سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

مساجد کے احکام

33 احادیث

لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والا ان کے پاس آیا، اور اس نے کہا کہ آج کی رات نبی ﷺ پر قرآن نازل کیا گیا ہے اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ کعبہ کی طرف رخ کریں۔ لہذا آپ لوگ بھی کعبہ کی طرف رخ کرليں

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: «بَينَمَا النَّاس بِقُبَاء في صَلاَة الصُّبحِ إِذْ جَاءَهُم آتٍ، فقال: إِنَّ النبِيَّ صلى الله عليه وسلم قد أُنزِل عليه اللَّيلةّ قرآن، وقد أُمِرَ أن يَستَقبِل القِبْلَة، فَاسْتَقْبِلُوهَا، وكانت وُجُوهُهُم إلى الشَّام، فَاسْتَدَارُوا إِلى الكَّعبَة».
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والا ان کے پاس آیا، اور اس نے کہا کہ آج کی رات نبیﷺ پر قرآن نازل کیا گیا ہے اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ کعبہ کی طرف رخ کریں۔ لہذا آپ لوگ بھی کعبہ کی طرف رخ کرليں۔ (اس وقت) ان لوگوں کے چہرے شام کی طرف تھے، تو (يہ سن کر) سب کعبہ کی طرف گھوم گئےـ
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ايک صحابي مدينہ کے نواح میں مسجد قباء کی طرف گئے تو پتہ چلا کہ وہاں کے لوگوں کواب تک قبلہ کی تبديلی کا علم نہيں ہوا ہے اور وہ لوگ ابھی بھی قبلۂ اول (بيت المقدس) کی طرف رخ کرکے نماز پڑھ رہے ہيں، تو انہيں بتلايا کہ قبلہ کو کعبہ کی طرف پھیر دیا گيا ہے، اور اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے، صحابی رضی اللہ عنہ کا اشارہ اللہ تعالیٰٰ کے اس فرمان کی طرف تھا: { قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ}[البقرة: 144] ''ہم آپ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب آپ کو ہم اس قبلہ کی طرف متوجہ کریں گے جس سے آپ خوش ہو جائیں آپ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں۔ اہل کتاب کو اس بات کے اللہ کی طرف سے برحق ہونے کا قطعی علم ہے اور اللہ تعالیٰ ان اعمال سے غافل نہیں جو یہ کرتے ہیں۔''(سورہ بقرہ:144) اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہء کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی ہے۔ لہذا ان لوگوں نے دین کی گہری سمجھ، تيز فہمی اور صحيح فہم کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے پہلے قبلہ بيت المقدس کی طرف سے اپنا رخ موڑ کر اپنے دوسرے قبلہ خانہءکعبہ کی طرف کرليا۔

حوالہ

تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ. الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381هـ. تنبيه الأفهام، للعثيمين -طبعة مكتبة الصحابة الامارات -مكتبة التابعين- القاهرة- الطبعة الأولى 1426هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اپنی صفیں درست کر لیا کرو۔ اس لیے کہ صفوں کی درستگی نماز کو کامل بنانے والی چیزوں میں سے ایک ہے۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی صفیں درست کر لیا کرو۔ اس لیے کہ صفوں کی درستگی نماز کو کامل بنانے والی چیزوں میں سے ایک ہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

یہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مصلیوں کو اس بات کا حکم دے رہے ہيں کہ صفیں برابر کر لیا کریں۔ کوئی کسی سے آگے رہے، نہ پیچھے۔ صفوں کو برابر کرنا نماز کو کامل بنانے والی چيزوں میں سے ہے اور ان کا ٹیڑھى رہ جانا نماز میں نقص اور خلل کا باعث ہے۔

