سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رسول اللہ ﷺ نے پانی میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عنِ النَّفْخ في الشّراب، فقال رجل: القَذَاة أَرَاهَا في الإناء؟ فقال: «أَهْرِقْهَا». قال: إِنِّي لا أَرْوى من نَفَس واحد؟ قال: «فَأَبِنِ القدح إذًا عن فِيك».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پانی میں پھونک مارنے سے منع فرمایا، اس پر ایک شخص نے سوال کیا کہ اگر مجھے پانی میں کوئی تنکا نظر آ جاتا ہے تو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے انڈیل دو۔ اس نے مزید پوچھا کہ میں ایک سانس میں سیراب نہیں ہو پاتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم سانس لو، تو پیالہ اپنے منہ سے ہٹا دو۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے پانی میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔ ایک آدمی نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! بعض اوقات پانی میں کوئی تنکا ہوتا ہے اور اسے نکالنےکے لیے انسان پھونک مارتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: جس پانی میں تنکا وغیرہ ہو، اس میں پھونک نہ مارو؛ بلکہ اسے انڈیل دو۔ اس شخص نے مزید پوچھا کہ وہ اگر ایک سانس میں سیراب نہیں ہوتا، تو پھر کیا کرے؟ اس پر نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ وہ برتن کو اپنے منہ سے ہٹا کر سانس لے اور پھر دوبارہ پی لے۔

حوالہ

شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426ه. كنوز رياض الصالحين، إشراف حمد العمار ، نشر: دار كنوز إشبيليا، الطبعة: الأولى، 1430ه 2009م. سنن الترمذي، نشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر، الطبعة: الثانية، 1395هـ - 1975م. موطأ الإمام مالك، ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت – لبنان، عام النشر: 1406هـ - 1985م. مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م. سنن الدارمي، تحقيق: حسين سليم أسد الداراني، نشر: دار المغني للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى، 1412هـ - 2000م. صحيح الجامع الصغير وزياداته، للألباني، نشر: المكتب الإسلامي. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه 1987م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
کھانے پینے کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com