سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جب تم میں سے کوئی کھانا کھا چکے، تو اپنے ہاتھ کو نہ پونچھے، یہاں تک کہ اس کو خود چاٹ لے یا کسی اور کو چٹا دے۔

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: ««إذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا، أَوْ يُلْعِقَهَا».
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھا چکے، تو اپنے ہاتھ کو نہ پونچھے، یہاں تک کہ اس کو خود چاٹ لے یا اسے کسی اور کو چٹا دے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ نے حکم دیا کہ جو شخص کھانا کھا چکے، وہ اپنے ہاتھ کو اس وقت تک نہ تو پونچھے اور نہ ہی دھوئے، جب تک اسے چاٹ نہ لے یا اسے چٹا نہ دے۔ بعض روایات میں اس حکم کی علت یہ آئی ہے کہ اس شخص کو نہیں معلوم کہ اس کے کس کھانے میں برکت ہے۔ اس وجہ سے نبی ﷺ نے انگلیوں کے چاٹنے کا حکم دیا کہ ہو سکتا ہے کہ برکت اس کھانے میں ہو، جو ان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ. الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ. تأسس الأحكام للنجمي، ط2، دار علماء السلف، 1414هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
کھانے پینے کے آداب

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com