فوائد
  1. انسان کو ان تمام چیزوں پر توجہ دینی چاہیے، جو نماز کو کامل بنائيں اور اسے نقص سے دور رکھیں۔
  2. یہاں تعلیم کے سلسلے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی حکمت جلوہ گر ہوتی ہے کہ آپ نے حکم کے ساتھ اس کی علت بھی بیان کر دی، تاکہ تشریع کی حکمت واضح ہو جائے اور انسان کے اندر بجا آوری کا جذبہ بیدار ہو۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 145) (723). صحيح مسلم (1/ 324) (433). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام (ص127). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (1/ 161). الإفهام في شرح عمدة الأحكام، لابن باز (ص173).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ایک اعرابی آیا اور اس نے مسجد کے ایک گوشے میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: «جاء أعرابِيُّ، فبَالَ في طَائِفَة المَسجد، فَزَجَرَه النَّاسُ، فَنَهَاهُمُ النبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلمَّا قَضَى بَولَه أَمر النبي صلى الله عليه وسلم بِذَنُوب من ماء، فَأُهرِيقَ عليه».
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی آیا اور اس نے مسجد کے ایک گوشے میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ لوگوں نے اسے ڈانٹا تو آپ ﷺ نے انہیں منع کر دیا۔ جب وہ پیشاب کر چکا تو نبی ﷺ نے پانی کا ایک ڈول لانے کا حکم دیا جسے اس پر بہا دیا گیا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اعرابی لوگ عموماً سخت مزاج اور جاہل ہوتے ہیں کیونکہ وہ ان باتوں کو نہیں سیکھ پاتے جو اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کی ہیں۔ نبی ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے کہ ایک اعرابی نے آکر مسجد کے ایک گوشے میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ اس کے خیال میں یہ مسجد بھی ویرانے ہی کی مانند تھی۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر اس کا یہ فعل بہت گراں گزرا کیونکہ مساجد تو بہت حرمت والی جگہیں ہوتی ہیں۔ چنانچہ پیشاب کرنے کے دوران ہی انہوں نے اسے جھڑکنا شروع کر دیا۔ تاہم نبی ﷺ نے جو بہت بلند اخلاق سے متصف تھے اور جنہیں خوشخبری دینے اور آسانی پیدا کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا تھا انہیں اسے جھڑکنے سے منع کر دیا کیونکہ آپ ﷺ اعرابی لوگوں کے احوال سے خوب آگاہ تھے۔آپ ﷺ کے منع کرنے کا سبب یہ تھا کہ وہ مسجد کی مختلف جگہوں، اپنے جسم اور کپڑوں کو خراب نہ کرے اور اس لیے کہ اسے پیشاب سے روکنے کی وجہ سے کوئی ضرر لاحق نہ ہو اور جب نبی ﷺ اسے تعلیم دیں اور نصیحت کریں تو وہ پورے طریقے سے اسے قبول کرے۔ آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ پیشاب والی جگہ پر پانی کا ڈول بہا کر اسے صاف کر دیں۔

حوالہ

تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426 هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اپنی صفوں کو سیدھا کر لو؛ ورنہ اللہ تمھارے مابین تفرقہ ڈال دے گا۔

عن النعمان بن بشير رضي الله عنه مرفوعاً: «لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُم أو لَيُخَالِفَنَّ الله بين وُجُوهِكُم». وفي رواية: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يُسَوِّي صُفُوفَنَا، حتى كَأَنَّمَا يُسَوِّي بها القِدَاح، حتَّى إِذَا رأى أَنْ قد عَقَلْنَا عَنهُ، ثم خَرَج يومًا فَقَام، حتَّى إِذَا كاد أن يُكَبِّرُ، فَرَأَى رَجُلاً بَادِيًا صَدرُهُ، فقال: عِبَادَ الله، لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُم أو لَيُخَالِفَنَّ الله بين وُجُوهِكُم».
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی صفوں کو سیدھا کر لو؛ ورنہ اللہ تمھارے مابین تفرقہ ڈال دے گا“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہماری صفوں کو سیدھا فرماتے، اتنا سیدھا کہ یوں لگتا کہ آپ ﷺ ان سے تیر سیدھے کریں گے۔ یہاں تک کہ جب آپ ﷺ كو محسوس ہوا کہ ہم آپ کے فرمان کو سمجھ چکے ہیں۔ پھر ایک دن آپ ﷺ باہر آئے اور (نماز كے لیے) کھڑے ہو گئے۔ آپ ﷺ تکبیر کہنے ہی والے تھے کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا، جو اپنا سینہ باہر نکالے ہوئے تھا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! اپنی صفوں کو سیدھا کرو؛ ورنہ اللہ تمھارے مابین اختلاف ڈال دے گا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی ﷺ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اگرصفیں برابر اور سیدھی نہ کی گئیں، تواللہ تعالیٰ ان لوگوں کے مابین اختلاف پیدا فرما دیں گے، جن کی صفیں ٹیڑھی ہیں اور جنھوں نے ان کو سیدھا نہ کیا۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے، جب صف میں کچھ لوگ دوسرے لوگوں سے آگے بڑھ جاتے ہیں اور اپنے مابین خالی جگہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ نبی ﷺ قول کے ذریعے سے اپنے صحابہ کو تعلیم دیتے اور فعل کے ذریعے سے ان کی تہذیب فرماتے۔ چنانچہ آپ ﷺ انھیں اپنے ہاتھ سے درست فرماتے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کو یہ محسوس ہوا کہ وہ اس بات کو جان چکے ہیں اورسجمھ گئے ہیں۔ ایک نماز میں آپ ﷺ نے ایک صحابی کو دیکھا کہ صف میں ان کا سینہ اپنے ساتھیوں کے مابین کچھ ابھرا ہوا ہے اور باہر آ رہا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ غصہ میں آ گئے اور فرمایا: ”اپنی صفوں کو سیدھا کر لو، ورنہ اللہ تمھارے مابین اختلاف ڈال دیں گے“۔

