اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ، جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زیر تربیت اور کفالت میں تھے، بتا رہے ہیں کہ ان کا ہاتھ کھانا کھانے کے دوران کھانا اٹھانے کے لیے برتن کے چاروں جانب گھومتا رہتا تھا، لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو کھانا کھانے کے تین آداب سکھائے : 1- کھانا کھانا شروع کرتے وقت بسم اللہ کہنا۔ 2- دائیں ہاتھ سے کھانا کھانا۔ 3- برتن میں سے اپنے سامنے والے حصے سے کھانا کھانا۔
- کھانے پینے کا ایک ادب یہ ہے کہ شروع میں بسم اللہ کہا جائے۔
- بچوں کو آداب سکھانا چاہیے۔ خاص طور سے ان بچوں کو جو آپ کے زیر کفالت ہوں۔
- بچوں کو تعلیم دینے اور ادب سکھانے کے معاملے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی نرمی اور کشادہ دلی۔
- کھانے کا ایک ادب یہ ہے کہ انسان اپنے سامنے سے کھائے۔ ہاں! اگر پلیٹ میں کھانے کی الگ الگ طرح کی چیزیں موجود ہوں، تو اس کے لئے ان چیزوں کا (برتن کے کسى بھى حصے سے) لینا جائز ہے۔
- صحابہ كرام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سکھائے ہوئے آداب پر پابندی سے عمل کرتے تھے۔ ایسا عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے : "چنانچہ اس کے بعد ہمیشہ میں آپ کے بتائے ہوئے اسی طریقے کے مطابق کھانا کھاتا رہا"۔
صحيح البخاري (7/ 68) (5376)، (3/ 61) (2092). صحيح مسلم (3/ 1599) (2022). شرح النووي على مسلم (13/ 193). توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، للبسام (5/ 440). فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (4/ 616). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (7/ 439). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 169).