رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم دیکھو کسی لین دین کرنے والے“ یعنی خرید وفروخت کرنے والے کو ’’في المسجد‘‘ (مسجد میں)۔ یہاں مفعول کو عموم پر دلالت کرنے کے لیے حذف کیا گیا ہے جس میں ہر قسم کی خرید وفروخت شامل ہے۔اگر کسی کو اس حالت میں پایا جائے تو آپ ﷺ نے اس کو ڈانٹ پلانے کی طرف اس طرح رہنمائی فرمائی کہ ان میں سے ہر ایک (بائع ومشتری) کو علانیہ طور پر زبان سے یہ کہا جائے ”لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ“ تاکہ یہ بددعا ہوجائے۔ جس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ تیری تجارت کو فائدہ مند اور نفع آور نہ کرے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف اشارہ ہے: ﴿فَمَا رَبِحَت تِّجَارَتُهُمْ﴾ ”ان کی تجارت نے انہیں کوئی فائدہ نہیں دیا“۔ (سورہ بقرہ: 16) اگر ان دونوں کو اکٹھا کہہ دیا جائے کہ اللہ تمہاری تجارت میں برکت نہ ڈالے تو مقصود حاصل ہو جائے گا۔ اس زجر و توبیخ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسجد آخرت کا بازار ہے اور جس نے اس کے برعکس کام کیا گویاکہ اس نے اس کو دنیا کا بازار بنا دیا اس لیے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اُس کے لیے خسارے اور محرومی کی بددعا کی جائے تاکہ یہ مسجد کا برعکس (خلافِ معتاد) استعمال کرنے والے کے لیے سزا اور ڈراوے کا سامان بن جائے، نیز دوسروں کو اس کام سے متنفر بھی کیا جاسکے، بایں ہمہ وہ مسجد کے تقدس کا خیال کرتے ہوئے ایسا کرنے (مسجد میں خرید وفروخت) کو ناپسند کرنے لگے۔
سنن الترمذي، محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق: بشار عواد معروف، دار الغرب الإسلامي، بيروت. سنن الدارمي، عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي التميمي، تحقيق: حسين سليم أسد الداراني، دار المغني للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى 1412هـ، 2000م. إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، محمد ناصر الدين الألباني، إشراف: زهير الشاويش، المكتب الإسلامي، بيروت، الطبعة: الثانية 1405هـ، 1985م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، اعتنى بإخراجه عبدالسلام بن عبد الله السليمان، الرسالة، بيروت، الطبعة: الأولى 1427هـ، 2006م. توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة 1423هـ، 2003م. منحة العلام في شرح بلوغ المرام، عبد الله صالح الفوزان، دار ابن الجوزي، الطبعة: الأولى 1428هـ، 1432هـ.