قول الله تعالى : {فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ}. قال ابن عباس في الآية: "الأنداد: هو الشرك، أخفى من دَبِيبِ النمل على صَفَاةٍ سوداء في ظلمة الليل". وهو أن تقول: والله وحياتك يا فلان، وحياتي، وتقول: لولا كُلَيْبَةُ هذا لأتانا اللصوص، ولولا البط في الدار لأتانا اللصوص، وقول الرجل لصاحبه: ما شاء الله وشئت، وقول الرجل: لولا الله وفلان، لا تجعل فيها فلانا؛ هذا كله به شرك".
ارشاد باری تعالیٰ ہے:{فَلاَ تَجْعَلُواْ لِلّهِ أَندَاداً وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ} ”خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو“ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”الأنداد: هو الشرك، أخفى من دَبِيبِ النمل على صَفَاةٍ سوداء في ظلمة الليل“ انداد: یہ ایسا شرک ہے جو کہ سیاہ چٹان پر سیاہ رات میں چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ تو اس طرح کہے: اے فلاں !اللہ اور تیری جان کی قسم، یا میری جان کی قسم۔ یا تو اس طرح کہے: اگر یہ کتا نہ ہوتا تو چور آجاتے، اگر بطخ نہ ہوتی تو چور داخل ہو جاتے۔ اور اسی طرح آدمی کا کسی کے بارے میں یہ کہنا کہ:جو اللہ چاہے اور تو چاہے۔ اور آدمی کا یہ کہنا:اگر اللہ اورفلاں نہ ہوتا۔اس میں فلاں کو شامل نہ کر، کیوں کہ یہ سب اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔
اسے ابنِ ابی حاتم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:{فَلاَ تَجْعَلُواْ لِلّهِ أَندَاداً وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ} ”خبردار باوجود جاننے کے اللہ کے شریک مقرر نہ کرو“۔ لوگوں کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ وہ کسی کو اللہ کے مثل یا نظیر بنائیں اور اس کے لیے کسی قسم کی عبادت بجا لائیں ۔ان کو اس بات کا علم ہے کہ اللہ وحدہ خالق و رازق ہے اور جتنے بھی اس کے شریک ہیں وہ سارے اس کے سامنے فقیر ہیں اوراس کے اختیارات میں سے ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انداد کی تعریف شرکاء سےکی ہے۔ شرک کا شکار ہونے کی مثال یہ بیان کی ہے کہ :یہ سیاہ چٹیل پتھر (چٹان) پر سیاہ رات میں چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے۔ پھراس کی یہ مثالیں پیش کیں کہ: تو غیر اللہ کی قسم اٹھائے،اوراس سے بھی بڑا شرک یہ ہے کہ تو کسی کو اللہ کے مساوی قرار دیتے ہوئے یہ کہے: اللہ کی قسم اور میری جان کی قسم، مسبب کو چھوڑ کر سبب کو ہی دیکھے، معاملے کو اللہ کی طرف نہ لوٹائے اور تو کہے: اگر یہ کتا ہماری رکھوالی نہ کرتا تو چور آجاتے۔ یا یہ کہے کہ: اگر گھر میں بطخ نہ ہوتی جو ہمیں گھر میں کسی اجنبی کے داخل ہونے سے بیدار کرتی تو چور داخل ہوجاتے۔ اسی طرح یہ بھی شرک ہے کہ آدمی کسی کے بارے میں یہ کہے: جو اللہ چاہے اور تو چاہے، اور آدمی کا یہ کہنا کہ: اگر اللہ اور فلاں نہ ہوتے تو اس میں فلاں کو شامل نہ کرو۔ پھر تاکید کے ساتھ یہ بات بتائی کہ یہ ساری کی ساری شرک اصغر کی صورتیں ہیں اور اگر کہنے والے کا یہ عقیدہ ہو کہ آدمی، بطخ اور کتا اللہ کو چھوڑ کر فی ذاتہ موثر ہیں تو یہ شرک اکبر ہے۔
حوالہ
الملخص في شرح كتاب التوحيد، صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، دار العاصمة، الرياض، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2001م.
تفسير القرآن العظيم، عبد الرحمن بن محمد بن إدريس ابن أبي حاتم، تحقيق: أسعد محمد الطيب، نشر: مكتبة نزار مصطفى الباز، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الثالثة، 1419هـ.
