اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے ہوئے دیکھا، تو دائیں ہاتھ سے کھانے کا حکم دیا۔ لیکن اس نے تکبر کی وجہ سے جھوٹ بول دیا کہ وہ ایسا کر نہیں سکتا۔ لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حق میں بد دعا کر دی کہ وہ کبھی دائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھا سکے۔ چنانچہ اللہ نے اپنے نبی کی بد دعا قبول کر لی اور اس کا دایاں ہاتھ بے کار ہو گیا۔ وہ کبھی اپنا ہاتھ کھانے یا پینے کے لیے منہ تک نہیں اٹھا سکا۔
- دائیں ہاتھ سے کھانا واجب اور بائیں ہاتھ سے کھانا حرام ہے۔
- شرعی احکام پر عمل کرنے سے تکبر کرنا انسان کو سزا کا حق دار بنا دیتا ہے۔
- اللہ نے اپنے نبی کو ایک اعزاز یہ دیا تھا کہ ان کی دعا قبول کرتا تھا۔
- اچھے کام کا حکم دینے اور برے کام سے روکنے کا کام ہر حالت میں کرنا ہے۔ کھانے کی حالت میں بھی۔
صحيح مسلم (3/ 1599) (2021). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 239). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 183). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (3/ 396).