سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے اور سب سے برا عمل مسجد میں بلغم نکال پھینکنے اور اسے دفن نہ کرنے کو پایا۔

عن أبي ذر رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم :«عُرِضَتْ عَلَيَّ أعمالُ أُمتي، حَسَنُهَا وسَيِّئُهَا فَوَجَدتُ في مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيقِ، ووَجَدتُ في مَسَاوِئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةُ تَكُونُ في المَسْجِدِ لا تُدْفَنُ».
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے اور سب سے برا عمل مسجد میں بلغم تھوکنے اور اسے دفن نہ کرنے کو پایا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اللہ عز و جل نے امت کے اعمال کو نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ ﷺ نے ان کے اچھے اعمال میں سے ایک اچھا عمل راہ گیروں کو تکلیف دینے والی راستے میں پڑی کسی بھی چیز کو دور کر دینا پایا اور ان کے برے اعمال میں سے ایک عمل یہ پایا کہ انسان مسجد میں تھوک دے اور پھر اسے (مٹی میں) دفن کر کے یا کسی اور طریقے سے زائل نہ کرے۔

حوالہ

- دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي. - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407هـ - 1987م. - شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426هـ. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي. الطبعة الأولى1418هـ. - صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
مساجد کے احکام

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com