حوالہ

الإلمام بشرح عمدة الأحكام لإسماعيل الأنصاري، ط1، دار الفكر، دمشق، 1381ه. تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة لأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426ه. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم: «اللهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا، لَعَنَ اللهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا۔ ان لوگوں پر اللہ کا شدید غضب نازل ہو، جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“۔
رواه أحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب سے دعا کی ہے کہ وہ آپ کی قبر کو اس بت کی طرح بننے نہ دے، لوگ جس کی عبادت کرتے ہيں۔ مثلا اس کی غلو آمیز تعظیم کرتے ہیں اور اس کی جانب منہ کرکے سجدہ کرتے ہیں۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ نے ان لوگوں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا، جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنا لیا، کیوں کو ان کو مسجد بنانا ان کی عبادت اور ان کے بارے میں غلو آمیز عقیدے کا ذریعہ ہے۔

فوائد
  1. نبیوں اور نیک لوگوں کے بارے میں شرعی حد سے آگے بڑھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے علاوہ ان کی عبادت ہونے لگتی ہے۔ اس لیے شرک کے وسائل سے بچنا ضروری ہے۔
  2. قبروں کی تعظیم اور ان کے پاس عبادت کرنے کے لیے ان کا رخ کرنا جائز نہيں ہے، چاہے قبر میں مدفون شخص اللہ سے جتنا بھی قریب ہو۔
  3. قبروں پر مسجد بنانا حرام ہے۔
  4. قبروں کے پاس نماز پڑھنا حرام ہے، چاہے وہاں مسجد نہ بھی بنائی گئی ہو۔ البتہ ایسے جنازے کی نماز اس سے مستثنی ہے، جس پر نماز نہ پڑھی گئی ہو۔
حوالہ

مسند أحمد (12/ 314) (7358). فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، لعبد الرحمن التميمي (1/ 434). القول المفيد على كتاب التوحيد، لمحمد بن عثيمين (1/ 434). الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص178). الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص194). التمهيد لشرح كتاب التوحيد، لصالح آل الشيخ (ص51). مشكاة المصابيح، للتبريزي (1/ 234).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میری قبر کو عید ( میلا) نہ بنا لینا اور نہ ہی اپنے گھروں کو قبرستان بننا۔ مجھ پر درود وسلام بھیجا کرو۔ کیوں کہ تمھارا بھیجا گیا سلام مجھ تک پہنچتا ہے چاہے، تم جہاں بھی ہو۔

