سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جو اللہ کے لیے مسجد بنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں اسی جیسا گھر بنائے گا۔

عَنْ ‌مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رضي الله عنه: أَنَّ ‌عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَرَادَ بِنَاءَ الْمَسْجِدِ فَكَرِهَ النَّاسُ ذَلِكَ، وَأَحَبُّوا أَنْ يَدَعَهُ عَلَى هَيْئَتِهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلهِ بَنَى اللهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ».
محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد نبوی کی تعمیر نَو کا ارداہ کیا، تو لوگوں نے اس بات کو ناپسند کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ اس (مسجد) کو اس کی اصل حالت پر رہنے دیا جائے۔ توعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : "جو اللہ کے لیے مسجد بنائے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں اسی جیسا گھر بنائے گا۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بہتر انداز میں مسجد نبوی کی تعمیر نو کا ارادہ کیا، تو لوگوں نے ان کے اس ارادے کو ناپسند کیا۔ کیوں کہ اس سے مسجد نبوی اپنی اس شکل میں قائم نہ رہ پاتی، جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں موجود تھی۔ آپ کے زمانے میں مسجد کچی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی اور اس کی چھت کھجور کی ٹہنیوں کی تھی۔ اب عثمان رضی اللہ عنہ اس کی تعمیر پتھر اور چونے سے کرنا چاہتے تھے۔ لوگوں کی ناپسندیدگی دیکھ کر عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا کہ جس نے ریا و نمود اور شہرت طلبی کی آلائشوں سے پاک ہوکر اللہ کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے ایک مسجد بنائی، اللہ تعالی اسے اسی نوعیت کا بہترین بدلہ عطا کرتے ہوئے اس کے لیے جنت میں اسی جیسا ایک گھر بنائے گا۔

فوائد
  1. مسجد تعمیر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت۔
  2. مسجد کی توسیع اور تجدید بھی تعمیر کرنے کی فضیلت کے دائرے میں آتی ہے۔
  3. تمام اعمال میں اخلاص و للہیت کی اہمیت۔
حوالہ

صحيح البخاري (1/ 97) (450)، صحيح مسلم (4/ 2287) (533)، المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم (2/ 131)، شرح النّووي على مسلم (5/14)، التوضيح لشرح الجامع الصحيح (5/537)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (12/ 171).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
مساجد کے احکام

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com