ابو بردۃ ھانی بن نیار بلوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
اللہ تعالیٰ کے حدود سے مراد اس کے اوامر اور نواہی ہیں۔ ان کے لیے کچھ عبرتناک سزائیں مقرر ہیں۔ یہ یا تو معین سزائیں ہیں، جیسے زناکاری اور بہتان تراشی۔ یا غیر معین، جیسے ماہ رمضان میں دن کے وقت کھانا، زکاۃ ادا کرنے سے انکار کر دینا اور دیگر حرام کردہ امور کا ارتکاب کرنا یا واجبات کو ترک کردینا۔
اللہ تعالیٰ کی معصیت و نافرمانی سے ہٹ کر بھی خواتین اور بچوں کے لیے کچھ تادیبی اور تعزیری سزائیں ہیں، جو ان کے اصلاح احوال اور انھیں تہذیب کے دائرے میں رکھنے کی غرض سے دی جاتی ہیں۔ خیال رہے کہ یہ تعزیری سزائیں دس کوڑوں سے زائد نہیں ہوسکتیں، الا یہ کہ وہ اپنے کسی دینی واجب کو چھوڑ دیں یا اپنے پروردگار کی جانب سے حرام کردہ کسی امر کا ارتکاب کربیٹھیں۔
حوالہ
صحيح البخاري (8/ 174) (6850).
صحيح مسلم (3/ 1332) (1708).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص677).
توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، لعبد الله البسام (5/ 465).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com