عن علي بن الحسين: "أنه رأى رجلا يجيء إلى فُرْجَةٍ كانت عند قبر النبي صلى الله عليه وسلم فيدخل فيها فيدعو، فنهاه، وقال: ألا أحدثكم حديثا سمعته من أبي عن جدي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:« لا تتخذوا قبري عيدا، ولا بيوتكم قبورا، وصلوا علي، فإن تسليمكم يبلغني أين كنتم».
علی بن حسین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کو دیکھا، جو نبی ﷺ کی قبر کے پاس موجود ایک شگاف میں سے اندر داخل ہوتا اور پھر دعا مانگا کرتا۔ انھوں نے اسے کہا: کیا میں تمھیں ایک ایسی حدیث نہ سناؤں، جو میں نے اپنے ابا سے اور انھوں نے میرے دادا سے سنی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری قبر کو عید ( میلا) نہ بنا لینا اور نہ ہی اپنے گھروں کو قبرستان بننا۔ مجھ پر درود وسلام بھیجا کرو۔ کیوں کہ تمھارا بھیجا گیا سلام مجھ تک پہنچتا ہے چاہے، تم جہاں بھی ہو“۔
اسے ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔درجہیہ حدیث اپنی دیگر اسانید اور شواہد کی بنیاد پر صحیح ہے۔
تشریح

علی بن الحسین (رحمہ اللہ) بتا رہے ہیں کہ انھوں نے ایک شخص کو نبی ﷺ کی قبرمبارک کے پاس کھڑے اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے دیکھا اور یہ کہ انھوں نے اس حدیث نبوی ﷺ کی بنیاد پر اسے ایسا کرنے سے منع فرمایا، جس میں آپ ﷺ کی قبر پر بار بار آنے سے منع کیا گیا ہے۔ اسی طرح اس حدیث میں گھروں کو اللہ کی عبادت اور اس کے ذکر سے تہی کرنے سے بھی منع فرمایا گیا اور ایسے گھروں کو قبروں سے تشبیہہ دی گئی اور یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمان کی طرف سے کیا گیا سلام آپ ﷺ تک پہنچتا ہے، چاہے وہ جس جگہ پربھی ہو۔

حوالہ

كتاب التوحيد، للإمام محمد بن عبد الوهاب، ت: د. دغش العجمي، مكتبة أهل الأثر, الطبعة الخامسة, 1435ه. الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي, ت: محمد بن أحمد سيد, مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة، 1424ه. الملخص في شرح كتاب التوحيد، للشيخ صالح الفوزان, دار العاصمة, الطبعة الأولى، 1422ه. مصنف ابن أبي شيبة، تحقيق: كمال يوسف الحوت، نشر: مكتبة الرشد - الرياض، الطبعة: الأولى، 1409ه. تحذير الساجد من اتخاذ القبور مساجد, الألباني, المكتب الإسلامي - الطبعة: الرابعة.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اے بنوسلمہ! اپنے گھروں میں ہی رہو، تمھارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں، اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں۔

