سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

تعزیراتی سزاؤں کے احکام

2 احادیث

حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔

عَنْ أَبِي بُرْدَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضيَ اللهُ عنهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يُجْلَدُ أَحَدٌ فَوْقَ عَشَرَةِ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ».
ابو بردۃ ھانی بن نیار بلوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اللہ تعالیٰ کے حدود سے مراد اس کے اوامر اور نواہی ہیں۔ ان کے لیے کچھ عبرتناک سزائیں مقرر ہیں۔ یہ یا تو معین سزائیں ہیں، جیسے زناکاری اور بہتان تراشی۔ یا غیر معین، جیسے ماہ رمضان میں دن کے وقت کھانا، زکاۃ ادا کرنے سے انکار کر دینا اور دیگر حرام کردہ امور کا ارتکاب کرنا یا واجبات کو ترک کردینا۔ اللہ تعالیٰ کی معصیت و نافرمانی سے ہٹ کر بھی خواتین اور بچوں کے لیے کچھ تادیبی اور تعزیری سزائیں ہیں، جو ان کے اصلاح احوال اور انھیں تہذیب کے دائرے میں رکھنے کی غرض سے دی جاتی ہیں۔ خیال رہے کہ یہ تعزیری سزائیں دس کوڑوں سے زائد نہیں ہوسکتیں، الا یہ کہ وہ اپنے کسی دینی واجب کو چھوڑ دیں یا اپنے پروردگار کی جانب سے حرام کردہ کسی امر کا ارتکاب کربیٹھیں۔

حوالہ

صحيح البخاري (8/ 174) (6850). صحيح مسلم (3/ 1332) (1708). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص677). توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، لعبد الله البسام (5/ 465).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا، جو کسی مرد یا کسی عورت کے دبر میں صحبت (ہم بستری) کرے"۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْظُرُ اللهُ إِلَى رَجُلٍ أَتَى رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً فِي دُبُرٍ».
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا، جو کسی مرد یا کسی عورت کے دبر میں صحبت (ہم بستری) کرے"۔
رواه الترمذي والنسائي في الكبرىدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بڑی سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا کہ اللہ ایسے شخص پر نظر رحمت نہيں ڈالے گا، جو کسی مرد سے اس کے دبر میں یا کسی عورت سے اس کے دبر میں وطی کرے۔ یہ کام کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔

فوائد
  1. مرد کا دوسرے مرد کے ساتھ ہمبستری کرنا -یعنی لواطت- کبیرہ گناہ ہے۔
  2. عورت کے دبر میں وطی کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
  3. اس حدیث میں آئے ہوئے الفاظ "لا ينظر الله" کے معنی یہ ہیں کہ اللہ رحمت اور رافت کی نظر نہيں ڈالے گا۔ یہاں مراد عام نظر نہيں ہے۔ کیوں کہ اللہ سے نہ کوئی چيز مخفی رہتی ہے اور نہ اس کی نگاہ سے کوئی چیز اوجھل۔
  4. یہ کام دراصل سخت بے حیائی ہے اور انسانیت کے لیے بڑا ہی نقصان دہ ہے۔ کیوں کہ اس کے اندر بشری فطرت سلیمہ کی خلاف ورزی، قلتِ نسل، ازدواجی زندگی کو تباہ و برباد کرنے، بغض وعداوت کا بیج ڈالنے اور گندی جگہوں میں جانے جیسی شناعتیں پائی جاتی ہیں۔
حوالہ

سنن الترمذي (2/ 457) (1165). السنن الكبرى للنسائي (8/ 197) (8952). توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام (5/ 347). فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (4/ 536). تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، للمباركفوري (4/ 276).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com