ کے بعد۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ سے اس باندی کی حد کے بارے میں دریافت کیا گیا جو محصنہ نہ ہو یعنی غیر شادی شدہ ہو اور زنا کر لے۔ نبی ﷺ نے بتایا کہ اسے کوڑے لگائے جائیں اور اسے لگائے جانے والے کوڑے آزاد عورت کی حد سے نصف ہوں گے یعنی پچاس کوڑے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ‘‘ (النساء:25)۔ ترجمہ:" پس جب یہ لونڈیاں نکاح میں آجائیں پھر اگر وه بے حیائی کا کام کریں تو انھیں آدھی سزا ہے اس سزا سے جو آزاد عورتوں کی ہے"۔ پھر اگر وہ دوبارہ زنا کرے تو اسے پھر پچاس کوڑے مارے جائیں تا کہ وہ بدکاری سے باز آ جائے۔ جب وہ تیسری دفعہ زنا کرے اور سزا اسے برائی سے باز نہ رکھ سکے اور نہ ہی وہ اللہ کے حضور تائب ہو اور تمھیں رسوائی کا ڈر ہو تو اس صورت میں اس پر کوڑوں کی سزا نافذ کر کے اسے بیچ دو اگرچہ کم ترین قیمت یعنی ایک ارزاں رسی ہی کے عوض بکے۔ کیونکہ نہ تو اس کے تمہارے پاس رہنے میں کوئی خیر ہے اور نہ ہی اس کے راہ راست پر آنے کی کچھ امید ہے۔چنانچہ اس کا دور رہنا قریب رہنے سے بہتر ہے تا کہ جس گھر میں وہ رہائش پذیر ہو اس کے بگاڑ کا باعث نہ بنے۔

حوالہ

صحيح البخاري، للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. الإلمام بشرح عمدة الأحكام، للشيخ إسماعيل الأنصاري -مطبعة السعادة، الطبعة الثانية، 1392هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله البسام، تحقيق محمد صبحي حسن حلاق، مكتبة الصحابة، الشارقة، الطبعة العاشرة- 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اس نے تو ایسی توبہ کی ہے کہ اگر مدینہ کے ستر باشندوں میں بھی تقسیم کر دی جائے تو ان کے لیے کافی ہو جائے۔ کیا تم اس سے زیادہ بھی کوئی افضل بات پاتے ہو کہ اس نے اللہ عز و جل کے لیے اپنی جان ہی قربان کر دی۔؟!

عن أبي نُجَيد عمران بن حصين الخزاعي رضي الله عنه أن امرأة من جهينة أتت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وهي حُبْلَى من الزنى، فقالت: يا رسول الله، أصبتُ حدًّا فَأَقِمْهُ عليَّ، فدعا نبيُّ الله صلى الله عليه وسلم وَلِيَّهَا، فقال: «أَحْسِنْ إِلَيْهَا، فإذا وَضَعَتْ فَأْتِنِي» ففعل، فأمر بها نبي الله صلى الله عليه وسلم فَشُدَّتْ عليها ثيابها، ثم أمر بها فَرُجِمَتْ، ثم صلى عليها. فقال له عمر: تُصَلِّي عليها يا رسول الله وقد زنت؟ قال: «لقد تابت توبةً لو قُسِمَتْ بين سبعين من أهل المدينة لَوَسِعَتْهُم، وهل وَجَدَتْ أفضل من أن جَادَتْ بنفسها لله عز وجل ؟!».
ابو نجید عمران بن حصین خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی جو کہ زنا کی وجہ سے حاملہ تھی۔ وہ کہنے لگی: یا رسول اللہ! میں نے ایک ایسا گناہ کیا جس پر میں حد کی سزا کی مستحق ہوتی ہوں چنانچہ اسے میرے اوپر لاگو کیجئے۔ آپ ﷺ نے اس کے ولی کو بلایا اور فرمایا: ”اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور جب یہ بچہ جن چکے تو میرے پاس لانا“۔ اس نے ایسے ہی کیا۔ آپ ﷺ کے حکم کے مطابق اس عورت کے کپڑے اس پر باندھ دیے گئے۔ پھر آپ ﷺ کےحکم سے اسے سنگسار کر دیا گیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے کہا: یا رسول اللہ! آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں حالانکہ اس نے زنا کیا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے تو ایسی توبہ کی ہے کہ اگر مدینہ کے ستر باشندوں میں بھی تقسیم کر دی جائے تو ان کے لیے کافی ہو جائے۔ کیا تم اس سے زیادہ بھی کوئی افضل بات پاتے ہو کہ اس نے اللہ عز و جل کے لیے اپنی جان ہی قربان کر دی؟!“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