عن جابر رضي الله عنه قال: أراد بنو سلمة أن ينتقلوا للسكن قرب المسجد فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لهم: «إنه قد بلغني أنكم تُريدون أن تنتقلوا قُرب المسجد؟» فقالوا: نعم، يا رسول الله قد أردنا ذلك، فقال: «بَنِي سَلِمَة، دِيارَكُم، تُكتب آثارُكُم، ديارَكُم تُكتب آثاركُم». وفي رواية: «إن بكلِّ خَطْوَة درجة».
جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو سلمہ (قبیلہ) نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا۔ نبی کریم ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے ان سے فرمایا مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہو، تو انہوں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ ہمارا ارادہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنوسلمہ! اپنے گھروں میں ہی رہو، تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں، اپنے گھروں میں ہی رہو تہمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں“۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”تمہارے ہر قدم پر ایک درجہ ہے“۔
امام بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ بنو سلمہ نے مسجد سے دور اپنی جگہ سے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا تو نبی کریم ﷺ نے ناپسند فرمایا تاکہ مدینہ خالی نہ ہو جاۓ جیسا کہ بخاری کی روایت میں ہے۔ اور آپ ﷺ کی یہ خواہش تھی کہ مدینے کو زیادہ سے زیادہ آباد کیا جاۓ تاکہ اس کی وسعت کے باعث منافقین اور مشرکین پر رعب قائم ہو۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم لوگ مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہو؟، تو انہوں نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ! ہمارا ایسا ہی ارادہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنوسلمہ! اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں“۔ آپ ﷺ نے یہ بات دو مرتبہ کہی۔ اور ان کو بتایا کہ تمہارے ہر قدم پر ایک نیکی یا درجہ ہے۔ ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے سب سے زیادہ اجر کا حقدار وہ ہے جس کا گھر (مسجد سے) دور ہو۔ پوچھا گیا: وہ کیوں اے ابو ہُریرہ؟ تو فرمایا (مسجد تک چلنے والے) قدموں کی کثرت کے باعث۔ (مؤطا امام مالک) پس جو مسجد سے جتنا دور ہوگا یہ اس کے لیے درجات میں بلندی اور گناہوں کے کفارے کا باعث ہو گا۔ یہ فضیلت اس وقت حاصل ہوگی جب کوئی شخص گھر میں اچھی طرح وضو کرے، پھر پیدل جاۓ سوار نہ ہو۔ پھر چاہے قدم تھوڑے ہوں یا زیادہ اس کے لیے ہر قدم پر دو چیزیں لکھی جائیں گی: اس کا ایک درجہ بڑھے گا اور ایک گناہ معاف ہوگا۔ نبی ﷺ کے ایک صحابی سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے اور پھر نماز کے لیے جائے تو جب دایاں پاؤں اٹھاۓ گا تواللہ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا۔ اور جب بایاں پاؤں اٹھائے گا تو اللہ اس کا ایک گناہ معاف کر دے گا۔ پس جو قریب ہوسکے ہو جاۓ اور جو دور ہونا چاہے دور ہو جاۓ“۔ (ابو داود) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: آج رات میرا رب میرے پاس خوبصورت شکل میں آیا - راوی کا بیان ہے کہ میرا گمان ہے اس سے آپ ﷺ کی مراد نیند میں ہے- اور مجھ سے فرمایا اے محمد ﷺ کیا آپ کو یہ علم ہے کہ ملأ اعلی (بلند فرشتے) کس چیز میں تکرار کرتے ہیں؟ تو میں نے کہا ہاں، وہ کفارات اور درجات میں تکرار کر رہے ہیں! پوچھا یہ کفارات اور درجات کیا ہیں؟ کہا: کفارات اور درجات یہ ہیں کہ نماز کے بعد مسجد میں ہی ٹھہرنا اور باجماعت نماز کے لیے پیدل چلنا اور ناپسندیدگی کے باوجود مکمل طور سے وضو کرنا۔ (مسند احمد) یہ اس بات کی دلیل ہے کہ درجات کا حصول چند باتوں پر منحصر ہے: 1۔ طہارت کے ساتھ مسجد جانا۔ 2۔ ثواب کی نیت۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے۔ (متفق علیہ)۔ 3۔ گھر سے مسجد جانے ہی کے ارادے سے نکلنا۔ 4۔ سواری کے بجاۓ پیدل جانا سواۓ ایسے شخص کے جسے کوئی عذر لاحق ہو۔

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، أ. د. حمد بن ناصر بن عبد الرحمن العمار، دار كنوز اشبيليا، الطبعة الأولى، 1430هـ. بهجة الناظرين، الشيخ: سليم بن عيد الهلالي، دار ابن الجوزي، الكتاب غير نازل في الشاملة وحملته من المكتبة الوقفية، ولم أجد بيانات غير ما ذكرنا. نزهة المتقين، د. مصطفى سعيد الخن، د. مصطفى البغا، محي الدين مستو، علي الشرجبي، محمد أمين لطفي، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الأولى. 1397هـ - 1977م. شرح رياض الصالحين، الشيخ: محمد بن صالح العثيمين، مدار الوطن للنشر، طبع عام 1426هـ. رياض الصالحين، د. ماهر بن ياسين الفحل، الناشر: دار ابن كثير للطباعة والنشر والتوزيع، دمشق - بيروت، الطبعة: الأولى، 1428هـ - 2007م. صحيح البخاري، محمد بن اسماعيل البخاري، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، المؤلف: مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيري، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت. شرح الزرقاني على موطأ الإمام مالك، المؤلف: محمد بن عبد الباقي بن يوسف الزرقاني، تحقيق: طه عبد الرءوف سعد، الناشر: مكتبة الثقافة الدينية - القاهرة، الطبعة: الأولى، 1424هـ - 2003م. موطأ الإمام مالك، المؤلف: مالك بن أنس بن مالك الأصبحي، صححه ورقمه وخرج أحاديثه وعلق عليه: محمد فؤاد عبد الباقي، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت - لبنان، عام النشر: 1406هـ - 1985م. سنن أبي داود، المؤلف: أبو داود سليمان بن الأشعث الأزدي، المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد، الناشر: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت. صحيح أبي داود - الأم، المؤلف: محمد ناصر الدين الألباني، الناشر: مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الكويت، الطبعة الأولى، 1423هـ - 2002م. مسند الإمام أحمد بن حنبل، المؤلف: أبو عبد الله أحمد بن محمد بن حنبل الشيباني، المحقق: شعيب الأرناؤوط - عادل مرشد، وآخرون، إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى، 1421هـ - 2001م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے اور سب سے برا عمل مسجد میں بلغم نکال پھینکنے اور اسے دفن نہ کرنے کو پایا۔