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم: «اللهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا، لَعَنَ اللهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا۔ ان لوگوں پر اللہ کا شدید غضب نازل ہو، جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“۔
رواه أحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب سے دعا کی ہے کہ وہ آپ کی قبر کو اس بت کی طرح بننے نہ دے، لوگ جس کی عبادت کرتے ہيں۔ مثلا اس کی غلو آمیز تعظیم کرتے ہیں اور اس کی جانب منہ کرکے سجدہ کرتے ہیں۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ نے ان لوگوں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا، جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنا لیا، کیوں کو ان کو مسجد بنانا ان کی عبادت اور ان کے بارے میں غلو آمیز عقیدے کا ذریعہ ہے۔
فوائد
نبیوں اور نیک لوگوں کے بارے میں شرعی حد سے آگے بڑھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے علاوہ ان کی عبادت ہونے لگتی ہے۔ اس لیے شرک کے وسائل سے بچنا ضروری ہے۔
قبروں کی تعظیم اور ان کے پاس عبادت کرنے کے لیے ان کا رخ کرنا جائز نہيں ہے، چاہے قبر میں مدفون شخص اللہ سے جتنا بھی قریب ہو۔
قبروں پر مسجد بنانا حرام ہے۔
قبروں کے پاس نماز پڑھنا حرام ہے، چاہے وہاں مسجد نہ بھی بنائی گئی ہو۔ البتہ ایسے جنازے کی نماز اس سے مستثنی ہے، جس پر نماز نہ پڑھی گئی ہو۔
حوالہ
مسند أحمد (12/ 314) (7358).
فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، لعبد الرحمن التميمي (1/ 434).
القول المفيد على كتاب التوحيد، لمحمد بن عثيمين (1/ 434).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص178).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص194).
التمهيد لشرح كتاب التوحيد، لصالح آل الشيخ (ص51).
مشكاة المصابيح، للتبريزي (1/ 234).
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے ایک شخص کو "نہيں، کعبہ کی قسم" کہتے ہوئے سنا، تو فرمایا : غیراللہ کی قسم کھائی نہیں جائے گی، کیوں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا ہے : "”جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی، اس نے کفر کیا یا شرک کیا“۔
رواه أبو داود والترمذي وأحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے اللہ، اس کے ناموں اور صفات کو چھوڑ کسی اور کی قسم کھائی اس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا یا شرک کیا۔ کیوں کہ قسم سے اس چیز کی تعظیم لازم آتی ہے، جس کی قسم کھائی جاتی ہے۔ جبکہ ہر قسم کی تعظیم صرف اللہ کے لیے ہے۔ لہذا قسم صرف اللہ، اس کے ناموں اور اس کی صفات کی کھائی جائے گی۔ قسم کھانا چھوٹا شرک ہے۔ لیکن اگر قسم کھانے والے کے دل میں اس چیز کی عظمت جس کی وہ قسم کھا رہا ہے‘ اللہ کی تعظیم کی جیسی یا اس سے بھی زیادہ ہو ، تو اس کا یہ عمل بڑا شرک بن جائے گا۔
فوائد
قسم کے ذریعے تعظیم اللہ سبحانہ و تعالی کا حق ہے، لہذا اللہ اور اس کے اسماء و صفات کے علاوہ کسی اور کی قسم کھانا جائز نہيں ہے۔
صحابہ بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے حریص تھے۔ خاص طور سے جب برائی کا تعلق شرک یا کفر سے ہو۔
حوالہ
سنن الترمذي (3/ 194) (1535).
سنن أبي داود (5/ 154- 155) (3251).
مسند أحمد (9/ 249) (5346)، (9/ 275) (5375)، (10/ 249) (6072).
فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، لعبد الرحمن التميمي (ص413).
القول المفيد على كتاب التوحيد، لابن عثيمين (2/ 214).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص326).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص365).
التمهيد لشرح كتاب التوحيد، لصالح آل الشيخ (ص452).
فتاوى اللجنة الدائمة، (1/ 343).
محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "بلاشبہ مجھے تم پر جس چیز کا خوف سب سے زیادہ ہے، وہ شرک اصغر ہے۔" صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! شرک اصغر کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا : "ریا۔ اللہ عز و جل قیامت کے دن اس طرح کے لوگوں سے کہے گا : ان لوگوں کے پاس جاؤ، جن کو دکھانے کے لیے تم دنیا میں عمل کرتے تھے۔ دیکھو، کیا تم ان کے یہاں بدلہ پاتے ہو؟"
رواه أحمددرجہحسن
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ آپ کو اپنی امت کے بارے میں جس چیز کا خوف سب سے زیادہ ہے، وہ شرک اصغر ہے۔ شرک اصغر سے مراد دراصل ریا ہے۔ یعنی انسان لوگوں کو دکھانے کے لیے کام کرے۔ پھر آپ نے لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرنے والوں کو قیامت کے دن ملنے والی سزا کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان سے کہا جائے گا کہ تم ان لوگوں کے پاس جاؤ، جن کو دکھانے کے لیے عمل کرتے تھے اور دیکھو کہ کیا وہ تم کو ان کاموں کا بدلہ دے سکتے ہیں، جو تم ان کو دکھانے کے لیے کیا کرتھے تھے؟!
فوائد
عمل خالص اللہ کی رضا جوئی کے لیے کرنا ضروری ہے۔ انسان کو ریاکاری سے خبردار رہنا چاہیے۔
اپنی امت کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا شدید خوف، اس کی ہدایت کی حرص اور اس کے تئیں خیرخواہی۔
جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے بھی، جو سارے نیک لوگوں کے سردار تھے، اتنے خوف زدہ تھے، تو بعد کے لوگوں کے بارے میں خوف کا کیا عالم ہو سکتا ہے؟
حوالہ
مسند أحمد (39/ 39) (23630).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص57).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص45).
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسعودٍ رضي الله عنه عن رَسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم قال: «الطِّيَرَةُ شِرْكٌ، الطِّيَرَةُ شِرْكٌ، الطِّيَرَةُ شِرْكٌ، -ثلاثًا-»، وَمَا مِنَّا إِلَّا، وَلَكِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے۔ -آپ نے یہ بات تین بار کہی-" ویسے ہم میں سے ہر شخص کے دل میں اس طرح کی بات آتی ہے، لیکن اللہ عز و جل توکل کے ذریعے اسے ختم کر دیتا ہے۔
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی بھی سنی جانے والی یا دیکھی جانے والی چیز، جیسے پرندے، جانور، معذور انسان، عدد یا دن وغیرہ سے برا شگون لینے سے خبردار کیا ہے۔ لیکن یہاں پرندے کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں اس سے بد شگونی لینا ایک عام بات تھی۔ ہوتا یہ تھا کہ عرب کے لوگ جب کوئی کام، جیسے سفر یا تجارت وغیرہ شروع کرنے کا ارادہ کرتے، تو ایک پرندہ اڑاتے۔ اب اگر پرندہ دائیں اڑتا، تو نیک شگون لیتے اور اس کام میں قدم آگے بڑھاتے۔ لیکن اگر بائیں اڑتا، تو بدشگونی لیتے اور قدم پیچھے کھینچ لیتے۔ آپ نے اسے شرک بتایا ہے۔ شرک اس لیے کہ بھلائی لانے والا اور برائی سے بچانے والا اللہ کے سوا کوئی نہيں ہے۔
آگے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ کبھی کبھی مسلمان کے دل میں تھوڑی بہت بدشگونی آ ہی جاتی ہے۔ ایسے میں اسے اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے اسے دور کرنا چاہیے اور ساتھ ہی اسباب بھی اختیار کرنا چاہیے۔
فوائد
بدشگونی شرک ہے۔ کیوں کہ اس سے دل کا تعلق کسی اور سے قائم ہو جاتا ہے۔
اہم مسائل کو دہرانے کی اہمیت، تاکہ ان کو یاد کر لیا جائے اور وہ دل میں بیٹھ جائيں۔
بدشگونی اللہ پر بھروسے سے ختم ہو جاتی ہے۔
صرف اللہ پر بھروسہ رکھنے اور دل کو اسی سے جوڑے رکھنے کا حکم۔
حوالہ
سنن أبي داود (6/ 54) (3915).
سنن ابن ماجه (4/ 560) (3538).
سنن الترمذي (3/ 258) (1614).
مسند أحمد (6/ 213) (3687).
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص259).
الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص233).
