سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رسول اللہ ﷺ جب کھانا کھالیتے تو آپ ﷺ (آخر میں) اپنی تین انگلیوں کو چاٹ لیا کرتے تھے۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه كان إذا أكل طعاما، لعق أصابعه الثلاث. قال: وقال: «إذا سقطت لُقمة أحدكم فليُمِطْ عنها الأذى، وليأكلها ولا يَدَعْهَا للشيطان» وأمر أن تُسْلَتَ القَصْعَةُ، قال: «فإنكم لا تدرون في أيِّ طعامكم البركة» وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنه أن رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قالَ: "إنّ الشيطانَ يَحضُرُ أحدَكُم عندَ كلِ شيءٍ من شَأنِه، حتى يَحضُرَهُ عندَ طعامِهِ، فإذا سَقطتْ لقمةُ أحدِكُم فليَأخُذْها فَلْيُمِطْ ما كانِ بها من أذى، ثم ليَأكُلْها ولا يَدَعْها للشيطانِ، فإذا فَرَغَ فليَلْعَقْ أصابعَهُ، فإنه لا يَدري في أيِّ طَعامه البركة"
انس ابن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کھانا کھا لیتے تو آپ ﷺ (آخر میں) اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹ لیا کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس سے گندگی کو جھاڑ کر اسے کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے“۔ اور آپ ﷺ نے حکم دیا کہ (کھانے کے) برتن کو اچھی طرح صاف کر دیا جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے“۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”شیطان تم میں سے ہر ایک کے ہر کام کے وقت موجود ہوتا ہے حتی کہ کھانے کے وقت بھی، لہذا اگر تم میں سے کسی سے اُس (کے کھانے ) کا لقمہ گر جائے تو (وہ اُس لقمے کو اٹھا لے اور) اس لقمے پرجو گندگی لگ گئی ہو اُسے صاف کر لے اور پھر اُسے کھا لے اور اُس لقمے کو شیطان کےلیے نہ چھوڑے اور جب وہ کھانے سے فارغ ہو تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اُس کے کھانے کے کس سے حصے میں برکت ہے“۔
اس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہیہ حدیث اپنی دونوں روایات کے اعتبار سے صحیح ہے۔
تشریح

حدیث میں شیطان سے ڈرایا گیا ہے اور اس بات پر متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ انسان کے تمام افعال میں اس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ چنانچہ مناسب یہ ہے کہ انسان (اس سے مقابلے کے لیے) تیار اور اس سے چوکنا رہے اور اس کی مزین کردہ باتوں سے دھوکا نہ کھائے۔ انسان کے سامنے جو کھانا آتا ہے اس میں برکت ہوتی ہے اور اسے معلوم نہیں ہوتا کہ برکت کھانے کے اس حصے میں ہے جسے اس نے کھا لیا ہے یا پھر اس حصے میں جو اس کی انگلیوں پر لگا ہے یا جو پلیٹ کے پیندی میں لگا رہ گیا ہے یا پھر اس لقمے میں جو نیچے گر گیا ہے۔چنانچہ انسان کو چاہیے کہ وہ ان سب کو ضائع ہونے سے بچائے تاکہ اسے برکت حاصل ہو سکے۔ برکت کا حقیقی معنی ہے بھلائی کا زیادہ ہونا، اس کا باقی رہنا اور اس سے نفع اٹھانا۔ یہاں مراد وہ کھانا ہے جس سے غذائیت حاصل ہو، جس میں کوئی گندگی نہ ہو اور جو اللہ تعالی کی اطاعت گزاری کی قوت پیدا کرے۔ ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ انگلیوں سے کھانا کھاتے ہوئے ایسی شے نکلتی ہے جو کھانے کو ہضم کرنے میں مدد کرتی ہے۔

حوالہ

بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي. تطريز رياض الصالحين؛ تأليف فيصل آل مبارك، تحقيق د. عبدالعزيز آل حمد، دار العاصمة-الرياض، الطبعة الأولى، 1423هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428هـ. شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن-الرياض، 1426هـ. شرح صحيح مسلم؛ للإمام محي الدين النووي، دار الريان للتراث-القاهرة، الطبعة الأولى، 1407هـ. صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبدالباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. فتح الباري بشرح صحيح البخاري؛ للحافظ أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، دار المعرفة-بيروت. كنوز رياض الصالحين؛ فريق علمي برئاسة أ.د. حمد العمار، دار كنوز إشبيليا-الرياض، الطبعة الأولى، 1430هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
جن

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com