عن أبي ذر رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم :«عُرِضَتْ عَلَيَّ أعمالُ أُمتي، حَسَنُهَا وسَيِّئُهَا فَوَجَدتُ في مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيقِ، ووَجَدتُ في مَسَاوِئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةُ تَكُونُ في المَسْجِدِ لا تُدْفَنُ».
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے اور سب سے برا عمل مسجد میں بلغم تھوکنے اور اسے دفن نہ کرنے کو پایا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اللہ عز و جل نے امت کے اعمال کو نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ ﷺ نے ان کے اچھے اعمال میں سے ایک اچھا عمل راہ گیروں کو تکلیف دینے والی راستے میں پڑی کسی بھی چیز کو دور کر دینا پایا اور ان کے برے اعمال میں سے ایک عمل یہ پایا کہ انسان مسجد میں تھوک دے اور پھر اسے (مٹی میں) دفن کر کے یا کسی اور طریقے سے زائل نہ کرے۔

حوالہ

- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م. - شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426هـ. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. الطبعة الأولى1418هـ. - صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
33 میں سے 8
33 احادیث
  1. لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والا ان کے پاس آیا، اور اس نے کہا کہ آج کی رات نبی ﷺ پر قرآن نازل کیا گیا ہے اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ کعبہ کی طرف رخ کریں۔ لہذا آپ لوگ بھی کعبہ کی طرف رخ کرليں
  2. اپنی صفیں درست کر لیا کرو۔ اس لیے کہ صفوں کی درستگی نماز کو کامل بنانے والی چیزوں میں سے ایک ہے۔
  3. ایک اعرابی آیا اور اس نے مسجد کے ایک گوشے میں پیشاب کرنا شروع کر دیا۔
  4. اپنی صفوں کو سیدھا کر لو؛ ورنہ اللہ تمھارے مابین تفرقہ ڈال دے گا۔
  5. ”اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا
  6. میری قبر کو عید ( میلا) نہ بنا لینا اور نہ ہی اپنے گھروں کو قبرستان بننا۔ مجھ پر درود وسلام بھیجا کرو۔ کیوں کہ تمھارا بھیجا گیا سلام مجھ تک پہنچتا ہے چاہے، تم جہاں بھی ہو۔
  7. اے بنوسلمہ! اپنے گھروں میں ہی رہو، تمھارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں، اپنے گھروں میں ہی رہو تمہارے قدموں کے نشان لکھے جاتے ہیں۔
  8. میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے اور سب سے برا عمل مسجد میں بلغم نکال پھینکنے اور اسے دفن نہ کرنے کو پایا۔
  9. اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ مقامات، مساجد ہیں اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ مقامات بازار ہیں۔
  10. جو شخص ہماری مسجدوں یا ہمارے بازاروں میں سے کہیں سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہوں تو اسے چاہیے کہ انہیں تھامے رکھے یا پھر اپنی ہتھیلی سے ان کے پھلوں (پیکان) کو پکڑے رکھے تا کہ مسلمانوں میں سے کسی کو ان سے کچھ گزند نہ پہنچے۔
  11. ان مسجدوں میں پیشاب اور نجاست مناسب نہیں ہیں۔ یہ تو اللہ تعالی کے ذکر اور قرآن پڑھنے كے لئے بنائی گئی ہیں۔
  12. ایک آدمی نے مسجد میں آواز لگائی اور اس نے کہا کہ میرا سرخ اونٹ کون لے گیا ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا: تجھے وہ نہ ملے، کیونکہ مسجدیں انہی کاموں کے لیے ہوتی ہیں جن کے لیے بنائی گئی ہیں۔
  13. اگر تم اس علاقے کے ہوتے، تو میں تمھیں سختی کے ساتھ مارتا؛ تم رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کر رہے ہو!
  14. رسول اللہ ﷺ نے محلوں میں مسجد بنانے اور انھیں صاف رکھنے کا حکم دیا ہے۔