جہینہ قبیلے کی ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی جو حاملہ تھی۔ اس نے زنا کیا تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو بتایا کہ اس نے ایک ایسی چیز کا ارتکاب کیا ہے جس سے اس پر حد کی سزا واجب ہوتی ہے۔ (اس کے بتانے کا مقصد یہ تھا) کہ آپ ﷺ اس پر یہ حد نافذ کریں۔ نبی ﷺ نے اس کے ولی کو بلایا اور اسے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا اور یہ کہا کہ جب وہ بچہ جن دے تو اسے لے کر آپ ﷺ کے پاس آئے۔جب اس نے بچہ جن دیا تو اس کا ولی اسے لے کر آپ ﷺ کے پاس آیا۔ اس کے کپڑے لپیٹ کر باندھ دیے گئے تا کہ وہ ننگی نہ ہو اور پھر آپ ﷺ کے حکم سے اسے سنگسار کر دیا گیا یہاں تک کہ اس کی موت واقع ہو گئی۔ پھر نبی ﷺ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی اور اس کے لیے وہ دعا مانگی جو مرنے والے کے لیے مانگی جاتی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے کہا: یا رسول اللہ! آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں حالانکہ اس نے زنا کیا تھا؟۔ نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ اس نے تو اتنی بڑی توبہ کی ہے کہ اگر اسے ستر گناہ گاروں میں بھی تقسیم کر دیا جائے تو ان کے لیے کافی ہوجائے۔ اس نے تو اللہ کی رضا کے لیے اور زنا کے گناہ سے خلاصی پانے کے لیے اپنی جان ہی دے دی۔ کیا اس سے بھی کوئی بڑا کام ہو سکتا ہے۔؟

حوالہ

- صحيح البخاري -للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ. - نزهة المتقين بشرح رياض الصالحين/تأليف مصطفى سعيد الخن-مصطفى البغا-محي الدين مستو-علي الشربجي-محمد أمين لطفي-مؤسسة الرسالة-بيروت –لبنان-الطبعة الرابعة عشرة1407-. -بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين –سليم بن عيد الهلالي دار ابن الجوزي –الطبعة الأولى 1418. - دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين -المؤلف: محمد علي بن محمد بن علان الصديقي-اعتنى بها: خليل مأمون شيحا-دار المعرفة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت – لبنان-الطبعة: الرابعة، 1425 هـ - 2004 م. -المعجم الوسيط-المؤلف: مجمع اللغة العربية بالقاهرة (إبراهيم مصطفى / أحمد الزيات / حامد عبد القادر / محمد النجار) -دار الدعوة.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جُہینہ قبیلے کی ایک عورت جو زنا کی وجہ سے حاملہ تھی، نبی ﷺ کے پاس آئی۔

