جو شخص ہماری مسجدوں یا ہمارے بازاروں میں سے کہیں سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہوں تو اسے چاہیے کہ انہیں تھامے رکھے یا پھر اپنی ہتھیلی سے ان کے پھلوں (پیکان) کو پکڑے رکھے تا کہ مسلمانوں میں سے کسی کو ان سے کچھ گزند نہ پہنچے۔
عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال: قال رسول اللَّه -صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم-: «من مرَّ في شيء من مساجدنا، أو أسواقنا، ومعه نَبْلٌ فَلْيُمْسِكْ، أو لِيَقْبِضْ على نِصَالِهَا بكفِّه؛ أنْ يصيب أحدا من المسلمين منها بشيء».
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ہماری مسجدوں یا ہمارے بازاروں میں کہیں سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہوں تو اسے چاہیے کہ انہیں پکڑے رکھے یا پھر اپنی ہتھیلی سے ان کے پھلوں(پیکان) کو پکڑے رکھے تا کہ مسلمانوں میں سے کسی کو ان سے کچھ گزند نہ پہنچے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
جو شخص مساجد، بازاروں یا ایسی جگہوں سے گزرے جہاں مسلمان اکٹھے ہوتے ہوں اور اس کے پاس تیر وغیرہ کے ہتھیار ہوں، تو وہ انہیں پکڑے رکھے اور اچھی طرح سے مضبوطی کے ساتھ ان پر گرفت رکھے تاکہ یہ کسی مسلمان کو نہ لگ جائیں۔
حوالہ
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين، لابن علان، نشر دار الكتاب العربي.
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة باحثين، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة: الرابعة عشر، 1407ه 1987م.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، للهلالي، نشر: دار ابن الجوزي.
صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه.
صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415ه.
دليل الفالحين لطرق رياض الصالحين لمحمد علي بن محمد بن علان، ط4، اعتنى بها: خليل مأمون شيحا، دار المعرفة، بيروت، 1425 ه.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com