عن عدي بن حاتم رضي الله عنه : "أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ هذه الآية: "اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلاَّ لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لا إِلَهَ إِلاَّ هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ" فقلت له: إنا لسنا نعبدهم، قال: أليس يُحَرِّمُونَ ما أحل الله فتُحَرِّمُونَهُ؟ ويُحِلُّونَ ما حَرَّمَ الله فتُحِلُّونَهُ؟ فقلت: بلى، قال: فتلك عبادتهم".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: ’’اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلاَّ لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لا إِلَهَ إِلاَّ هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ‘‘ (التوبه: 31) ترجمہ:”انہوں نے اپنےعلماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، وہ اللہ جس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں، پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں“۔ (عدی کہتے ہیں) میں نے آپ ﷺ سے کہا: ہم (زمانۂ کفر میں) ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’کیا ایسا نہیں ہوتا تھا کہ اللہ نے جو کچھ حلال قرار دیا اسے وہ حرام ٹھہرا دیتے اور تم اسے حرام سمجھنے لگتے تھے؟ اورجو کچھ اللہ نے حرام قرار دیا اسے وہ حلال ٹھہرا دیتے تھے اور تم اسے حلال سمجھنے لگتے تھے؟‘‘میں نے جواب دیا: ہاں، کیوں نہیں، ایسا ہی ہوتا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہی تو ان کی عبادت کرنا ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
جب اس جلیل القدر صحابی نے رسول اللہ ﷺ کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا جس میں یہودیوں اور عیسایوں کا ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے علماء اور راہبوں کو معبود بنا لیا بایں طور کہ وہ ان کے لیے ایسے قوانین وضع کرتے جو اللہ کی شریعت کے مخالف ہوتے اور وہ اس میں ان کی اطاعت کرتے، تو انہیں اس آیت کے مفہوم کو سمجھنے میں اشکال ہوا کیونکہ ان کے خیال میں عبادت صرف سجدے وغیرہ تک محصور تھی۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ یہ بھی احبار و رہبان کی عبادت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کے برخلاف حلال کو حرام ٹھہرانے اور حرام کو حلال ٹھہرانے میں ان کی اطاعت کی جائے۔
فوائد
اللہ کے احکام کو تبدیل کرنے میں علما اور دیگر لوگوں کی اطاعت کرنا، جب کہ اطاعت کرنے والا یہ جانتا ہو کہ یہ ان کا عمل شریعت مخالف ہے، شرک اکبر ہے۔
کسی چیز کو حلال و حرام قرار دینا صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔
شرک کے انواع میں سے ایک نوع شرک اطاعت کا بیان۔
جاہل کو سکھلانے کی مشروعیت۔
عبادت کا معنی وسیع ہے۔ اس کے اندر وہ سانے ظاہری اور باطنی اقوال و افعال آتے ہيں، جنھیں اللہ پسند کرے اور جن سے وہ راضی ہو۔
علما اور راہبوں کی گمراہی کا بیان۔
یہود و نصاریٰ کے شرک کا اثبات۔
رسولوں کے دین کی بنیاد ایک ہے اور وہ توحید ہے۔
خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت کرنا، دراصل اس کی عبادت کرنا ہے۔
جس چیز کا حکم معلوم نہ ہو، اس کے بارے میں اہل علم سے پوچھنا واجب ہے۔
علم کے سلسلے میں صحابۂ کرام کا حرص و شوق۔
حوالہ
كتاب التوحيد، للإمام محمد بن عبد الوهاب، ت: د. دغش العجمي. مكتبة أهل الأثر, الطبعة الخامسة, 1435ه.
الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي, ت: محمد بن أحمد سيد, مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة، 1424ه.
الملخص في شرح كتاب التوحيد، للشيخ صالح الفوزان, دار العاصمة, الطبعة الأولى، 1422ه.
سلسلة الأحاديث الصحيحة، للألباني, مكتبة المعارف, الطبعة الأولى, 1415ه.
جامع الترمذي, ت: أحمد شاكر, مكتبة ومطبعة مصطفى البابي, الطبعة: الثانية، 1395ه.