  15. وہ ایسے لوگ تھے کہ اگر ان میں سے کوئی نیک بندہ (یا یہ فرمایا کہ) نیک آدمی مر جاتا، تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے
  16. رسول اللہ ﷺ نے گھڑ سواروں کا ایک دستہ نجد کی طرف روانہ کیا۔ وہ قبیلہ بنو حنیفہ کے سرداروں میں سے ایک شخص ثمامہ بن اثال نامی کو پکڑ کر لائے اور مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھ دیا۔۔
  17. میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم نے رسول اللہﷺ سے یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میری طرف سے جواب دے، اے اللہ! روح القدس کے ذریعے اس کی مدد فرما‘؟ تو انھوں نے کہا: اے اللہ تو (گواہ رہنا) ہاں۔ (میں نے سنا تھا)۔
  18. جو آدمی سنے کہ کوئی شخص مسجد میں کسی گم شدہ چیز کا اعلان کرکر کے ڈھونڈتا پھرتا ہے تو اسے کہے کہ: اللہ کرے یہ چیز تجھے نہ ملے۔ مساجد اس مقصد کے لیے تو نہیں بنائی گئیں۔
  19. رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں خرید وفروخت کررہاہو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے، اور جب ایسے شخص کودیکھوجو مسجد میں گمشدہ چیز (کا اعلان کرتے ہوئے اُسے) تلاش کرتاہو تو کہو : اللہ تمہاری چیزتمہیں نہ لوٹائے
  20. مساجد میں نہ تو حدود قائم کی جائیں اور نہ ہی قصاص لیا جائے۔
  21. غزوۂ خندق کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے، قبیلۂ قریش کے ایک شخص حبان بن عرقہ نامی نے ان پر تیر چلایا تھا اور وہ ان کے بازو کی رگ میں آ کے لگا تھا، تو رسول اکرم ﷺ نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔
  22. ابوبکر چھوڑ دو یہ عید کے دن ہیں ۔اور وہ ایام منیٰ تھے۔
  23. وہ لونڈی میرے پاس آتی اور مجھ سے باتیں کیا کرتی تھی۔ جب بھی وہ میرے پاس آتی تو یہ ضرور کہتی: وَيَوْمَ الْوِشَاحِ مِنْ أَعَاجِيبِ رَبِّنَا --- أَلَا إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي (کمر بند کا دن ہمارے رب کی عجیب نشانیوں میں سے ہے۔ اسی نے مجھے کفر کے ملک سے نجات دی)۔
  24. مسجد ميں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے مٹی میں دبا دینا ہے
  25. قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ لوگ مسجدوں (کو تعمیر کرنے) کے سلسلے میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگ جائیں گے۔
  26. مجھے مسجدوں کو بلند بنانے کا حکم نہیں دیا گیا۔
  27. جو اللہ کے لیے مسجد بنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں اسی جیسا گھر بنائے گا۔
  28. میری اس مسجد میں پڑھی گئی ایک نماز مسجد حرام کے علاوہ دیگر مسجدوں میں پڑھی گئی ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے"۔
  29. جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے قبل دو رکعت ضرور پڑھے"۔
  30. جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو، تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ" (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔) اور جب مسجد سے نکلے تو یہ دعا پڑھے : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ" (اے اللہ! میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔)
  31. نبی ﷺ جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جاتا۔
  32. ”اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو، لیکن انہیں چاہیے کہ وہ خوشبو لگائے بغیر نکلیں۔“
  33. جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو نبی ﷺ پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com