عن عمران بن الحصين رضي الله عنهما : أنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أتَت النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهِيَ حُبْلَى مِنَ الزِّنَا، فَقَالَتْ: يَا رسول الله، أصَبْتُ حَدّاً فَأقِمْهُ عَلَيَّ، فَدَعَا رسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَلِيَّها، فقالَ: «أحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإذَا وَضَعَتْ فَأتِنِي بِهَا» فَفَعَلَ، فَأمَرَ بها النبيُّ صلى الله عليه وسلم فَشُدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أمَرَ بِهَا فَرُجِمَت، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا.
عمران بن حصين رضی اللہ عنہ سے روايت ہے کہ: جُہینہ قبیلے کی ایک عورت جو زنا کی وجہ سے حاملہ تھی، نبی ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں (جرم کا ارتکاب کرکے)حد کو پہنچ گئی ہوں، لہٰذا آپ وہ (حد) مجھ پر نافذ فرمائیں۔آپ ﷺ نے اس کے ولی (سرپرست) کو بلایا اور اس سے فرمایا: ”اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، پھر جب یہ بچہ جن لے تو اسے میرے پاس لانا“۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ نبیﷺ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اس کے کپڑے اس پر مضبوطی سے باندھ دیے گئے، پھر آپ ﷺ کے حکم سے اسے رجم (سنگسار) کردیا گیا۔ پھر آپ ﷺنے اس کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ یہ عورت زنا کی وجہ سے حاملہ تھی۔ اس نے عرض کیا: مجھ سے ایسا گناہ سرزد ہوگیا ہے جس سے حد واجب ہوجاتی ہے، لہٰذا آپ وہ (حد) مجھ پر نافذ فرمائیں۔ یعنی وہ خود نبی ﷺ سے یہ چاہ رہی تھی کہ آپ ﷺ اس پر حد نافذ کریں، اور وہ رجم کی حد تھی; کیوں کہ یہ عورت شادی شدہ تھی۔ نبی ﷺ نے اس کے سرپرست کو بلایا اور اس سے فرمایا: ”اس عورت کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور جب یہ بچہ جن لےتو اسے میرے پاس لانا“۔ آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ: ”اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو“ اس لیے تھا کیونکہ آپ ﷺ کو اس عورت پر ان کی طرف سے خوف محسوس ہوا اس لیے کہ انھیں عار اور عزت و آبرو پر غیرت لاحق ہوئی تھی، اورانھیں عار کا لاحق ہونا انہیں اس عورت کو تکلیف دینے پر ابھار سکتا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے متنبہ کرتے ہوئے انہیں اس کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تاکید فرمائی۔ نیز اس پر مزید مہربانی کرتے ہوئے ایسا کیا کیونکہ وہ توبہ کر چکی تھی۔ اور آپ ﷺ نے انہیں اس کے ساتھ حسن سلوک پر ابھارا کیونکہ لوگوں کے دلوں میں ایسی عورت کے بارے میں نفرت ہوتی ہے اور وہ اسے تکلیف دہ باتوں اور طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں۔ چناچہ وضع حمل کے بعد اسے نبی ﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ اپنے بچے کا دودھ چھڑانے تک انتظار کرے۔ جب اس نے بچے کا دودھ چھڑا دیا تو وہ آپ ﷺ کے پاس آئی۔ چناں چہ آپ ﷺ نے اس پر حد نافذ کیا۔ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کے کپڑوں کو اس پر مضبوطی سے باندھ دیا جائے تاکہ ایسا نہ ہو کہ سنگسار کے وقت تڑپنے کی وجہ سے اس کا ستر ظاہر ہوجائے۔ پھر آپ ﷺ کے حکم کے مطابق اسے رجم کردیا گیا اور آپ ﷺ نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين؛ لمحمد بن علان الشافعي، دار الكتاب العربي-بيروت. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن-الرياض، 1426هـ. صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمھارا فیصلہ کتاب اللہ ہی کے مطابق کروں گا۔ باندی اور بکریاں تمھیں واپس ملیں گی اور تمھارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ اچھا، سنو انیس! (قبیلۂ بنو اسلم کے ایک شخص) تم اس عورت کے یہاں جاؤ۔ اگر وہ بھی (زنا کا) اقرار کر لے، تو اسے رجم کر دو۔

عن أبي هريرة، وزيد بن خالد الجهني رضي الله عنهما ، أنهما قالا: «إن رجلا من الأعراب أتى رسول صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، أَنْشُدُكَ اللهَ إلا قضيتَ بيننا بكتاب الله. فقال الخَصْمُ الآخر -وهو أفْقه منه-: نعم، فاقْضِ بيننا بكتاب الله، وأْذَنْ لي. فقال النبي صلى الله عليه وسلم : قل. فقال: إنَّ ابني كان عَسِيفًا على هذا فزنى بامرأته، وإني أُخبرتُ أن على ابني الرَّجْمَ، فافْتَدَيْتُ منه بمائة شاة ووَلِيدَةٍ، فسألتُ أهل العلم فأخبروني أنما على ابني جَلْدُ مائة وتَغْرِيبُ عام، وأنَّ على امرأة هذا الرَّجْمَ. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : والذي نفسي بيده لأَقْضِيَنَّ بينكما بكتاب الله، الوَلِيدَةُ والغنم رَدٌّ عليك، وعلى ابنك جَلْدُ مائة وتَغْرِيبُ عام. واغْدُ يا أُنَيْسُ -لرجل مِن أَسْلَم- على امرأة هذا، فإن اعترفتْ فارْجُمْهَا، فَغَدَا عليها فاعترفتْ، فأَمَرَ بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فرُجِمَتْ».
ابو ہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! میں آپ سے اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ دوسرے فریق نے جو اس سے زیادہ سمجھ دار تھا، کہا کہ جی ہاں! کتاب اللہ کے مطابق ہی ہمارا فیصلہ فرمائیے، اور مجھے (اپنا مقدمہ پیش کرنے کی) اجازت دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پیش کر۔ اس نے بیان کرنا شروع کیا کہ میرا بیٹا ان صاحب کے یہاں مزدور تھا۔ پھر وہ ان کی بیوی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کر بیٹھا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ (زنا کی سزا میں) میرے لڑکے کو سنگسارکر دیا جائے گا، تو میں نے اس کے بدلے میں سو بکریاں اور ایک باندی دے دی۔ پھر اہل علم سے اس کے بارے میں دریافت کیا، تو پتہ چلا کہ میرے لڑکے کو (غیر شادی شدہ ہونے کی وجہ سے زنا کی سزا میں) سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کر دیا جائے گا۔ البتہ اس کی بیوی رجم کر دی جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمھارا فیصلہ کتاب اللہ ہی کے مطابق کروں گا۔ باندی اور بکریاں تمھیں واپس ملیں گی اور تمھارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ اچھا، سنو انیس! (قبیلۂ بنو اسلم کے ایک شخص) تم اس عورت کے یہاں جاؤ۔ اگر وہ بھی (زنا کا) اقرار کر لے، تو اسے رجم کر دو“۔ چنانچہ انیس رضی اللہ عنہ اس عورت کے یہاں گئے اور اس نے اقرار بھی کر لیا۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے حکم سے اس خاتون کو سنگسار کردیا گیا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

