سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم: «اللهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا، لَعَنَ اللهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا۔ ان لوگوں پر اللہ کا شدید غضب نازل ہو، جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“۔
رواه أحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب سے دعا کی ہے کہ وہ آپ کی قبر کو اس بت کی طرح بننے نہ دے، لوگ جس کی عبادت کرتے ہيں۔ مثلا اس کی غلو آمیز تعظیم کرتے ہیں اور اس کی جانب منہ کرکے سجدہ کرتے ہیں۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ نے ان لوگوں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا، جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنا لیا، کیوں کو ان کو مسجد بنانا ان کی عبادت اور ان کے بارے میں غلو آمیز عقیدے کا ذریعہ ہے۔

فوائد
  1. نبیوں اور نیک لوگوں کے بارے میں شرعی حد سے آگے بڑھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے علاوہ ان کی عبادت ہونے لگتی ہے۔ اس لیے شرک کے وسائل سے بچنا ضروری ہے۔
  2. قبروں کی تعظیم اور ان کے پاس عبادت کرنے کے لیے ان کا رخ کرنا جائز نہيں ہے، چاہے قبر میں مدفون شخص اللہ سے جتنا بھی قریب ہو۔
  3. قبروں پر مسجد بنانا حرام ہے۔
  4. قبروں کے پاس نماز پڑھنا حرام ہے، چاہے وہاں مسجد نہ بھی بنائی گئی ہو۔ البتہ ایسے جنازے کی نماز اس سے مستثنی ہے، جس پر نماز نہ پڑھی گئی ہو۔
حوالہ

مسند أحمد (12/ 314) (7358). فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، لعبد الرحمن التميمي (1/ 434). القول المفيد على كتاب التوحيد، لمحمد بن عثيمين (1/ 434). الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص178). الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص194). التمهيد لشرح كتاب التوحيد، لصالح آل الشيخ (ص51). مشكاة المصابيح، للتبريزي (1/ 234).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
شرک

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com