سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کوڑے لگائے اور جلا وطن کیا، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کوڑے لگائے اور جلا وطن کیا اور عمر رضی اللہ عنہ نے کوڑے لگائے اور جلا وطن کیا

عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم ضَرَبَ وَغَرَّبَ، وأن أبا بكر ضَرَبَ وَغَرَّبَ، وأن عمر ضَرَبَ وَغَرَّبَ.
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کوڑے لگائے اور جلا وطن کیا، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کوڑے لگائے اور جلا وطن کیا اور عمر رضی اللہ عنہ نے کوڑے لگائے اور جلا وطن کیا
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر شادی شدہ زانی کو حد کے طور پر سو کوڑے لگائے اور پورے ایک سال تک کے لیے شہر بدر کردیا اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اسی پر عمل کیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ شہر بدری حد کے تابع ہے، اس کا ایک حصہ ہے اور منسوخ نہیں ہے، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ و علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی اس پر عمل ہوتا رہا ہے۔

حوالہ

- تسهيل الالمام، للشيخ صالح الفوزان، طبعة الرسالة، الطبعة الأولى، 1427ه – 2006م. - فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى، 1427ه - 2006م. - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م. - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية، الطبعة الأولى، 1435هـ - 2014م. - إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، للشيخ الألباني، الناشر: المكتب الإسلامي – بيروت، الطبعة الثانية 1405هـ - 1985م. - سنن الترمذي، للإمام الترمذي، تحقيق: أحمد محمد شاكر وآخرون، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي –مصر- الطبعة الثانية، 1395هـ - 1975م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
حدِ زنا

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com