یہ حدیث بتا رہی ہے کہ ایک شخص نے کسی کے ہاں مزدوری کی اور صاحب خانہ کی بیوی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کر بیٹھا۔ زانی کے والد نے یہ بات سن رکھی تھی کہ ہر زانی کی سزا رجم (سنگسار کرنا) ہے؛ لہٰذا اس نے خاتون کے شوہر کو سو بکریاں اور ایک باندی فدیہ میں دے دی۔ پھر بعض اہل علم سے دریافت کرنے پر انھیں پتہ چلا کہ ان کے بیٹے پر نہیں، بلکہ اس خاتون پر رجم کی سزا نافذ ہوگی اور ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے اس کو جلا وطنی کی زندگی گذارنی ہوگی۔ لہٰذا زانیہ خاتون کا شوہر اور زانی شخص کے والد، دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ آپ ﷺ ان کے مابین کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ صادر فرمائیں۔ آپ ﷺ نے زانی کے والد کی سو بکریاں اور باندی واپس کرنے کا حکم دیا اور انھیں اس بات سے مطلع فرمایا کہ ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کردیا جائے گا؛ کیوںکہ وہ تاحال غیر شادی شدہ تھا اور زانیہ خاتون کے تئیں حکم دیا کہ اس سے بھی اس امر کا تیقن حاصل کرلیا جائے کہ اس نے اس بدکاری کا ارتکاب کیا ہے۔ لہٰذا اقرار جرم کے بعد اس خاتون کو سنگسار کردیا گیا؛ کیوں کہ وہ شادی شدہ تھیں۔

حوالہ

- صحيح البخاري، دار طوق النجاة ط 1422هـ. - صحيح مسلم، ط دار إحياء التراث العربي .تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ. - الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط مكتبة السعادة، الطبعة الثانية. - تأسيس الأحكام للنجمي، ط دار المنهاج 1427هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

