سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ایک آدمی نے مسجد میں آواز لگائی اور اس نے کہا کہ میرا سرخ اونٹ کون لے گیا ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا: تجھے وہ نہ ملے، کیونکہ مسجدیں انہی کاموں کے لیے ہوتی ہیں جن کے لیے بنائی گئی ہیں۔

عن بُريدة رضي الله عنه : أن رجُلاً نَشَدَ في المسجد فقال: من دَعَا إلى الجَمَل الأحمر؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «لا وجَدْتَ؛ إنما بُنِيَتِ المساجد لما بُنِيَتْ له».
بُریدۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے مسجد میں آواز لگائی اور اس نے کہا کہ میرا سرخ اونٹ کون لے گیا ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تجھے وہ نہ ملے، کیونکہ مسجدیں انہی کاموں کے لیے ہوتی ہیں جن کے لیے بنائی گئی ہیں“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

بُریدۃ رضی اللہ عنہ اس حدیث میں یہ فرما رہے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا میرا سرخ اونٹ کون لے گیا ہے؟ یعنی وہ اپنے گمشدہ سُرخ اونٹ کا اعلان کر رہا تھا کہ جو اسے جانتا ہو وہ اسے اس کے بارے میں بتلائے۔ ”تجھے وہ نہ ملے“ یعنی اللہ کرے کہ تجھے تیرا اونٹ نہ ملے جیسا کہ دوسری روایت میں ہے۔ ”کیونکہ مسجدیں انہی کاموں کے لیے ہوتی ہیں جن کے لیے بنائی گئی ہیں“ پھر آپ ﷺ نے اس شخص کے لیے بدعا کی وجہ بھی بتلائی کہ اللہ تعالیٰ کے گھر دنیا کے امور یعنی گمشدہ چیزوں اور خرید و فروخت کے لیے نہیں بنائے گئے، بلکہ یہ نماز ، اللہ تعالیٰ کے ذکر اور آخرت کی طلب میں بنائے گئے ہیں۔

حوالہ

نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار ، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ بهجة الناظرين، تأليف: سليم بن عيد الهلالي، الناشر: دار ابن الجوزي ، سنة النشر: 1418 هـ- 1997م صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. رياض الصالحين، تأليف : محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
مساجد کے احکام

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com