ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو نبی ﷺ پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے)، اور جب نکلے تو نبی ﷺ پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنْ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ (اے اللہ! مجھے شیطان مردود سے بچا لے)“، حاکم کی روایت میں ہے: ”جب نکلے تو نبی ﷺ پر سلام بھیجے اور یہ دعا پڑھے: اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ (اے اللہ! مجھے شیطان مردود سے پناہ دے)“۔
رواه ابن ماجه والحاكمدرجہحسن
تشریح
نبی ﷺ نے ایک مسلمان کو یہ رہنمائی فرمائی کہ جب وہ مسجد میں داخل ہونے کا ارادہ کرے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ کہہ کر سلام بھیجے: اللهم صل وسلم على محمد، پھر یہ دعا پڑھے: (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے)۔ اور جب نکلے تو نبی ﷺ پر سلام بھیجے اور یہ کہے: (اللهمَّ اعصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ)، اور حاکم کی ایک روایت میں ہے کہ یوں کہے: (اللهمَّ أَجِرْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ)۔
فوائد
مسجد میں داخل ہوتے وقت اور مسجد سے نکلتے وقت ان دونوں دعاؤں کو پڑھنا مستحب ہے۔
یہ ذکر تمام مساجد کے لیے عام ہے، حتی کہ مسجد حرام کے لیے بھی۔
داخل ہوتے وقت رحمت اور نکلتے وقت شیطان سے حفاظت کا ذکر بطور خاص اس لیے کیا گیا کہ داخل ہونے والا ایسے کاموں میں مشغول ہوتا ہے، جو اسے اللہ اور اس کی جنت سے قریب کرنے والے ہیں، اس لیے رحمت کا ذکر مناسب ہوا، جب کہ نکلنے کے بعد وہ دنیا کے لہو ولعب اور مشاغل میں لگ جاتا ہے، اس لیے مناسب ہوا کہ وہ اللہ سے دعا کرے کہ اسے شیطان سے محفوظ رکھے۔
حوالہ
سنن ابن ماجه (1/ 494) (773).
المستدرك على الصحيحين للحاكم (1/ 325).
شرح أبي داود للعيني (2/ 374).
شرح سنن أبي داود للعباد (66/ 3).
مرشد ذوي الحجا والحاجة إلى سنن ابن ماجه والقول المكتفى على سنن المصطفى (5/ 297).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com