سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا، جو کسی مرد یا کسی عورت کے دبر میں صحبت (ہم بستری) کرے"۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْظُرُ اللهُ إِلَى رَجُلٍ أَتَى رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً فِي دُبُرٍ».
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا، جو کسی مرد یا کسی عورت کے دبر میں صحبت (ہم بستری) کرے"۔
رواه الترمذي والنسائي في الكبرىدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بڑی سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا کہ اللہ ایسے شخص پر نظر رحمت نہيں ڈالے گا، جو کسی مرد سے اس کے دبر میں یا کسی عورت سے اس کے دبر میں وطی کرے۔ یہ کام کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔

فوائد
  1. مرد کا دوسرے مرد کے ساتھ ہمبستری کرنا -یعنی لواطت- کبیرہ گناہ ہے۔
  2. عورت کے دبر میں وطی کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
  3. اس حدیث میں آئے ہوئے الفاظ "لا ينظر الله" کے معنی یہ ہیں کہ اللہ رحمت اور رافت کی نظر نہيں ڈالے گا۔ یہاں مراد عام نظر نہيں ہے۔ کیوں کہ اللہ سے نہ کوئی چيز مخفی رہتی ہے اور نہ اس کی نگاہ سے کوئی چیز اوجھل۔
  4. یہ کام دراصل سخت بے حیائی ہے اور انسانیت کے لیے بڑا ہی نقصان دہ ہے۔ کیوں کہ اس کے اندر بشری فطرت سلیمہ کی خلاف ورزی، قلتِ نسل، ازدواجی زندگی کو تباہ و برباد کرنے، بغض وعداوت کا بیج ڈالنے اور گندی جگہوں میں جانے جیسی شناعتیں پائی جاتی ہیں۔
حوالہ

سنن الترمذي (2/ 457) (1165). السنن الكبرى للنسائي (8/ 197) (8952). توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام (5/ 347). فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (4/ 536). تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، للمباركفوري (4/ 276).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
تعزیراتی سزاؤں کے احکام

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com