عن جابر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن النُّشْرَةِ؟ فقال: هي من عمل الشيطان.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے نُشرَہ ( زمانۂ جاہلیت کا ایک منتر ہے جس سے آسیب زدہ لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے) کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ شیطانی عمل ہے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
رسول اللہ ﷺ سے جادو کے علاج کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جیسے جاہلیت میں علاج کیا جاتاتھا مثلاً جادو کا علاج جادو کے ذریعے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپﷺ نے جواب دیا کہ یہ شیطانی عمل ہے یا اس کے واسطے سے ہے کیوں کہ اس میں بہت ساری جادو کی اقسام اور شیطانی خدمات کا استعمال ہوتا ہے، لہذا یہ شرکیہ اور حرام عمل ہے۔ اور ’’جائز نشرہ‘‘ جادو کا ــــــــــ دم کے ذریعہ، یا اس کا کھوج کرکے توڑنا ہے، اسی طرح اسے ہاتھ کے ذریعہ قرآن کی تلاوت کے ساتھ یا جائز ادویات سے توڑنا ہے۔
فوائد
جس چیز کا حکم معلوم نہ ہو پا رہا ہو، اس کے بارے میں علما سے سوال کرنے کی حکم، تاکہ غلطی میں پڑنے سے بچا جاسکے۔
جاہلیت کے طریقہ پر نُشرہ (زمانۂ جاہلیت کا ایک منتر ہے جس سے آسیب زدہ لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے) کرنے کی ممانعت، کیوں کہ یہ جادو ہے اور جادو کفر ہے۔
تمام شیطانی کام حرام ہیں۔
حوالہ
1- الملخص في شرح كتاب التوحيد، صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، دار العاصمة، الرياض، الطبعة: الأولى، 1422هـ - 2001م.
2- الجديد في شرح كتاب التوحيد، محمد بن عبد العزيز السليمان القرعاوي، تحقيق: محمد بن أحمد سيد، مكتبة السوادي، الطبعة: الخامسة، 1424هـ - 2003م.
3- سنن أبي داود، سليمان بن الأشعث أبوداود، تحقيق: محمد محيي الدين عبد الحميد، المكتبة العصرية، صيدا، بيروت.
4- مسند الإمام أحمد بن حنبل، أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني، تحقيق: شعيب الأرنؤوط و عادل مرشد، وآخرون، تحت إشراف: عبد الله بن عبد المحسن التركي، مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م.
5- سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، محمد ناصر الدين الألباني، مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض.
عن عبد الله بن عمرو بن العاص - رضي الله عنه- مرفوعاً: "مَن ردته الطِّيَرَة عن حاجته فقد أشرك، قالوا: فما كفارة ذلك؟ قال: أن تقول: اللهم لا خير إلا خيرك، ولا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ ولا إله غيرك".
عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص بدشگونی کی وجہ سے اپنا کام چھوڑ دیا اس نے شرک کیا۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ: اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ (اس کا کفارہ یہ ہے کہ) تم یوں کہو: ”اللَّهُمَّ لاَ خَيْرَ إلا خَيْرُكَ وَلاَ طَيْرَ إلا طَيْرُكَ وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ“۔ اے اللہ! تیری طرف سے ملنے والی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں، تیرے شگون کے علاوہ کوئی شگون نہیں اور تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ جس شخص کو بدشگونی نے اس کام سے پھیر دیا جس کا وہ ارادہ رکھتا تھا تو اس نے گویا ایک طرح کا شرک کیا۔ جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس گناہ کبیرہ کے کفارے کے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے ان کی حدیث میں موجود اس مکرم عبارت کی طرف رہنمائی فرمائی جس میں معاملے کو اللہ کے سپرد کرنے اور اس کے علاوہ ہر کسی سے طاقت و قدرت کی نفی کرنے کا معنی پایا جاتا ہے۔
فوائد
بدشگونی کی وجہ سے اپنی حاجت سے رکنے والا شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔
مشرک کی توبہ کا قبول ہونا۔
بدشگونی میں پڑنے والا کون سی دعا پڑھے۔
خیر و شر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہوتے ہیں۔
حوالہ
1- فتح المجيد شرح كتاب التوحيد، مطبعة السنة المحمدية، القاهرة، مصر، الطبعة: السابعة، 1377هـ - 1957م.
2- القول المفيد على كتاب التوحيد، دار ابن الجوزي، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الثانية, محرم، 1424ه.
3- الملخص في شرح كتاب التوحيد، دار العاصمة الرياض، الطبعة: الأولى 1422هـ - 2001م.
4- الجديد في شرح كتاب التوحيد، مكتبة السوادي، جدة، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الخامسة، 1424هـ - 2003م.
5- التمهيد لشرح كتاب التوحيد، دار التوحيد، تاريخ النشر: 1424هـ.
6- مسند الإمام أحمد بن حنبل، المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، الناشر: مؤسسة الرسالة-الطبعة: الأولى، 1421هـ - 2001م.
7- السلسلة الصحيحة، مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، الطبعة: الأولى.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com