سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے۔ -آپ نے یہ بات تین بار کہی-" ویسے ہم میں سے ہر شخص کے دل میں اس طرح کی بات آتی ہے، لیکن اللہ عز و جل توکل کے ذریعے اسے ختم کر دیتا ہے۔

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسعودٍ رضي الله عنه عن رَسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم قال: «الطِّيَرَةُ شِرْكٌ، الطِّيَرَةُ شِرْكٌ، الطِّيَرَةُ شِرْكٌ، -ثلاثًا-»، وَمَا مِنَّا إِلَّا، وَلَكِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے۔ -آپ نے یہ بات تین بار کہی-" ویسے ہم میں سے ہر شخص کے دل میں اس طرح کی بات آتی ہے، لیکن اللہ عز و جل توکل کے ذریعے اسے ختم کر دیتا ہے۔
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی بھی سنی جانے والی یا دیکھی جانے والی چیز، جیسے پرندے، جانور، معذور انسان، عدد یا دن وغیرہ سے برا شگون لینے سے خبردار کیا ہے۔ لیکن یہاں پرندے کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں اس سے بد شگونی لینا ایک عام بات تھی۔ ہوتا یہ تھا کہ عرب کے لوگ جب کوئی کام، جیسے سفر یا تجارت وغیرہ شروع کرنے کا ارادہ کرتے، تو ایک پرندہ اڑاتے۔ اب اگر پرندہ دائیں اڑتا، تو نیک شگون لیتے اور اس کام میں قدم آگے بڑھاتے۔ لیکن اگر بائیں اڑتا، تو بدشگونی لیتے اور قدم پیچھے کھینچ لیتے۔ آپ نے اسے شرک بتایا ہے۔ شرک اس لیے کہ بھلائی لانے والا اور برائی سے بچانے والا اللہ کے سوا کوئی نہيں ہے۔ آگے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ کبھی کبھی مسلمان کے دل میں تھوڑی بہت بدشگونی آ ہی جاتی ہے۔ ایسے میں اسے اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے اسے دور کرنا چاہیے اور ساتھ ہی اسباب بھی اختیار کرنا چاہیے۔

فوائد
  1. بدشگونی شرک ہے۔ کیوں کہ اس سے دل کا تعلق کسی اور سے قائم ہو جاتا ہے۔
  2. اہم مسائل کو دہرانے کی اہمیت، تاکہ ان کو یاد کر لیا جائے اور وہ دل میں بیٹھ جائيں۔
  3. بدشگونی اللہ پر بھروسے سے ختم ہو جاتی ہے۔
  4. صرف اللہ پر بھروسہ رکھنے اور دل کو اسی سے جوڑے رکھنے کا حکم۔
حوالہ

سنن أبي داود (6/ 54) (3915). سنن ابن ماجه (4/ 560) (3538). سنن الترمذي (3/ 258) (1614). مسند أحمد (6/ 213) (3687). الجديد في شرح كتاب التوحيد، لمحمد القرعاوي (ص259). الملخص في شرح كتاب التوحيد، لصالح الفوزان (ص233).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
شرک

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com