نبی ﷺ نے برتن کو حشرات اور موذی جانوروں سے بچانے کے لیے ڈھانکنے کا حکم دیا؛ اس لیے بھی کہ ہو سکتا ہے کوئی وبا اس میں نازل ہو جائے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے مشکیزوں کو باندھ دینے اور دروازوں کو بند کر دینے کا حکم دیا؛ کیوںکہ ایسا کرنے میں دینی اور دنیاوی مصالح ہیں اور بے ہودہ کار اور فساد انگیز لوگوں سے جان و مال کا تحفظ ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے راہ نمائی فرمائی کہ چراغوں کو بجھا دیا جائے، کیوںکہ اس سے گھر اور اہل خانہ محفوظ رہتے ہیں؛ کیوںکہ اندیشہ رہتا ہے کہ کہیں جلنے کا نقصان نہ ہو جائے۔ حدیث رات کو سونے کے وقت پر محمول ہے۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ شیطان بند مشکیزے اور دروازے نہیں کھولتا اور نہ ہی بند برتنوں کو کھولتا ہے۔ اگر برتن کو کسی شے سے مکمل طور پر ڈھانکنا ممکن نہ ہو، بایں طور کہ اس میں موجود شے بالکل بھی دکھائی نہ دے اور نہ ہی اسے جزوی طور پر ڈھانکا جا سکتا ہو، تو پھر بھی وہ شخص اسے کھلا نہ رہنے دے، بلکہ اس پر چوڑائی کے رخ ایک لکڑی رکھ دے اور برتن کو ڈھانکتے ہوئے، مشکیزوں کو باندھتے ہوئے اور دروازوں کو بند کرتے وقت ان پر اللہ تعالی کا نام لے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ چراغ اور اس طرح کی دیگر آتشی اشیا کو اگر ان کے حال پر رہنے دیا جائے اور سونے سے پہلے انھیں بجھایا نہ جائے، تو عموما چوہے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں اور اس وجہ سے بسا اوقات سوتے ہوئے اہل خانہ جل جاتے ہیں۔
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة: الرابعة عشر 1407هـ. كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، كنوز إشبيليا، الرياض، الطبعة: الأولى 1430هـ. رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين، أبو زكريا محيي الدين النووي، تحقيق ماهر الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، الطبعة: الأولى 1428هـ. التنوير شرح الجامع الصغير، محمد بن إسماعيل الصنعاني، تحقيق: محمد إسحاق محمد إبراهيم، مكتبة دار السلام، الطبعة: الأولى 1432هـ. تطريز رياض الصالحين، فيصل بن عبد العزيز المبارك، تحقيق: عبد العزيز بن عبد الله آل حمد، دار العاصمة للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى 1423هـ، 2002م. فتح الباري شرح صحيح البخاري، أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، رقمه وبوب أحاديثه: محمد فؤاد عبد الباقي، دار المعرفة، بيروت، الطبعة: 1379هـ.