کسی بھی ایسے مسلمان کا خون بہاناجائز نہیں جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، سوائے تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا يَحِلّ دمُ امرئ مسلم، يشهد أن لا إله إلا الله، وأن محمدًا رسول الله، إلا بإحدى ثلاث: رجل زَنَى بَعْدَ إِحْصَان، فإنه يُرْجَم، ورجل خرج مُحاربًا لله ورسوله، فإنه يُقَتُل، أو يُصلَّبُ، أو يُنفى من الأرض، أو يَقتلَ نفسًا، فيُقتلُ بها".
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی بھی ایسے مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبودِ برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، سوائے تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں: پہلی صورت یہ ہے کہ وہ شادی شدہ ہو اور زنا کا ارتکاب کربیٹھے۔ ایسے شخص کو سنگسار کیا جائے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرے۔ (اس جرم کی پاداش میں) اسے قتل کیا جائے گایا سولی پر چڑھایا جائے گا یا اسے جلاوطن کردیا جائے گا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ وہ کسی کو قتل کردے تو اسے بھی (قصاصاً) قتل کر دیا جائے گا۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث میں اُن مسلمانوں کے خون کی حرمت کا اشارہ ہے جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جن سے نواقضِ اسلام میں سے کسی بھی ایسی بات کا ظہور نہیں ہوتا جو شہادتین کے برخلاف ہو۔ کیونکہ شارع حکیم (اللہ تعالی) نے جان کے تحفظ کو بہت اہمیت دی ہے اور اپنی شریعت کو اس کا پاسبان اور محافظ بنایا ہے اور اُس نے شرک باللہ کے بعد کسی بھی ایسی جان کے قتل کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہو ۔ اس حدیث میں شارع نے ہر اس مسلمان کے قتل کو حرام قرار دیا جو شہادتین کا اقرار کرتا ہو سوائے اس کے کہ وہ تین میں سے کسی ایک با ت کا مرتکب ہو: اول: وہ زنا کرے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسے شادی کی نعمت سے نوازا ہو اور صحیح نکاح کے ذریعے اس کی شرمگاہ کو عفت بخشی ہو۔ دوم: زیادتی اور ظلم کا ارتکاب کرتے ہوئے وہ کسی معصوم جان پر دست دراز ہو کر اسے قتل کر دے۔ ایسے شخص کے حق میں عدل و مساوات کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو اس نے کیا تاکہ حق قائم ہو اور ظالم لوگوں کو سرکشی سے باز رکھا جا سکے۔ سوم: جو اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے نکل پڑے بایں طور کہ ان پر ڈاکہ زنی کرے، انہیں دہشت زدہ کرے، ان کا مال ان سے چھینے اور ان میں فساد برپا کرے۔اس طرح کے شخص کو یا تو قتل کر دیا جائے گا یا سولی پرچڑھا دیا جائے گا یا پھر جلا وطن کر دیا جائے گا تا کہ لوگ اس کے شر اور ظلم و زیادتی سے نجات پا سکیں۔ یہ وہ تین لوگ ہیں جنہیں قتل کر دیا جائے گا کیونکہ ان کے قتل کرنے میں دین و جان اور عزت و ناموس کی سلامتی ہے۔

حوالہ

- سنن أبي داود , تحقيق: محمد محي الدين, المكتبة العصرية. - سنن للنسائي, تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة, مكتب المطبوعات الإسلامية الطبعة: الثانية، 1406 - صحيح الجامع الصغير وزيادة للألباني , المكتب الإسلامي - بلوغ المرام من أدلة الأحكام لابن حجر تحقيق: سمير بن أمين الزهيري, دار الفلق - ط: السابعة، 1424 هـ - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - عون المعبود شرح سنن أبي داود، للعظيم آبادي دار الكتب العلمية - بيروت, الطبعة: الثانية، 1415 هـ - تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ 2006 م - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ - فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى 1427.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی۔ اللہ نے آپ پر جو نازل کیا اس میں رجم کی آیت بھی تھی، ہم نے اسے پڑھا، یاد کیا اور سمجھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے بھی رجم کی سزا دی اور آپ ﷺ کےبعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی۔

عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال وهو جالس على منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إن الله قد بعث محمدًا صلى الله عليه وسلم بالحق، وأنزل عليه الكتاب، فكان مما أُنْزِلَ عليه آية الرجم، قَرَأْنَاَهَا وَوَعَيْنَاَهَا وعَقِلْنَاَهَا، فَرَجَمَ رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ورجمنا بعده، فأخشى إن طال بالناس زمان أن يقول قائل: ما نجد الرجم في كتاب الله فَيَضِلُّوا بترك فريضة أنزلها الله، وإن الرجم في كتاب الله حَقٌّ على من زنى إذا أَحْصَنَ من الرجال والنساء، إذا قامت البينة، أو كان الحَبَلُ، أو الاعتراف".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ رسول اللہ ﷺکے منبر پر تشریف فرما تھے بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی، اللہ نے آپ پر جو نازل کیا اس میں رجم کی آیت بھی تھی، ہم نے اسے پڑھا، یاد کیا اور سمجھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے بھی رجم کی سزا دی اور آپ ﷺکے بعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی، مجھے ڈر ہے کہ لوگوں پر ایک لمبا زمانہ گزر جائے گا تو کوئی کہنے والا کہے گا: ہم اللہ کی کتاب میں رجم (کا حکم) نہیں پاتے، تو وہ لوگ ایسے فرض کو چھوڑنے سے گمراہ ہو جائیں گے جسے اللہ نے نازل کیا ہے اور بلاشبہ اللہ کی کتاب میں رجم (کا حکم) عورتوں اور مردوں میں سے ہر ایک پرجس نے زنا کیا، جب وہ شادی شدہ ہو برحق ہے۔ (یہ سزا اس وقت دی جائے گی،) جب شہادت قائم ہو جائے یا حمل ٹھہر جائے یا (زانی کی طرف سے) اعتراف ہو۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو دینِ حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے اور وہ اسلام ہے۔ آپ ﷺ پر بہترین کتاب نازل فرمائی اور وہ قرآن ہے جس میں آیت رجم بھی نازل کی گئی جو کہ شادی شدہ زانی کے لیے تھی، اس کے الفاظ کو قرآن میں سے منسوخ کر دیا گیا جب کہ اس حکم کو باقی رکھا گیا۔ ان کو یہ ڈر پیدا ہوا کہ بعد میں آنے والے لوگ قرآن کریم کے اس حکم کے منکر نہ ہو جائیں اس لیے اس کو بیان کر دیا ۔اور یہ بالکل برحق ہے کہ کوئی بھی شادی شدہ شخص جب زنا کرے اور اس کا نکاح صحیح ثابت ہو جائے یا وہ اپنے زنا کا اقرار یا اعتراف کر لے یا پھر بغیر شادی کے حمل وجود میں آ جائے یا پھر عورتوں کے معاملات کا کوئی ماہر یہ بتا دے کہ یہ شادی شدہ ہے تو اس کی سزا رجم ہے۔ یہ وہ امور ہیں جو زانی کے لیے رجم کی سزا کو ثابت کرتے ہیں۔

حوالہ

صحيح البخاري -الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله الفوزان-طبعة دار ابن الجوزي-الطبعة الأولى 1428 توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام- مكتبة الأسدي –مكة المكرمة –الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام: تأليف الشيخ صالح الفوزان- عناية عبد السلام السليمان - مؤسسة الرسالة الطبعة الأولى فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام للشيخ ابن عثيمين- المكتبة الإسلامية القاهرة- تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى 1427- البدرُ التمام شرح بلوغ المرام تأليف الحسين بن محمد بن سعيد ، المعروف بالمَغرِبي - المحقق: علي بن عبد الله الزبن: دار هجر الطبعة: الأولى- 1414 هـ - 1994 م. بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية. الطبعة: الأولى، 1435 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
9 میں سے 8
9 احادیث
  1. مسلمانوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس نے آپ کو آواز دی اور کہا: اے اللہ کے رسول ! میں نے زنا کیا ہے۔
  2. رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یہودی حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو بتایا کہ ان کے یہاں ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔
  3. نبی ﷺ سے اس باندی کے بارے میں پوچھا گیا جو غیر شادی شدہ ہو اور زنا کا ارتکاب کر لے۔
  4. اس نے تو ایسی توبہ کی ہے کہ اگر مدینہ کے ستر باشندوں میں بھی تقسیم کر دی جائے تو ان کے لیے کافی ہو جائے۔ کیا تم اس سے زیادہ بھی کوئی افضل بات پاتے ہو کہ اس نے اللہ عز و جل کے لیے اپنی جان ہی قربان کر دی۔؟!
  5. جُہینہ قبیلے کی ایک عورت جو زنا کی وجہ سے حاملہ تھی، نبی ﷺ کے پاس آئی۔
  6. اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمھارا فیصلہ کتاب اللہ ہی کے مطابق کروں گا۔ باندی اور بکریاں تمھیں واپس ملیں گی اور تمھارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ اچھا، سنو انیس! (قبیلۂ بنو اسلم کے ایک شخص) تم اس عورت کے یہاں جاؤ۔ اگر وہ بھی (زنا کا) اقرار کر لے، تو اسے رجم کر دو۔
  7. کسی بھی ایسے مسلمان کا خون بہاناجائز نہیں جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، سوائے تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں۔
  8. بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی۔ اللہ نے آپ پر جو نازل کیا اس میں رجم کی آیت بھی تھی، ہم نے اسے پڑھا، یاد کیا اور سمجھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے بھی رجم کی سزا دی اور آپ ﷺ کےبعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی۔
  9. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کوڑے لگائے اور جلا وطن کیا، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کوڑے لگائے اور جلا وطن کیا اور عمر رضی اللہ عنہ نے کوڑے لگائے اور جلا وطن کیا

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com