سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

یہ شخص ہمارے ساتھ چلا آیا ہے، اگر آپ چاہیں تو اسے اجازت دے دیں اور اگر چاہیں تو یہ واپس چلا جائے

عن أبي مسعود البدري رضي الله عنه قال: دَعَا رَجُلٌ النبيَّ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَهُ له خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَتَبِعَهُمْ رجلٌ، فلَمَّا بَلَغَ البابَ، قال النبيُّ صلى الله عليه وسلم : «إِنَّ هذا تَبِعَنَا، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ له، وإِنْ شِئْتَ رَجَعَ» قال: بَلْ آذَنُ له يا رسولَ اللهِ.
ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کو کھانے کی دعوت دی جو اس نے آپ کے لیے تیار کیا تھا۔ آپ (مدعوین میں) پانچویں تھے۔ تو ان کے ساتھ ایک آدمی اور شامل ہوگیا۔ جب آپ ﷺ (داعی کے) دروازے پر پہنچے تو اس سے فرمایا: ”یہ شخص ہمارے ساتھ چلا آیا ہے، اگر آپ چاہیں تو اسے اجازت دے دیں اور اگر چاہیں تو یہ واپس چلا جائے“۔ اس نے کہا: (نہیں) اے اللہ کے رسول! بلکہ میں اسے اجازت دیتا ہوں۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ایک شخص نے آپ ﷺ کو کھانے پر بُلایا۔ کُل مہمان پانچ تھے، ان کے ساتھ ایک چھٹا شخص بھی چلا آیا۔ آپ ﷺ جب میزبان کے گھر تشریف لائے تو چھٹے شخص کی اجازت مانگی اور فرمایا یہ شخص ہمارے پیچھے چلا آیا ہے، اگر آپ چاہیں تو اس کو اجازت دیدیں، اور اگر چاہیں تو یہ واپس چلا جائے۔ میزبان نے آپ ﷺ کے احترام میں اس شخص کو اجازت دیدی۔

حوالہ

- رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه . - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى1418ه - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - شرح رياض الصالحين؛ للشيخ محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن، الرياض، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
کھانے پینے کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com