”اللہ تعالی بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ وہ کھانا کھائے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے یا پانی پیے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے“۔
عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إِنَّ اللهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا، أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”اللہ تعالی بندے کی اس بات سے خوش ہوتا ہے کہ وہ کھانا کھائے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے یا پانی پیے اور اس پر اللہ کی تعریف کرے“۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ بندے کا اللہ کے فضل و کرم اور اس کی نعمتوں پر اللہ کی تعریف کرنا ایک ایسی چیز ہے، جس سے اللہ کی خوش نودی حاصل ہوتی ہے۔ اس تعریف کی ایک شکل یہ ہے کہ بندہ کھانا کھائے اور الحمد للہ کہے، اسی طرح پانی پیے اور الحمد للہ کہے۔
فوائد
بندوں پر اللہ کا لطف و کرم ہے کہ وہ روزی بھی دیتا ہے اور تعریف سے خوش بھی ہوتا ہے۔
اللہ کی خوش نودی چھوٹے چھوٹے کاموں سے بھی حاصل ہوتى ہے۔ جیسے کھانے اور پینے کے بعد اللہ کی تعریف کرنا۔
کھانے اور پینے کا ایک ادب یہ ہے کہ کھانے پینے کے بعد اللہ کی تعریف کی جائے۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 2095) (2734).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمصطفى الخن وغيره (1/ 164).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 215).
شرح رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، لابن عثيمين (2/ 203).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين.
تطرز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص764).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com