تم میں سے کوئی بھی کھڑے ہو کر نہ پیے اور اگر بھول کر پی بیٹھے، تو قے کر دے
عن أنسٍ رضي الله عنه عن النبيِّ صلى الله عليه وسلم : أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرجلُ قَائِمًا.
قال قَتَادَةُ: فقلنا لأنسٍ: فالأَكْلُ؟ قال: ذلك أَشَرُّ - أو أَخْبَثُ.
وفي رواية: أَنَّ النبيَّ صلى الله عليه وسلم زَجَرَ عن الشُّرْبِ قائمًا.
عن أبي هريرة رضي الله عنه مرفوعاً: «لَا يَشْرَبَنَّ أَحَدٌ منكم قَائِمًا، فمن نَسِيَ فَلْيَسْتَقِئْ».
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کھڑے ہو کر کچھ پیے۔
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کھڑے ہو کر کھانے کا کیا حکم ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ تو اس سے بھی برا ہے یا کہا اس سے بھی گندا ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر پینے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی کھڑے ہو کر نہ پیے اور اگر بھول کر پی بیٹھے، تو قے کر دے“۔
اس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔ قتادہ بن دعامہ سدوسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کھڑے ہوکرکھانے کا کیا حکم ہے؟ کیا کھڑے ہو کر کھانا بھی پینے کی طرح ممنوع ہے؟ اس پر انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ تو بطریق اولی ممنوع ہو گا؛ کیوں کہ کھڑے ہو کر کھانا تو زیادہ برا اور گندا ہے۔
”نبی ﷺ نے کھڑے ہوکر پینے سے منع فرمایا“۔
نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی کھڑے ہوکر پیے۔ جو شخص بھول کر ایسا کر لے، تو مستحب یہ ہے کہ وہ اپنے پیٹ میں جو کچھ ہو، اسے نکال دے۔ تاہم ایسا نہ کرنے کی صورت میں اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا؛ کیوں کہ کھڑے ہو کر پینا حرام نہیں بلکہ مکروہ ہے۔
حوالہ
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الرابعة عشر، 1407ه - 1987م.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com